اگلے 70برس کا معاملہ ہے

اگلے 70برس کا معاملہ ہے
اگلے 70برس کا معاملہ ہے

  

میر ظفراللہ جمالی ایک اعتبار سے بلوچستان سے واحد محب وطن سیاستدان تھے، ان پر غداری کا لیبل کبھی نہیں لگا۔ وہ معروف بلوچ سرداروں اور پشتون قیادت کی طرح ہماری اسٹیبلشمنٹ کے ناقد نہیں رہے،بلکہ جنرل ضیاء الحق کی ہمرکابی کا سفر طے کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ شائد اس کا سبب یہ ہو کہ روجھان جمالی، بلوچستان اور سندھ کے سنگم پر واقع ہے، یہ بلوچستان کا حصہ لگتا ہے نہ سندھ کا۔ ایک زمانے میں راقم اُچ گیس فیلڈ کی ڈاکومینٹری بنانے گیا تو سکھر ایئرپورٹ سے براستہ سڑک بلوچستان داخل ہونے کا موقع ملا تھا، اس دوران راستے میں میر بلخ شیر مزاری کا گاؤں بھی آیا تھا۔ میر صاحب بھی میر ظفراللہ جمالی کی طرح محب وطن بلوچ تھے۔ اس اعتبار سے قوم دو محب وطن بلوچوں سے محروم ہو گئی۔ اب حب الوطنی کی کچھ کچھ جھلک بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کی قیادت میں دکھائی دیتی ہے، لیکن ان میں بلوچ سرداروں ایسا رعب و دبدبہ اور گھن گھرج کم ہی ہے جس سے پہاڑ لرزتے ہوں۔ آجا کر ایک سردار اختر مینگل اور دوسرے محمود خان اچکزئی بچے ہیں اور خیر سے دونوں ہی راندہ درگاہ ہیں، اچکزئی پر تو وزیر اعظم کو اس قدر غصہ ہے کہ باقاعدہ ان کی نقلیں تک اتارتے نظر آتے ہیں، البتہ اختر مینگل کی وہ ابھی بھی قدر کرتے ہوں گے کیونکہ کل کو جب ان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونی ہے تو ایک مرتبہ تو ضرور مینگل صاحب سے رابطہ کیا جائے گا کہ کچھ گئے دنوں کے اچھے تعلقات کا خیال کیجئے۔ 

آج کل تو ہمیں نواز شریف بھی ایک بلوچ سردار ہی دکھائی پڑتے ہیں۔ ان پر غداری اور بھارت نوازی کا لیبل ہی نہیں لگ چکا، بلکہ پلس کنسلٹنٹ کے حالیہ سروے کے مطابق 51فیصد پاکستانیوں کا موقف ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نوازشریف کا بیانیہ دراصل ایک بھارتی موقف ہے۔  نواز شریف تو خیر بلوچ لگتے ہیں، لیکن آصف علی زرداری تو باقاعدہ بلوچ سردار ہیں اور اپنی شادی کے موقع پر انہوں نے بلوچی پگڑی بھی پورے طمطراق سے پہنی تھی، اس زمانے میں ان کی مونچھیں بھی ہوا کرتی تھیں مگر پھر وہ ہائبرڈ بلوچ ہوگئے۔  آج کل نیمے دروں نیمے بروں سیاست پر یقین رکھتے ہیں، پی ڈی ایم کے ساتھ بھی ہیں، پی ڈی ایم سے الگ بھی ہیں، لانگ مارچ بھی کرتے ہیں، استعفے بھی نہیں دیتے، گویا وہ غداری اور حب الوطنی کا حسین امتزاج ہیں، ایک زمانے میں انہوں نے پاکستان کھپے کانعرہ لگا کر خوب شہرت حاصل کی تھی۔ 

جناب آصف زرداری کی طرح ہی شہباز شریف بھی ایک ہائبرڈ بلوچ دکھائی پڑتے ہیں، وہ بھائی کے ساتھ بھی ہیں اور مفاہمت بھی چاہتے ہیں، زرداری کو بھی مفاہمت کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اگر نواز شریف ملک سے باہر بیٹھے رہیں اور پیپلز پارٹی اورنون لیگ پارلیمنٹ میں جزب اقتدار کے بنچوں پر آجائے تو خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو والی صورت حال بن سکتی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ بھی خوش، سیاستدان بھی خوش!...ہاں البتہ اگر جناب زرداری کی جگہ شہباز شریف وزیر اعظم بن گئے تو بیوروکریسی کی شامت ضرور آئی رہے گی!

سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان میں بھی کوئی بلوچی رنگ ڈھنگ ہے؟ انہوں نے جس انداز میں اپوزیشن میں ہوتے اسٹیبلشمنٹ سمیت امریکہ کو للکارا تھا، بلوچ سرداروں سے آگے کی شے دکھائی پڑتے تھے مگر پھر اقتدار میں آنے کے بعد جس طرح ایک پیج پر آگئے اور ٹرمپ سے ایک اور ورلڈ کپ جیت کر آئے، اس کے بعد تو محب وطن بلوچ سرداروں کو شرماتے نظر آتے ہیں۔ آج کل ان کے وارے نیارے اسی طرح ہیں جس طرح کبھی مرحوم میر ظفراللہ جمالی یا مرحوم میر بلخ شیر مزاری کے تھے،لیکن پھرچشم فلک نے دیکھاکہ وہ دونوں صاحبان پھرتے ہیں۔ خوار کوئی پوچھتا نہیں کی عملی تصویر بنے بھی نظر آئے۔ 

13دسمبر کا لاہور کا جلسہ سر پر ہے اور اب خواجہ سعد رفیق لاہوریوں کو ہلہ شیری دے رہے ہیں کہ جاگدے رہنا، لسی پی کے ستے نہ رہنا! ایسا لگتا ہے کہ پہلی بار سیاست کا سرکس پنجاب میں پورے آب و تاب سے لگنے والا ہے، نون لیگ کے ذرائع کے حوالے سے خبر بھی چلادی گئی ہے کہ 13دسمبر کے جلسے میں نون لیگ اسمبلیوں سے استعفوں کا اعلان کر سکتی ہے، تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نون لیگ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ چکی ہے، یہاں سے اس کا بیڑا آر یا پار ہو جائے گا۔ ایسے میں پاکستان پیپلز پارٹی خاموش رہی تو سیاسی مات ہو جائے گی اور اگر استعفے دیتی ہے تو سندھ ہاتھ سے چلا جائے گا۔ نواز شریف نے عمران خان کے ساتھ ساتھ آصف زرداری کوبھی شش و پنج میں ڈال دیا ہے، اس سے قبل ملتان میں مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کے لاغر جسد خاکی میں ڈنڈا چلانے کی بات کرکے جان ڈالی تھی۔ چونکہ بلوچ سردار ڈنڈے کی بجائے بندوق چلانے کی بات کرتے ہیں اس لئے ہم مولانافضل الرحمٰن کو بلوچ نہیں گردان سکتے، وہ اپنی نوعیت کے واحد اور اکیلے سیاستدان ہیں اور لگتا ہے کہ اپنے والد مولانا محمود مفتی کی طرح کوئی بڑا کام کرجائیں گے۔ اس سے قبل وہ ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے جنرل مشرف کی اپوزیشن بھی کر چکے ہیں۔ 

حالات کہہ رہے ہیں کہ 13دسمبر سے آگے کا سفر نون لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کے کندھوں پر آن پڑے گا، جبکہ پیپلز پارٹی اسی طرح گومگو کی کیفیت کا شکار رہے گی جس طرح عمران خان کے دھرنے کے دوران الطاف حسین کی ایم کیو ایم تھی کہ نہ تو عمران خان کے ساتھ تھی اور نہ اس کے خلاف تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہماری اسٹیبلشمنٹ ڈائیلاگ پر راضی ہو جائے گی اور آئین پر اپنی اجارہ داری کم کرنے کو تیار ہوگی یا پھر پاکستان کو اگلے 70برس بھی اسی طرح گزارنے ہوں گے جس طرح گزشتہ 70برس گزرے ہیں!

مزید :

رائے -کالم -