گُمشدہ بچے

گُمشدہ بچے
گُمشدہ بچے

  

کافی دنوں سے خود کو بہت ہی پریشان اور اَن چاہی الجھن میں محسوس کر رہا ہوں۔جب گھر آتا ہو ں تو وہ دوڑتا ہو ا آکر میر ے جسم کے ساتھ لگ جاتا ہے۔ تھو ڑٰ ی دیر کے بعد مجھ سے موبائل فون پر کارٹو ن یا نظمیں سننے کی فرمائش کر دیتا ہے۔اکثر میں کسی نہ کسی اور متبادل چیز کی طرف اس کا دھیان بٹاتا ہوں مگر وہ موبائل نہ ملنے پر پہلے ضدکرتا ہے اور اُس کے بعد رونا اور چیخ و پکار شروع کر دیتا ہے۔میرا بیٹا زین العابدین ابھی تین سال کا ہے اور موبائل کے بارے اُس کا تجسس Curiosity دیکھتے ہو ئے اب میں خود بھی سو چ میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اُس کو Digital Mobile سے دور رکھا جائے۔ بات صرف یہاں تک ہی نہیں، بلکہ جب وہ اپنے ہم عمر کزنز حسن،وارث،فیضان اور ہادی کو دیکھتا ہے،پھر تو اس کی اس خواہش میں اور زیادہ شدت آ جاتی ہے۔اولاد والدین کے لئے  پَروں کی طرح ہو تی ہے، جن کی بدولت زندگی میں وہ پروازکرتے ہیں۔ اگر آپ کے پَروں یعنی تربیت کا رُخ ہی درست نہ ہو تو پھر آپ خود کو زندگی میں کیسے کا میاب و کامران سمجھ سکتے ہیں۔ ایک عام انسان کے بارے میں تحقیق بتاتی ہے کہ وہ ایک دن میں 140 مر تبہ اپنا موبائل فون چیک کرتا ہے کہ کوئی,Message,like Comments یا کسی نے میرے WhatsAppکے Statusکو چیک بھی کیا ہے یا نہیں،بلکہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ جو اس سے بھی زیادہ موبائل کا شوقین ہو تا ہے

وہ ہر چھ یا سات منٹ بعد ضرور اپنے موبائل کو چیک کر تا ہے اور ایک دن میں تقریباً 260 مرتبہ اپنے اس Digital cell کو دیکھتا ہے۔آج کے دورمیں بچوں کے معیارات بھی بالکل بدل چکے ہیں اور اُن کی Physical Activitiesبہت ہی محددو ہو کر رہ گئی ہیں۔بچوں کی کثر ت موبائل فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے  بچپن میں ہی بہت خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔دیہی علاقوں کی نسبت شہری بچوں میں موبائل کا استعمال بہت ہی زیادہ ہے، جس کی وجہ سے بچوں میں بیماریاں مثلاً آنکھوں میں خشکی پیداہو نا، آنکھوں میں جلن،نظر کی کمزوری کے ساتھ ساتھ چشمے لگانے کا رُجحان، دماغی کمزور ی، آنکھوں میں پانی آنا اور دُورکی نظر کا کمزور ہو جانا جیسی بیماریاں شامل ہیں۔ایک تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بچوں کو کھانے پینے اور سو تے وقت موبائل فون سے دُور رکھا جائے ورنہ برقی آلات کی وجہ سے اُن کے ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔آپ اگر گھروں میں غور سے ماؤں کا مشاہدہ کریں تو پتہ چلے گا کہ اگر بیٹا کھانا نہیں کھا رہا تو اُس کو موبائل ہاتھ میں پکڑاکر کھانا کھلا دے گی۔اگر بیٹا یا بیٹی کو ئی بات نہ مان رہا ہو تو یہ کہہ دے گی کہ" جو میں کہہ رہی ہوں وہ کرو، ورنہ موبائل استعمال کے لئے نہیں دوں گی" وغیرہ۔

University of Toronto میں بچوں کے بارے میں ایک تحقیق کی گئی کہ جو بچے روزانہ آدھا گھنٹہ Smart phone استعمال کرتے ہیں وہ اپنے جذبات اور احساسات کے اظہار سے زندگی بھر کے لئے  قاصر رہتے ہیں۔ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ نو یا دس برس کی عمر کے بچے جو سات گھنٹوں سے زیادہ موبائل فو ن کا استعمال کرتے ہیں، اُن کے دماغ کی بیرونی جھلیOuter Membrane جو کہ معلومات کو محفوظ رکھتی ہے وہ کمزور ہو جاتی ہے اور جو بچے ایک یا دو گھنٹے موبائل کا استعمال کرتے ہیں تو اُ ن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بہت زیادہ متاثر ہو تی ہے۔موبائل فون سے جو Electrical Signals نکلتے ہیں یعنی Ionizing Radiation بہت ہی زیادہ خطرناک ہو تی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سکرین کے رنگ RGB(Red,Green,Blue) جو کہ بہت ہی توانائی کے رنگ کہلاتے ہیں وہ ہماری آنکھوں پر خاص طور پر بچوں کی آنکھوں پر بہت زیادہ اثرڈالتے ہیں۔ تقریباًاب تو ہر گھر میں بچے Tablets,Smart Phones اور Laptop پر آپ کو گیمز، کارٹون، فلمیں یاتھوڑی سی بڑی عمر کے طالب علم آپ کو  Porn Sitesتک دیکھتے ہو ئے نظر آئیں گے۔

اگر ہم نے اپنے بچوں کے معاملے میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کیں تو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔ بچوں کا بچپن بہت ہی معصومیت کا وقت ہوتا ہے مگر کہیں موبائل کا یہ استعمال اُن سے ان کی معصومیت چھین نہ لے۔والدین کو چاہیے کہ اپنی والاد کو ضرور روزانہ وقت دیں،اُن کے ساتھ گفتگو کریں اور ہو سکے تو اُن کے ساتھ سیر کرنے کا انتظام کریں۔بچوں پر روزانہ کڑی نظر رکھیں اور ماں باپ خود بھی کوشش کریں کہ بچوں کے سامنے موبائل فون استعمال نہ کریں، اگر ضرورت پڑبھی جائے  تو بہت ہی احتیاط سے کام لیا جائے۔بچوں کے لئے  Physical Activities یعنی کھیل کو د کا مکمل طور پر ماحول بنایا جا ئے اور اُن کو بچپن سے ہی سو شل میڈیا سے ہر ممکن دُور رکھنے کی کوشش کی جائے۔اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی تر بیت فطر ی طرز پر کی جائے اور موبائل کی جگہ اُن کے لئے کو ئی اور اُس سے بہتر متبادل چیز مہیا کی جائے۔ہر بچہ اپنے والدین کے لئے ایک پوری دنیا اور کائنات ہوتا ہے،

مگر موبائل کے معاملے میں اب تک وہ یہ نہیں سمجھ رہے کہ وہ خود ہی اپنی دنیا اور کائنات کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔زین العابدین کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ کیا یہ بھی کبھی کاغذکی کشتیاں بناکر پانی میں بہایا کرے گا یا پھر مٹی اور ریت میں گھر بنانے کا نقشہ بھی اُجاگر کر سکے گا یا پھر گراؤنڈ میں کرکٹ وفٹبال کھیلنے کے لئے ضدکیا کرے گا۔بچے تو طبیعت میں بہت یقین وسکون والے ہو تے ہیں، پریوں اور جنات کی کہانیوں پر بھی فوراً سے ہی یقین کرلیتے ہیں۔ موبائل کی بھول بھلیوں میں ہمارے بچوں کی معصومیت گم ہور ہی ہے اور خدشہ ہے کہ یہی حال رہا تو ایک دن ہمارے بچے  ”گمشدہ“ بچوں کی لسٹ پر آجائیں گے۔۔۔!

مزید :

رائے -کالم -