عقل ِ کل اورتصادم

عقل ِ کل اورتصادم
عقل ِ کل اورتصادم

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان میں ایک مشترک قدر یہ ہے کہ ان کے حامی اپنے اپنے لیڈروں کو عقل کل سمجھتے ہیں اور سیاسی مخالفین کو نہ صرف کرپٹ کہتے ہیں،بلکہ انہیں ملک دشمن اور غدار سمجھتے ہوئے دیوار سے لگا دینا چاہتے ہیں۔ یہ میڈیا کی آزادی کی بجائے فرمانبرداری چاہتے ہیں اور ”نافرمانوں“ کو چھٹی کا دودھ یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نریندر مودی نے بھارت کو اندرونی تصادم در تصادم کی راہ پر ڈال رکھا ہے جس کا منطقی انجام بھارت کی ٹوٹ پھوٹ کے علاوہ کچھ اور ممکن نہیں ہے۔ امریکہ میں تو آج کل انہونی ہو رہی ہے۔ پچھلے سو ڈیڑھ سو سال سے روائت تھی کہ امریکہ میں صدارتی الیکشن ہارنے والا سب سے پہلے خود جیتنے والے کو ٹیلی فون کرکے مبارکباد دیتا تھا، لیکن صدر ٹرمپ 306-232 الیکٹورل ووٹوں سے شکست کھانے کے باوجود ابھی تک ہار ماننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ مختلف ریاستوں کی عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ عدالتی اخراجات کے لئے وسیع پیمانے پر چندہ مہم شروع کئے ہوئے ہیں۔

ان کی کابینہ میں شامل کچھ مشیر انہیں پینٹاگون پر قبضہ اور مارشل لا لگانے کے مشورے بھی دے رہے ہیں۔ امریکہ میں بہر حال نظام بہت مضبوط ہے اور بات تصادم تک نہیں پہنچے گی۔ نومنتخب جو بائیڈن 20جنوری کو امریکی صدر بن جائیں گے اور ڈونلڈ ٹرمپ تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔ پاکستان میں البتہ نظام کمزور ہے اس لئے یہ کسی تصادم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔اگر حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کا وجود تسلیم اور دِل سے احترام نہیں کریں گے تو ماضی کے کئی مواقع کی طرح تصادم کا خطرہ آنے والے وقت میں بھی موجود رہے گا۔ کیا کیا جائے، لیکن اپنے لیڈر کو عقلِ کل سمجھنا ہی تصادم کو جنم دیتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اگر قومی اتحاد سے ہونے والے مذاکرات سنجیدگی سے سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے کے لئے کرتے تو آج ہماری تاریخ مختلف ہوتی، لیکن عقل ِ کل کے زعم میں مبتلا ہونے کی وجہ ملک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوب گیا اور وہ خود بھی اپنی جان سے گئے۔ 

ملک کا موجودہ سیاسی ٹمپریچر دیکھا جائے تو لگتا ہے لاہور میں بھی ملتان کا ایکشن ری پلے ہو گا۔ پہلے پکڑ دھکڑ اور ریاستی ہتھکنڈے آزمائے جائیں گے، لیکن ایک بار پھر ناکام ہو جائیں گے اور جلسہ ہو گا۔ زبردستی کرنے والے کیوں بھول جاتے ہیں کہ لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، قصور اور نارووال سمیت وسطی پنجاب ابھی تک مسلم لیگ (ن)  کا مضبوط قلعہ ہے۔ یہاں اگر زور زبردستی کی گئی تو تصادم ہو گا۔اینٹ کا جواب پتھرسے دینے کی کوشش ہو گی اور جو بات ملتان سے چل کر لاہور پہنچی ہے، وہ آگے چل کر راولپنڈی اور اسلام آباد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ بات کو دارالحکومت تک پہنچنے سے پہلے ختم کرنے میں سب سے زیادہ عافیت خود حکمرانوں کی ہوتی ہے، لیکن اگر عقل ِ کل کا رویہ اپنایا گیا تو پھر معاملات ہر کسی کے کنٹرول سے باہر نکل جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کہہ رہے ہیں کہ جلسہ کے منتظمین کے علاوہ کرسیاں دینے اور ساؤنڈ سسٹم لگانے والوں کے خلاف مقدمات بنیں گے۔

لاہور زندہ دِل لوگوں کا شہر ہے، اسے ریاستی جبر سے نہیں،بلکہ صرف پیار محبت سے جیتا جا سکتا ہے۔ پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعلی عثمان بزدار خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، انہیں بنی گالہ سے احکامات کا انتظار رہتا ہے۔ بنی گالہ مائنڈ سیٹ کا پتہ ان کے ترجمانوں کی زہر اگلتی زبانوں سے چلتا رہتا ہے،جو تقریباً سب کے سب غیر منتخب لوگ ہیں۔ البتہ سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے جنازے تک ان کے بیانات سے محفوظ نہیں۔ ترجمانوں والے پاکستان میں اخلاقی اور سیاسی اقدار کا جنازہ جتنا پچھلے دو سال میں نکلا ہے اتنا اس سے پچھلے 71سال میں کبھی نہیں نکلا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو گلی محلہ کے کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے، لیکن قومی سطح کے لیڈروں کے خلاف دشنام طرازی سے اپنی نوکریاں چلا رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ ترجمان اپنی زبانوں کی وجہ سے وزیر اعظم کے محبوب ہیں کہ یہی معیار ان کے دل کو بھاتا ہے۔ سیاسی انجینئرنگ کی بات کسی اور نے نہیں بلکہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے کی ہے۔ اس کا نتیجہ 22 کروڑ عوام بھگتتے ہیں کیونکہ اگر ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں ہو گی  تو تصادم تو ہو گا۔

سویلین بالادستی کا قیام اور استحکام ہی وہ واحد طریقہ ہے،جو ملک کو محفوظ رکھ سکتا ہے ورنہ تصادم ہوتے رہیں گے۔ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوں گے۔ اس وقت سر دست، لاہور میں تصادم کا خطرہ بہت شدید ہے، کیونکہ حکومت سیاسی عمل کو مضبوط کرنے کی بجائے غیر سیاسی مائنڈ سیٹ کے ساتھ چلائی جا رہی ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن کا آئینی اور سیاسی حق تسلیم کرنا ہوتا ہے تاکہ نظام میں وہ اپنا کردار ادا کرے۔ غیر جمہوری طرز عمل کے ساتھ حکومتیں نہیں چلا کرتیں۔ اگر ملک تیزی سے تصادم کی طرف جا رہا ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہائبرڈ نظام کا تجربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ملک ”ایک صفحہ“ سے نہیں بلکہ آئین کی حقیقی بالا دستی سے چلتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر مئی 1970ء میں پہنچ گئے ہیں جب ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل یحییٰ خان نے کہا تھا کہ ان کا دماغ ہی پاکستان کا آئین ہے۔ ان کے دماغ کی ”زرخیزی“ کا نتیجہ اس انٹرویو کے صرف ڈیڑھ سال کے اندر پوری دنیا نے دیکھ لیا تھا۔

دنیا کے دوسرے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ گئے اور ہم 50 سال پیچھے، لیکن صرف اناللہ پڑھنے سے کام نہیں چلے گا، کیونکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اس ملک سے وابستہ ہے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری پر فرض ہے کہ وہ ایک حقیقی جمہوری معاشرہ کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرے تاکہ ملک سے جہالت، غربت اور بے یقینی کا خاتمہ ہو اور یہاں کبھی تصادم جیسے حالات پیدا نہ ہوں۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان میں جنرل یحییٰ خان جیسے عقل ِ کل والے حکمران آئیں،کیونکہ تصادم کو نہ وہ کنٹرول کرسکے تھے اور نہ ہی کوئی اور کر سکتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -