ایران کے جوہری سائنس دان کا قتل

ایران کے جوہری سائنس دان کا قتل
ایران کے جوہری سائنس دان کا قتل

  

کچھ روز پہلے جب ایران کے دارالحکومت تہران کے مشرق میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ٹاپ کلاس ایرانی جوہری سائنس دان کو قتل کر دیا گیا تھا تو پوری پاکستانی قوم کو بھی اس سانحے پر بہت افسوس ہوا تھا۔ ایرانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ہم اس کا بدلہ لیں گے۔ ہمارے ٹی وی چینلوں پر چلتے ہوئے اس ٹِکّر کو پڑھ کر مجھے اور بھی زیادہ افسوس ہوا تھا۔ محسن فخری زادے سے پہلے ایک بہت سربرآوردہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی بھی اسی طرح کے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ اس وقت بھی ایران نے کہا تھا کہ ہم اس کا بدلہ لیں گے۔ فخری زادے کوئی پہلا جوہری سائنس دان نہیں جو مارا گیا۔ اس سے پہلے دو تین اور معروف جوہری سائنس دانوں کو بھی مار دیا گیا تھا۔ ایران نے اس کشت و قتال کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا تھا اور اس میں کسی کو بھی شک نہیں کہ یہ کام اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی ’موساد‘ کا ہے۔ لیکن ایران کی بھی کوئی نہ کوئی انٹیلی جنس ایجنسی ہو گی۔ اس نے اب تک ان چاروں مقتول VIPs کا انتقام کیوں نہیں لیا؟

ایران کی طرف سے اس تاخیر پر مجھے جھنجھلاہٹ ہوتی رہی ہے۔لیکن اگلے روز ہماری وزارتِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے اس ایرانی سائنس دان کے قتل پر پاکستان کی طرف سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات اس خطے میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے میں ایک کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ یہ خطہ (مشرقِ وسطیٰ) پہلے ہی ڈانواں ڈول اور غیر مستحکم ہے۔ گزشتہ دو عشروں سے امریکہ اور اسرائیل مل کر اس خطے کے نصف درجن ممالک کو جنگ و جدال کی آگ میں جھونک چکے ہیں۔ ظاہر ہے ایران اس کا زود یا بدیر انتقام تو لے گا۔ اگر ایسا ہوا تو نہ صرف ایران اور سعودی عرب بلکہ خود پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دو برس قبل محسن فخری زادے کا نام لے کر کہا تھا کہ یہ شخص ایران کے جوہری پروگرام کا بانی مبانی ہے۔ نیتن یاہو نے ساتھ ہی وہ کلپ بھی وائرل کیا تھا جس میں ایران کی ایک جوہری لیبارٹری میں سنٹری فیوج کی قطاریں دکھائی گئی تھیں جن میں یورینیم کی افزودگی ہو رہی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ خود ایران کے جوہری پروگرام میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اسرائیل سے ملے ہوئے ہیں وگرنہ اس قسم کی ٹاپ سیکرٹ لیبارٹری کے اندر کی تصاویر کس طرح منظر عام پر آ سکتی تھیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایران کو پہلے اپنے گھر کی خبر لینی چاہیے تھی۔ ایرانی حکومت گاہے بگا ہے اس طرح کے کیسوں میں اپنے ایرانی جاسوسوں کو کیفر کردار تک پہنچاتی رہی ہے۔ لیکن اب اس صورتِ حال میں مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ زاہد حفیظ چودھری کی پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا تھاکہ کیا پاکستان اس سلسلے میں ایران کی کوئی مدد کر سکتا ہے تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا تھاکہ ہماری مدد یہی ہے کہ ہم اس اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر بیٹھنا چاہیے اور اس معمے کا کوئی نہ کوئی حل نکالنا چاہیے…… کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ زاہد حفیظ کے اس ’جملے‘ میں سٹیک ہولڈرز سے کون لوگ مراد تھے؟…… کیا سعودی عرب بھی ان میں شامل ہے؟…… دوسرا اوراہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ایران نے اس سلسلے میں پاکستان سے بھی کوئی سلسلہ جنبانی کی ہے۔

گزشتہ جمعہ کے روز ’دی نیویارک ٹائمز‘ میں ایک آرٹیکل شائع ہوا ہے جو قابلِ خواندگی ہے۔ میرا خیال ہے قارئین میں سے کئی دوستوں نے وہ وائرل وڈیو کلپ بھی دیکھی ہوگی جس میں دکھایا گیا ہے کہ فخری زادے کو ایک ’روبوٹ ٹیم“ نے قتل کیا ہے…… سب سے پہلے ایک شاہرہ پر دو خود کارگاڑیاں دوڑتی نظر آتی ہیں۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سرسبز کھیت میں جا کر کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک گاڑی متحرک  ہوتی ہے اور اس میں 10انچ قطر کا ایک گول آلہ کھیت میں گر جاتا ہے۔ دوسری گاڑی بھی اسی طرح Move کرتی ہے اور اس میں سے بھی ایک آلہ سا کھیت میں گرتا نظر آتا ہے…… بعد میں یکایک منظر تبدیل ہوتا ہے۔ ایک بڑی سی بلڈنگ سے ایک ٹیم باہر نکلتی ہے اور لبِ سڑک پارک کی گئی ایک بڑی گاڑی میں بیٹھ جاتی ہے۔ اس گاڑی کے آگے پیچھے 5،5 گاڑیاں اور بھی کھڑی ہوتی ہیں۔ اس طرح یہ 10،11گاڑیوں کا قافلہ اس کھیت کے قریب سے گزرتا ہے جس میں وہ دو زیرِ زمین آلات دفن کئے ہوتے ہیں۔

جونہی وہ درمیانی گاڑی جس میں محسن فخری زادے سوار ہوتے ہیں وہاں سے گزرتی ہے پہلے والا آلہ یکایک زمین سے بلند ہو کر اس پر فوکس کرتا ہے اور دوسرے آلے کو خبردار کرتا ہے جس میں بارود بھرا ہوتا ہے۔ جب یہ گاڑی وہاں سے گزرنے لگتی ہے تو وہ دوسرا آلہ زمین سے ابھر کر باہر نکلتا ہے، اس سے شعلوں کی ایک بوچھاڑ باہر آتی ہے جو فخری زادے کی گاڑی کو نشانہ بناتی ہے اور وہ گاڑی چشم زدن میں شعلوں میں نہاجاتی ہے اور اس طرح یہ قافلہ اس خود کار روبوٹی گھات (Ambush) کا شکار ہو جاتا ہے۔

سمارٹ فون پر یہ تمام مناظر اَپ لوڈ ہیں اور قارئین گوگل کرکے ان کو دیکھ سکتے ہیں۔ غالباً اس سے ظاہر کرنا یہ مقصود ہے کہ اسرائیل نے خود کار روبوٹ ٹیکنالوجی میں اتنی ترقی کر لی ہے کہ وہ جس ساکن یا متحرک چیز کو چاہے، زمین پر نشانہ بنا سکتا اور اسے برباد کر سکتا ہے۔

اسی طرح کی ایک اور وڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی دیکھی جا سکتی ہے جس میں دو سائنس دان ایک کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہیں۔ ان کے سروں پر گولیاں لگی ہیں اور خون بہہ رہا ہے اور ان کے چہرے اور لباس خون سے تر بتر ہو رہے ہیں۔ ان کے حلقوم سے ایسی آوازیں نکل رہی ہیں جیسی عالمِ نزع میں کسی زخمی کے منہ سے نکلتی ہیں۔ چند لوگ باہر فارسی زبان میں بے معنی سی گفتگو کرتے ہیں جن کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن شکلیں دکھائی نہیں دیتیں۔

ان دونوں وڈیوز کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو بتایا اور دکھایا جائے کہ اسرائیل اس ٹیکنالوجی میں اتنا آگے جا چکا ہے کہ اس کو  جیتے جاگتے انسانی جاسوسوں اور قاتلوں کی ضرورت نہیں۔ وہ جس کسی کو بھی چاہے اس ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ٹھکانے لگا سکتا ہے۔

’دی نیویارک ٹائمز‘ اسی آرٹیکل میں لکھتا ہے: ”اسرائیل کے ہارڈ لائن حمائتی بھی ان کلپس (Clips) کا مضحکہ اڑائیں گے کہ کیا اس طرح کی گاڑیاں تیار کی جا سکتی ہیں جو خود پارک ہوں، ان میں سے ایسے آلات نکلیں جو خودکار فائر کرکے کسی راہ چلتی گاڑی پر گولیوں کی برسات کر دیں؟“

ظاہر ہے اسرائیل نے یہ وڈیو بنا کر روبوٹ ٹیکنالوجی میں اپنا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے اور یہ اس لئے ممکن ہو سکا ہے کہ ایرانی جوہری سائنس دان کے کسی قاتل کا سراغ نہیں مل سکا۔ اس سائنس دان کی حفاظت پر جو سکواڈ مامور ہو گا کیا وہ اتنا ہی گاؤدی اور بے وقوف ہو گا کہ اسرائیلیوں کو اس روبوٹ اٹیک کی اجازت دے دے گا۔ اور جہاں تک دوسری وڈیو کلپ میں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے دو ایرانی سائنس دانوں کی عالمِ نزع کی کیفیت کا تعلق ہے تو ”دی نیویارک ٹائمز“ کے اسی مضمون کا آخری پیراگراف یہ بھی ہے: ”ہفتہ کی شب ایک حکومتی ٹیلی ویژن پر انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر فخری زادے کے بیٹے حامد نے کہا ہے کہ وہ اس حادثے کے بعد چند لمحوں کے اندر اندر جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھے تو دیکھا کہ ان کی والدہ جو اپنے شوہر کے ساتھ اس کار میں تھیں، ان کی گود میں ان کے شوہر کا سر دھرا تھا اور وہ دونوں اس حادثے میں مارے گئے تھے…… یہ قتل نہیں تھا بلکہ ایک جنگاہ (وارزون) تھا جس میں قاتلوں اور مقتولوں کے درمیان جنگ ہوئی تھی!“

مسٹر حامد کے اس بیان کے بعد اسرائیل کی یہ خبر کہ اس کی موساد کے قاتلوں نے ان کے والد اور والدہ کو موت کے گھاٹ اتارا اور بچ گئے یا فخری زادے کے قتل میں کسی روبوٹ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا، بالکل جھوٹ ثابت ہوتی ہے…… لیکن جو اسرائیلی اس جھڑپ میں مارے گئے ان کی تصاویر یا ان کے بارے میں کوئی تفصیل بھی ایرانی حکام کی طرف سے میڈیا پر نہیں دی گئی۔ میرا خیال ہے کہ ایران اس حادثے کو اس لئے بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کر رہا کہ اس کو امید ہے کہ بائیڈن اس جوہری معاہدے کو پھر سے بحال کر دے گا جو ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور ایران پر پابندیاں نرم کر دی جاتی ہیں تو ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں ان مشکلات کا شکار نہیں ہوگا جو گزشتہ چار برسوں سے اس کی راہ میں حائل ہیں …… یہ خبریں بھی گردش میں ہیں کہ ایران نے یورینیم کو کرٹیکل حد تک افزودہ کرنا شروع کر دیا ہے اور جوہری توانائی کی انسپکشن کرنے والوں کو اپنے ہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ اس خبر کی توثیق نہیں ہو سکی۔ میرا خیال ہے کہ اگر ایران نے اپنے چوٹی کے سائنس دان کے قاتلوں کی خبر کو صیغہ راز میں رکھا ہے تو یورینیم کی کرٹیکل افزودگی اور IAEA کے انسپکٹروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم بھی نہیں دے گا اور اس وقت تک انتظار کرے گا جب تک جوبائیڈن وائٹ ہاؤس میں آکر ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق کسی واضح پالیسی کا اعلان نہیں کرتا!

مزید :

رائے -کالم -