پاکستان میں کینوں کی مارکیٹ 125ارب روپے سے زائد ہے: چوہدری احمد جواد

  پاکستان میں کینوں کی مارکیٹ 125ارب روپے سے زائد ہے: چوہدری احمد جواد

  

 اسلام آباد(اے پی پی)پاکستان میں کینو کی مارکیٹ 125 ارب روپے سے زیادہ ہے، پنجاب میں کینو کے 250 پراسیسنگ یونٹس قائم ہیں جو 24 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔وفاق ایون ہائے صنعت و تجارت پاکستان (ایف پی سی سی آئی) کی قائمہ کمیٹی  برائے زراعت کے سابق چیئرمین اور پی بی ایف کے نائب صدر چوہدری احمد جواد نے کہا ہے کہ رواں سیزن میں کاشتکاروں کے لئے کینو کا نرخ ایک ہزار فی من مقرر کیا جائے۔ بروقت بارشوں کی وجہ سے کنو کی بہترین پیداوار متوقع ہے اور برآمدات 220 ملین ڈالر سے بڑھ سکتی ہیں۔ کنو کے بڑے درآمد کنندگان میں مشرق وسطی، روس، یوکرین، سری لنکا، افغانستان اور چین شامل ہیں۔ برآمدات کا عمل اپریل 2021 کے پہلے ہفتہ تک جاری رہے گا۔ اتوار کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے احمد جواد نے کہا کہ عالمی سطح پر کنو کی طلب بڑھ رہی ہے کیونکہ کورونا وائرس سے تحفظ کے لئے وٹامن سی ایک اہم جزو سمجھا جاتا ہے اور کنو میں  وٹامن سی بکثرت موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنو کا ایک بڑا پیداواری ملک ہونے کے باوجود پاکستان اس بہترین موقع سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کر سکے گا کیونکہ کنو کی پراسیسنگ اور لاجسٹک میں مشکلات درپیش ہیں۔ احمد جواد نے اس توقع کا اظہار کیا کہ حالیہ سیزن کے دوران کنو کی برآمدات 220 ملین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔

۔ انہوں نے بتایا کہ کنو کے کاشتکار اور پراسیسرز و برآمد کنندگان اپنے مسائل پر آواز بلند کرتے رہتے ہیں جن کے خاتمہ کے لئے وفاقی اور صوبائی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کنو کی مارکیٹ 125 ارب روپے سے زیادہ ہے جبکہ کنو کے پیداواری مرکز پنجاب میں 250 پراسیسنگ یونٹس قائم ہیں اور وہ 24 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنو کی برآمدات میں اضافہ کے لئے ریفریجریٹر ٹرین سروس فراہم کی جائے جس سے نہ صرف برآمد کنندگان مستفید ہوں گیبلکہ ریلویز کی آمدنی بھی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز کوچاہیے کہ کنو  کے مرکز بھلوال اور سرگودھا سے کراچی تک کسان ایکسپریس ٹرین چلائی جائے تاکہ کنو کی بروقت اور با سہولت ترسیل کے ذریعے برآمدات بڑھائی جا سکیں۔ احمد جواد نے کہا کہ بعض اوقات ریفرر کنٹینر کی قلت سے کنو کی بروقت برآمدات متاثر ہوئی ہیں اس لئے وزارت ریلویز خصوصی ریفر ٹرین چلائے۔

مزید :

علاقائی -