تحریک لبیک کا سانحہ بابری مسجد کو 28 سال مکمل ہونے پر مذاکرہ

  تحریک لبیک کا سانحہ بابری مسجد کو 28 سال مکمل ہونے پر مذاکرہ

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) تحریک لبیک یا رسولؐ  کے زیر اہتمام مرکز صراط مستقیم تاج باغ لاہور میں بابری مسجد کے سانحہ کو 28سال مکمل ہونے پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ مذاکرے میں مولانا محمد عرفان علی جلالی، مولانا غلام احمد ترمذی اور مولانا فیصل محمود نقشبندی نے اظہار خیال کیا۔ تحریک لبیک یارسول ؐکے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے کہاکہ بابری مسجد برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی عظمت رفتہ کا بہت بڑا نشان ہے۔ بابری مسجد کے کھنڈرات آج بھی تعمیر نو کے لیے کسی ظہیر الدین محمد بابر کے منتظر ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کی بھارت دوستی کی وجہ سے بابری مسجد دوبارہ تعمیر نہیں کی جا سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے ”اعلانِ اسلام آباد“ کے بعد بابری مسجد کی تعمیر نو کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اس کی تعمیر نو کے لیے آواز بلند کرے۔ اگر کرتارپور رہداری کے عوض بھارت سے بابری مسجد کی از سر نو تعمیر کا مطالبہ کیا جاتا تو کافی حد تک کامیابی حاصل ہو جاتی۔ بھارت کا سیکولر سٹیٹ ہونے کا دعویٰ سراسر جھوٹ اور فراڈ ہے۔ بھارت نے ایک طرف تمام انٹر نیشنل اصولوں کو پامال کرتے ہوئے کشمیر پر قبضہ کر کے اسے تقسیم کر لیا ہے اور طویل عرصے سے کشمیری مسلمانوں کو بد ترین لاک ڈاؤن کا سامنا ہے۔

 دوسری طرف بابری مسجد مندر کو دینے کے بعد دیگر کئی مساجد کی طرف میلی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ کاروائیوں سے مسلمانوں میں ایک نئے پاکستان کی تحریک انگڑائی لے رہی ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -