لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبے کی ترقی ناممکن، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبے کی ترقی ناممکن، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

  

کراچی (این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ لینڈ ریفارمز کے بغیر زرعی شعبے کی ترقی ناممکن ہے۔ستر کی دہائی کے بعد زرعی اصلاحات کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نہیں کی گئی ہے جس نے اس اہم ترین شعبہ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔زراعت کے زوال سے کاشتکاروں کی آمدنی کم اور عوام کے اشیائے خورد و نوش کے اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ منفی پالیسیوں کے سبب جاگیرداروں اورکاشتکاروں کے مابین خلیج مسلسل وسیع ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت پاکستان میں 23 فیصد زرعی رقبہ ایک فیصدمراعات یافتہ افراد کی ملکیت ہے جن کی فلاح و بہبود پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے جبکہ 43 رقبہ ان کاشتکاروں کے پاس ہے جو چند ایکڑ زمین کے مالک ہیں اور انکی کوئی نہیں سنتا۔کاشتکاروں کی ترقی اور انکے تحفظ کا بھی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے اور انھیں موسم، مافیا اور سود خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ ریسرچ اینڈ دویلپمنٹ کے نام پر مزاق ہو رہا ہے۔ملک میں صرف گندم اور گنے کی امدادی قیمت کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ دیگر فصلوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے با اثرشوگر لابی نے 2004-05 سے اب تک گنے کے زیر کاشت رقبہ میں چودہ فیصد اضافہ کروا لیا ہے جبکہ ملک کی اہم ترین فصل کپاس کا زیر کاشت رقبے میں 26 فیصد کمی آ چکی ہے۔ 

۔جس نے ٹیکسٹائل سیکٹر اور اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے روزگار کو داو پر لگا دیا ہے۔زرعی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے پچیس لاکھ ٹن گندم، پانچ لاکھ ٹن چینی اور پچاس لاکھ گانٹھوں سے زیادہ کپاس برامد کی جائے گی جس سے ملکی معیشت پر اربوں ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گااور ادائیگیوں کا توازن بگڑ جائے گا۔ دیہی علاقوں میں ایک طرف تو زراعت تباہی کا شکار ہے تو دوسری طرف مہنگائی شہروں سے زیادہ ہے جس سے غربت اور شہروں کی جانب نقل مکانی کا رجحان بڑھ رہا ہے جس سے شہروں کا کمزور انفراسٹرکچر متاثر ہو گا۔ 

مزید :

صفحہ آخر -