ذیا بیطس، پاؤں، ٹانگیں کٹنے سے بچانے کیلئے 3ہزار فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت: طبی ماہرین 

ذیا بیطس، پاؤں، ٹانگیں کٹنے سے بچانے کیلئے 3ہزار فٹ کلینکس قائم کرنے کی ...

  

   کراچی(آئی این پی) پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پاؤں کے زخموں کی وجہ سے4 لاکھ افراد اپنی ٹانگوں یا پاؤں کے کچھ حصوں سے محروم ہوجاتے ہیں جبکہ بروقت آگاہی اور علاج کی معیاری سہولیات سے لاکھوں افراد کے پاؤں اور ٹانگیں کٹنے سے بچائی جاسکتی ہیں 3 ہزار فٹ کلینکس قائم کرکے ہزاروں افراد کی ٹانگیں کٹنے سے بچاکر لاکھوں لوگوں کو غربت کی لکیر سے نیچے جانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض ذیابیطس نے پاکستان کی آٹھویں فٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیاماہر امراض ذیابطیس پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے نتیجے میں پاؤں میں ہونے والے زخموں کے بعد پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کے نتیجے میں 4 لاکھ افراد میں سے30 فیصد افراد ایک سال کے اندر انتقال کرجاتے ہیں جبکہ70 فیصد افراد 5 سال کے اندر دم توڑ دیتے ہیں  پورے ملک میں 3000 خصوصی فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو معذور ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ہمارے ادارے نے نہ صرف ڈاکٹروں نرسوں اور ٹیکنیشنز کو تربیت دی بلکہ پاں کے زخموں سے بچانے کے لیے خصوصی جوتے تیار کرنے کے ادارے بھی قائم کیے ہیں جہاں  چند سو روپے کے عوض ایسے جوتے اور سول تیار ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں پاؤں کی بہتر حفاظت ہوتی ہے پورے ملک میں 150 خصوصی فٹ کلینکس قائم کیے ہیں جہاں آنے والے مریضوں میں ٹانگیں کٹنے کی شرح میں 50 فیصد کمی آ ئی ہے  ڈاکٹر زاہد میاں نے کہا کہ ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پاؤں کے زخموں سے بچا ؤ کیلئے عالمی کانفرنس کے نتیجے میں نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ شوگر کے مرض میں مبتلا لاکھوں افراد کو فائدہ ہوگا  ڈاکٹر سیف الحق نے کہا کہ کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے   ڈاکٹر ذوالفقار جی عباس نے کہا کہ شوگر کی وجہ سے کئی ہزار لوگوں کے پاؤں کی ہڈیوں میں فریکچر اور جوڑوں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے  اگر اس مرض کو ابتدائی مرحلے میں تشخیص کرلیا جائے تو لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے  کانفرنس سے انٹرنیشنل ورکنگ گروپ اون ڈائبیٹک فٹ کے چیئرمین پروفیسر نکولس شاپر، پروفیسر زمان شیخ، ڈاکٹر عصمت نواز، ڈاکٹر ریاض، ڈاکٹر عاصم بن ظفر اور پروفیسر کریم قمر الدین نے بھی خطاب کیا۔

طبی ماہرین 

مزید :

صفحہ آخر -