8دسمبر، آر یا پار: مریم نواز، پی ڈی ایم کی قیادت کل اسمبلیوں سے استعفوں، لانگ مارچ اور دھرنے کے بارے میں فیصلہ کریگی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی اسمبلیاں چھوڑنے کی حامی، پیپلز پارٹی نے وقت مانگ لیا 

        8دسمبر، آر یا پار: مریم نواز، پی ڈی ایم کی قیادت کل اسمبلیوں سے ...

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز کاکہا ہے کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) بڑے فیصلے کرنے جارہی ہے، 8 دسمبر کے اجلاس کے بعد آر ہوگا یا پار ہوگا۔لاہور میں مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر  استعفوں کا آپشن استعمال کیا تو ساتھ دینا ہوگا، کسی کے دباؤ میں نہیں آنا جو دباؤ میں آکر پارٹی کے خلاف گیا، عوام اس کے گھروں کا گھیراؤ کریں گے۔مریم نوازکاکہنا تھا کہ پاکستان کے عوام یہ جنگ جیت چکے ہیں، لاہور میں 13 دسمبر کے جلسے میں فتح کا اعلان ہونا باقی ہے، ممبران اسمبلی تیار رہیں، لاہور جلسے کی تیاری کے لیے جتنی ایف آئی آر کٹیں انہیں گلے میں ہار بناکر پہن لیں، پتا چلے یہ حکومت کتنی ڈری ہوئی ہے۔لیگی نائب صدر نے وزیر اعظم عمران خان کو تابعدار خان کا خطاب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کانام آج سے تابعدارخان رکھ دینا چاہیے، آج کل چور، ڈاکو کو ایماندار اور تابعدار کہاجاتا ہے، یہ بندہ ایماندار بھی ہے اور تابعدار بھی ہے، کسی نے ملک کی لاکھ خدمت کی ہو لیکن تابعدار نہ ہو تو وہ فارغ ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان دعویٰ کرتے تھے کہ پوری دنیا میں سبزپاسپورٹ کی عزت ہوگی لیکن ہماری تو بیرون ملک پروازیں ہی بند ہوگئیں، کوئی ہے جو وزیراعظم سے ان کے دعوؤں کے متعلق پوچھے۔نائب صدر ن لیگ کاکہنا تھا کہ ایل این جی کی تاخیر سے درآمد پر وزیراعظم کا کچن چلانے والے دوستوں کو فائدہ پہنچایاگیا، ایل این جی اس لیے دیر سے منگوائی کیوں کہ ان کے دوستوں کے فرنس آئل پلانٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب روٹی 30 روپے کی ہوگی تو ایک گھرکیسے گزارہ کرے گا؟ گیس آ نہیں رہی لیکن بل بڑے بڑے آرہے ہیں، آج ادویات کئی گنا مہنگی ہو گئیں لیکن کسی کو کوئی تکلیف نہیں کیونکہ بندہ تابعدار ہے، یہ حکومت گھرجائیگی تو ملک چلے گا، منہگائی ختم ہوگی۔۔ آج خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن نہ ملنے سے 7 مریض چل بسے۔ لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے 100 بچے مر گئے۔ شہباز شریف حکومت کی گرانٹ کو اس حکومت نے ختم کر دیا۔ اب چلڈرن ہسپتال کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ اور نا اہل حکمرانوں کی حکومت ہچکولے کھاتے  اور آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آرہی ہے،کچھ قوتوں کی خواہش ہے کہ قوم کے اگلے 73سال بھی ایسے گزریں جیسے پہلے گزر گئے ہیں، منظم پراپیگنڈے کے تحت سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ، سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا کام کیا جارہاہے،ووٹ کو عزت دو کی مشعل تھامے قوم کو راہ پر لیکر چل نکلا ہوں، فتح حق اور سچ کی ہوگی،22 کروڑ عوام سرخرو ہونگے، آپ میری گفتگو کو صرف تقریر کے طور پر نہیں،اسے سوچ اور فکر کے طو رپر لیں ، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک میں حقیقی جمہوریت اور آئین و قانون کی حکمرانی کا سورج طلوع نہیں ہو جاتا۔نواز شریف نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا ورکرز نے میرا،مسلم لیگ (ن) اور مریم نواز کا مان رکھا،آپ ہماری تحریک میں فرنٹ لائن پر ہیں،جی چاہتا ہے کہ میں آپ کو گلے کے ساتھ لگاؤں، آپ کا جوش و خروش اورولولہ پاکستان کے روشن مستقبل کی نوید سنا رہا ہے اور آج میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا کسی دوسری جماعت سے کوئی مقابلہ نہیں اور ہماری ٹیم کا کوئی ثانی نہیں ہے،  وہ دن گئے جب سوشل میڈیا کسی اور جماعت کا قلعہ تھا، مریم نواز اس پر مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے انتھک محنت سے اس کی داغ بیل ڈالی اور آپ نوجوانوں کو ملکی سیاست میں متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔منزلیں بیشک اونچیں کیوں نہ ہوں لیکن راستے ہمیں قدموں کے نیچے ہوا کرتے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے آپ کے ووٹ کو عزت دو کے نعرے سے خوفزدہ ہو کر کنٹرول میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ ملک کو کمزور اور دشمنوں کو مضبوط کر رہا ہے، انہی غیر آئینی طاقتوں نے پاکستان میں آزادی اظہار کا گلہ گھونٹ رکھا ہے،غریب کا گلہ گھونٹ رکھا ہے،لوگوں کے روزگار کا گلہ گھونٹ رکھا ہے،لوگوں کومہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے، آج جو پچاس ہزار روپے بھی تنخواہ لے رہا ہے وہ کیا کھا رہا ہے، کیا بچوں کو پڑھا رہا ہے، کہاں سے بجلی اور گیس کا بل دے رہا ہے،کہاں سے اور کیسے گھر کا کرایہ دے رہا ہے، یہ سوچنے والی باتیں اور دل دہلا دینے والی باتیں ہیں۔ ان کو فکر پڑی ہوئی ہے کہ نواز شریف کا راستہ روکیں، الیکٹرانک میڈیا پر میری تقریر نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ منظم پراپیگنڈے کے تحت سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ، سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے کا کام کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عوام کو بیو قوف بنا سکتے ہیں، لیکن حق او رسچ کی جنگ ہے، آج ہماری سوشل میڈیا صف کی فورس ہے اور صف اول کا کردار اد اکر رہی ہے،آپ کے کندھوں پر پہلے سے زیادہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ سلیکٹڈ اور نا اہل حکمرانوں کی حکومت ہچکولے کھا رہی ہے اور آخری سانسیں لیتی ہوئی نظر آرہی ہے،مجھے یقین ہے کہ آپ میرے سنگ سنگ جذبے اور ولولے کے ساتھ انشا اللہ گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دو گے۔ یاد رکھیے یہ قوتیں آپ کو ہر طرح سے خوفزدہ کریں گی،آپ حق اور سچ کے راستے پر ہیں، آپ نے اسی طاقت سے اس زنجیر کو توڑ کر پھینکنا ہے، یہ آپ کو مزید ڈرائیں گے آپ کو خوف بھی دلائیں گے لیکن آپ نے بے خوف ہو کر ہر آندھی کااور طوفان کا مقابلہ کرنا ہے،ان کو تاریخی شکست دینی ہے اور ملت کی کشتی کو پار لگانا ہے۔آپ پاکستان کا با شعور طبقہ ہیں پڑھے لوگ ہیں،آپ دل پر ہاتھ رکھیں اور فیصلہ کریں آج ہم جس پاکستان میں رہ رہے ہیں کیا یہ قائد اعظم کا پاکستان۔ یہاں منتخب وزیر اعظم کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی، شب خون مار کر مارشل لاء لگا دیا گیا، جس کی لاٹھی اس کا قانون نافذ کردیا گیا،بار بار آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں،۔ ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں پر جمہوریت،روشنی اور خوشحالی ہو جہاں ترقی انصاف ہو جہاں آئین کی بالا دستی ہو۔انہوں نے کہا کہ آپ کو مایوس نہیں ہونا بلکہ حقائق کا مطالعہ کرنا ہے،ان کا تجزیہ کرنا ہے اور ہمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنا ہے کیونکہ آپ نے اس ملک میں جمہوریت لانے کا علم اٹھایا ہے،بغیر محنت اوربغیر کوشش اور قربانی کے یہ ممکن نہیں ہے،آپ جتنی زیادہ محنت کریں گے پاکستان مضبوط اور غالب قوم کے طور پر ابھرے گا۔میرے ساتھ مل کر عہد کریں تمام تر ظلم او رجبر کے باوجود ہاتھ سے ہاتھ ملا کر آگے بڑھتے رہیں گے۔ 

مریم نواز

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس (کل)8 دسمبر کو اسلام آباد میں ہوگا جس میں آئندہ عوامی جلسے کے لاہور میں انعقاد کے انتظامات کا جائزہ لینے اور اپنی حکومت مخالف مہم کے اگلے مرحلے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل  دی گئی پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) استعفے پیش کرنے کے بعد اسلام آباد میں غیرمعینہ مدت تک کیلئے دھرنا دینے کے حق میں ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ابھی تک اس تجویز پر اپنی رضامندی کا اظہار نہیں کیا اور حتمی فیصلہ کرنے سے قبل مشاورت کیلئے کچھ وقت طلب کیا تھا۔ نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے بتایا کہ ہاں، ہم غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپنے استعفوں کے ساتھ ساتھ مجوزہ لانگ مارچ کا آغاز کرنا اور دھرنے کے وقت انہیں پیش کرنا چاہتی ہے،ہمیں استعفوں کے ساتھ لانگ مارچ میں جانا چاہیے، تب اتنے بڑے پیمانے پر ضمنی انتخابات نہیں ہوں گے عام انتخابات کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔انہوں نے اْمید کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی کی 100 سے زیادہ نشستوں پر ضمنی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہوگا اور کہا کہ آپ کے پاس متنازع ضمنی انتخابات کرانے یا غیر متنازع عام انتخابات کرانے کا آپشن ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کو غیر معینہ مدت کے دھرنے میں تبدیل کرنے کے خیال کی حامی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ پی ڈی ایم پلیٹ فارم پر قائدین کی سطح پر مکمل مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔احسن اقبال کے مطابق8 دسمبر کے اجلاس میں ہم 13 دسمبر کے بعد کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے اور لانگ مارچ کی تاریخ کو بھی حتمی شکل دے سکتے ہیں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ پیپلز پارٹی غیر معینہ مدت کے دھرنے اور بڑے پیمانے پر مستعفی ہونے کی تجویز پر بھی راضی ہوسکتی ہے تاہم ان کا خیال ہے کہ دیگر تمام جمہوری اختیارات کو استعمال کرنے کے بعد ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی ایم کے سربراہان اپنی ملاقات میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے مطالبات پر مشتمل چارٹر آف پاکستان کے مسودے کو بھی منظور کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم قائدین عوامی سطح پر چارٹر پر دستخط چاہتے ہیں اور وہ شاید یہ لاہور کے جلسہ عام میں کریں۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئین اور قانون کی حفاظت میں ناکام اسمبلیوں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، تیرہ دسمبر کا جلسہ آئینی بالا دستی کا فیصلہ کرے گا۔اہور میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف وزرات عظمیٰ کی نہیں بلکہ آئین کی سربلندی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی صاحبزادی بھی آپ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ آئین کی بحالی اور قانون کی بالا دستی کا 13 دسمبر کو لاہور میں فیصلہ ہوگا۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جو اسمبلیاں پاکستان کے آئین، قانون اور عوام کی حفاظت نہ کر سکیں، ان اسمبلیوں میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں، عوام 13 دسمبر کو 1940ء کی یاد تازہ کریں گے شاہد خاقان عباسی نے پی ڈی ایم جلسے کے حوالے سے پنجاب حکومت کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران سرکاری ملازم ہیں ذاتی ملازم نہیں، تمام لوگ نوکری کریں، جھوٹے مقدمے نہ بنائیں۔انہوں نے کہاکہ 13 دسمبر کو لاہور کا جلسہ تاریخی ہو گا، افسران اگر سیاست میں ملوث ہوں گے تو کل انہیں جواب دینا ہوگا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ پہلے نیب استعمال ہوا اب اینٹی کرپشن میدان میں ہے۔انہوں نے کہا کہ ورکرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے،گرفتاری کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں جب کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کا اتفاق ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلے۔

پی ڈی ایم

مزید :

صفحہ اول -