استعفوں کا معاملہ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف رائے برقرار

  استعفوں کا معاملہ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اختلاف رائے ...

  

 لاہور(شہزاد ملک) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) میں شامل بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے تیرہ دسمبر کے ممکنہ احتجاجی جلسہ میں مستعفی ہونے کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد ان دونوں بڑی جماعتوں میں تقسیم کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں پیپلز پارٹی کا یہ موقف ہے کہ فوری طور پر مستعفی ہونے کی بجائے ابھی اسی طرح سے احتجاجی تحریک کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے،دوسری جانب ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ایسے ارکان اسمبلی سے متعلق معلومات اکھٹی کرنا شروع کردی ہے کہ جن کے بارے میں ان کو زرا سا بھی شک ہے کہ وہ قیادت کے فیصلے پر فوری عمل نہیں کریں گے اور اپنی اپنی نشستوں پر استعفی نہیں دیں گے،ذرائع کا کہنا ہے کہ تیرہ دسمبر کو پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کو حتمی راؤنڈ میں داخل کرنے اورا س کو ایک نتیجہ خیز تحریک بنانے کے لئے مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ نے پیپلز پارٹی کو تجویز دی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کااعلان کردیں،ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف کی اس تجویز پر غور کرنے کی آصف علی زرداری نے بات کی ہے لیکن فوری طور پر مستعفی ہونے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی مستعفی ہونے کا وقت نہیں آیا،ذرائع کے مطابق اب (ن) لیگ نے مستعفی ہونے کا فیصلہ تو کر لیا ہے مگر انہیں اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ کچھ ارکان اسمبلی جو کہ در پڑدہ حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ان کے کاروبار بھی ہیں اور ایسے لوگ اپنے اپنے کاروبار کو بچانے کے لئے حکومت کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوا جائے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے (ن) لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ پہلے ایسے لوگوں پر کڑی نظر رکھی جائے جو کہ حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور ان کو بھی مستعفی ہونے کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے اور جب قیادت مستعفی ہونے کااعلان کرے تواس پر سب فوری طور پر عمل کریں اور کوئی ایک بھی رکن ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جو استعفی نہ دے۔     

اختلاف رائ

مزید :

صفحہ اول -