تحریک حقوق چترال کا مسائل کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ کا انعقاد

تحریک حقوق چترال کا مسائل کے حل کیلئے احتجاجی کیمپ کا انعقاد

  

پشاور (سٹی رپورٹر)تحریک تحفظ حقوق چترال پاکستان نے اپنے مطالبات کیلئے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا لیا ہے کیمپ کی قیادت تحریک کے چیئرمین  پیر مختار اور دیگر عہدیداران کر رہے ہیں جبکہ مظاہرین نے مطالبات کے حق میں پلے کاردز اور بینرز بھی لگا رکھے اور مطالبہ کر رہے کہ مطالبات حل کرنے کیلئے فلفور اقدامات اٹھائے جائے بصورت دیگر غیر معینہ مدت کیلئے احتجاج جاری رہے گا احتجاجی کیمپ پر چترال سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی  مولانا عبدال اکبر چترالی نے بھی کیمپ کا دورہ کیا مولانا عبدال اکبر چترالی نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چترال کے مسائل کے حل کیلئے ہر ممکن کوشش کرینگے اور قومی اسمبلی میں ان مسائل کو حل کرنے کیلئے اوزا ٹھائنگے  انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ حقوق چترال کی جانب سے چترال کے  مسائل حل کرنے کی جدو جہد قابل تعریف ہے اور یقین دہانی کرائی کے اس سلسلے میں ہر ممکن کوشش کی جائے گی احتجاجی کیمپ میں شریک ددیگر شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ الحاق پاکستان کے بعد کسی حکومت اور انتظامیہ نے چترال کے مسائل حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے چترال کے دونوں اضلاع ترقی کے دور مین پروسی اضلاع سے بہت پیچھے رہہ گئے جبکہ چترال میں صحت کی سہولیات،روڈ انفراسٹرکچر  اور دیگر مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی انہوں نے کہا کہ چترال کے مختلف علاقوں میں پلوں کی بحالی نہیں ہوئی جسکی وجہ سے شدید سردیوں میں ضروریات زندگی کی قلت ہو جاتی ہے احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے مطالبہ کیا ہے کہ استارہ پل جو اٹھ ماہ قبل ٹوٹ گیا تھا اج تک نہیں بنا  حکومت فوری سٹیل پل نصب کریں جبکہ دیگر زیر تعمیر پل جنمیں مژگول،ایون،بروز،گرین لشٹ ادیر،یار خون اور میرا گرم کے علاقوں کے پلوں کو پر تعمیراتی کام جلدد از جلد مکمل کیا جائے جبکہ چترال ڈی ایچ کیو ہسپتال کو اے گریڈ کر کے فوری تمام سہولیات دی جائے جبکہ چترال کے ہسپتالوں کو ڈائلا سس کے سہولت فراہم کی جائے،بونی ہسپتال کو کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈی ایچ کیو میں تبدیل کرنے سمیت چترال میں بند با ایچ یو کو بحال کیا جائے اور چترال کا سلگتا مسلہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے قانون سازی کی جائے کیونکہ ڈاون ڈسٹرکٹ اور پنجاب سمیت ملک بھر سے لوگ شادی کے نام پر چترال کے سادہ لوح عوام کو ورغلا کر لڑکیاں بیاہ لے جاتے ہیں اور بعد میں قتل اور ددیگر تشدد کا نشانہ بنتی ہے جبکہ چترال یونیورسٹی کیلئے خریدی گئی زمین پر تعمیراتی کام کا اغاز کیا جائے اور چترال کے جنگلات کو بچانے کیلئے علاقہ مین گیس کی فراہمی ممکن بنائی جائے بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -