یورپ اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ ڈِیل ایک بار پھر تعطل کا شکار

یورپ اور برطانیہ کے درمیان بریگزٹ ڈِیل ایک بار پھر تعطل کا شکار

  

برسلز(عمران ثاقب) بریگزٹ کا آخری فیصلہ کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے اور مذاکرات کبھی جاری ہو جاتے ہیں کبھی بند لیکن یورپ بریگزٹ کمیٹی اور برطانوی بریگزٹ کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ آج برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے عندیہ ظاہر کیا کہ وہ یورپین کمیشن کی صدر جرمن نژاد ڈاکٹر اْرسلا فان در لیئن سے ایمر جنسی بات کرنا چاہتا ہے تاکہ کوئی نتیجہ خیز اقدامات کیے جا سکیں۔ ایک گھنٹہ سے زائد مسلسل گفتگو رہی لیکن پھر بھی کِسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جا سکا۔تین بنیادی نکات ہیں جن پر مسئلہ ابھی تک اٹکا ہوا ہے۔بریگزٹ کے بعد تجارتی معاملات، گورننس اور فش ریزکے مجوزہ قوانین۔ ان تینوں مسائل کا براہِ راست برطانیہ اور یورپ کے معاشی اور معاشرتی مستقبل کے ساتھ منسلک ہے جبکہ آئرلینڈ کے بارڈر کا مسئلہ تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جس پر فریقین کسی بھی صورت میں نہیں مان رہے۔ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کی صورت میں بغیر کسی ڈیل یا معاہدے کے بریگزٹ وقوع پذیر ہو جائے گا کیونکہ یورپی یونین مزید مہلت دینے کے لئے کسی صورت تیار نہیں ہو رہی۔ ایسی کسی صورت میں برطانیہ اور یورپ کے تعلقات میں شدید اختلافات پیدا ہو جانے کا امکان ہے جس سے خاص طور پر بر اعظم یورپ اور عمومی طور پر ساؤتھ ایشیا اور مڈل ایسٹ کے ساتھ تعلقات متاثر ہونگے۔اس ڈیل پر جلد ہی مزید گفتگو ہونے کا امکان ہے جبکہ 31 جنوری 2021 بریگزٹ کی آخری تاریخ ہے۔

ڈیل تعطل 

مزید :

صفحہ اول -