کے ٹی ایچ واقعہ میں کوتاہی برتنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائیگی: تیمور جھگڑا

      کے ٹی ایچ واقعہ میں کوتاہی برتنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی ...

  

 پشاور (سٹا ف رپورٹر) خیبر پختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا اور معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعہ پر گہرے رنج اور صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی ہدایت پر واقعے کی انکوائری کا حکم دیدیا گیا ہے48 گھنٹے میں رپورٹ آجائے گی اور جو بھی اس غفلت کا ذمہ دار ہوا اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی کی جائے گی۔ وہ خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ پریس کانفرنس کا مقصد کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کا ہفتہ منانے سے متعلق میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں چھ افراد کی فوتگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق تمام حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی ہدایات پر ایک بی او جیز کی تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اگلے 48 گھنٹے میں رپورٹ مکمل کرے گی اور عوام کے سامنے حقائق رکھیں گے اور قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی اور اس میں کسی قسم کی بھی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر مزید کہا کہ بی او جیز کی تحقیقاتی کمیٹی غیر تسلی بخش  ہونے کی صورت میں ایک اور اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔اس موقع پر کرونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزراء نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ چند ہفتوں میں مثبت کورونا کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق رواں ہفتہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرنے کے ہفتے کے طور پر منائیں گے۔اس دوران تمام عوامی مقامات، دفاتر، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹس میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ عوام کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے اور دوسرے کے لیے اچھا اور محفوظ ماحول بنائیں۔ تیمور جھگڑا کا اس موقع پر کہنا تھا کہ آج سے 12 دسمبر تک صوبے میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہفتہ عمل درآمدگی کورونا ایس او پیز منانے کا فیصلہ ایس سی او سی اجلاس میں کیا گیا تھا جبکہ اس کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران تمام عوامی مقامات، دفاتر، ٹرانسپورٹ اور مارکیٹس میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ شہری کورونا کو شکست دینے میں حکومت کا ساتھ دیں اور حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ ابھی کی تھوڑی تکلیف بعد کی بڑی تکلیف سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط ہی کورونا کا علاج ہے۔ عوام کے تعاون سے ہی حکومت اس وباء پر قابو پا سکتی ہے۔ ہفتہ عمل درآمدگی کورونا ایس او پیز کو کامیاب بنانے کے لیے ٹرانسپورٹرز، دکانداروں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن ہو گا۔ صوبائی وزیر نے امید ظاہر کی کہ عوام کے تعاون سے پہلی لہر کی طرح دوسری لہر پر بھی قابو پا لیں گے۔ دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے عوام سے اپیل کی کہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے اپنے اور دوسرے کے لیے اچھا اور محفوظ ماحول تشکیل دیں۔ رواں ہفتے عوام کی آگہی کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے گی اور شہریوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی جانب راغب کرنے کے لیے علماء کرام اور سماجی رہنماؤں سے قریبی رابطہ رکھا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ عوام ماسک پہنیں، ہاتھ 20 سیکنڈز تک دھوئیں اور سینیٹائزر کا استعمال کریں۔ اسی طرح سماجی فاصلہ اختیار کریں اور غیر ضروری گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ شہری رش والی جگہوں پر جانے سے گریز اور عوامی اجتماعات، شادی بیاہ کی تقریبات میں شرکت سے اجتناب کریں۔ اضلاع کی انتظامیہ ایس او پیز پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کے لیے ٹیمیں تشکیل دے گی۔ ضلعی انتظامیہ کورونا ایس پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لے گی جبکہ کمرشل اداروں، مارکیٹس، شاپنگ مالز اور دکانوں پر رش کے ذمہ دار مالکان ہوں گے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر جرمانے اور کاروبار کو سیل کر دیا جائے گا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ عمران خان دنیا کہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے اس وباء کے دوران درست فیصلے کیے۔ ان ہی کی لیڈرشپ اور ویژن کی بدولت آج ملک میں معیشت کا پہیہ چل رہا ہے اور غریب عوام کے چولہے جل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی لہر کے دوران اپوزیشن سخت سے سخت لاک ڈاؤن کا واویلا کر رہی تھی جبکہ اب دوسری اور خطرناک لہر کے دوران جلسے جلوس کر رہی ہے۔

مزید :

صفحہ اول -