پی ڈی ایم جلسوں پر ضد کر کے قوم کی جانوں سے کھیل رہی ہے: ڈاکٹر نور الحق قادری 

  پی ڈی ایم جلسوں پر ضد کر کے قوم کی جانوں سے کھیل رہی ہے: ڈاکٹر نور الحق ...

  

 پشاور (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیربرائے مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی ڈاکٹرپیرنورالحق قادری نے کہاہے کہ کرونا کی تیزی سے پھیلاؤ کے دوران PDMجلسوں پر ضد کرکے قوم کی جانوں سے کھیل رہی ہے،کیا قوم کو معلوم نہیں کہ سخت لاک ڈاؤن کا مطالبہ ہی اپوزیشن کا تھا جس کو اب خود پامال کررہے ہیں۔ ان خیالات کا ظہار وفاقی وزیر مذہبی اُمور ڈاکٹر پیر محمد نورالحق قادری نے آج پشاور میں براک کیب سروس کمپنی کے افتتاحی تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اقلیتی رکنی قومی اسمبلی جمشید تھامس بھی اس موقع پر موجود تھے۔  ڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے کہا کہ اپوزیشن کے تمام جماعتیں او ر انکے قائدین ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہے۔ لیکن موجودہ PDMجو سیاست کررہی ہے اور جو احتجاج کررہی ہے اُس کا روخ تعمیر کے بجائے تخریب کی جانب ہے جوکسی طور پر بھی ملک اور قوم کی مفاد میں نہیں ہے۔ موجودہ حالات منفی سیاست کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن چند لوگوں کی ملک لوٹی ہوئی دولت کو بچانے کیلئے،انہیں بڑے بڑے مقدمات سے بچانے کیلئے اورانہیں این آر او دلانے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔انہوں نے کہا مفاداتی سیاست نے یہاں تک ان کے بینائی کو متاثر کیا ہے کہ حکومت کی اچھے اور نیک نیتی پر مبنی اقدامات میں بھی کیڑے نکالنے اورناکام منفی پروپیگنڈہ کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کا ش اپوزیشن کے رہنما اپنے اصل فرائض منصبی سے آگاہ ہوتے اور مثبت اپوزیشن کرتے اس کا فائدہ ملک وقوم کو ہوتا۔ ڈاکٹر پیر محمد نورالحق قادری نے کہا کہ ہماری حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ ہم کاروبا ر دوست ماحول بنائیں اور جو لوگ یا کمپنیاں کام کرتی ہے انہیں ہر ممکن سہولتیں دے رہے ہیں اوراُنہیں ہر قسم کا تحفظ بھی دے رہے ہیں جو اپنی تجارتی سرگرمیاں بلاخوف وخطر جاری رکھ سکیں۔ آج ہم جس ادارے کا افتتاح کررہے ہیں "براک کیب سروسز"اس سے نہ صرف کاروبار کو فروغ ملے گا بلکہ بیروزگارنوجوانوں کا باعزت روزگار اور بہترین ذریعہ ملے گا۔  اس موقع پر براک کیب کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقاص طارق، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر احسان الحق، سپروائزر منصور رندھوا،پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ملک امیر خان آفریدی، ملک جمال خان، حاجی احسان اللہ اور ڈاکٹر شمس الرحمان شمس بھی موجود تھیں۔ 

مزید :

صفحہ اول -