آرٹس کونسل کی موجودہ انتظامیہ کٹھ پتلی ہے: دی آرٹس فورم

آرٹس کونسل کی موجودہ انتظامیہ کٹھ پتلی ہے: دی آرٹس فورم

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر) دی آرٹس فورم کراچی کے صدر نجم الدین شیخ،سیکرٹری مبشرمیر،یاور مہدی، منصور زبیری، محمد اسلم خان، محمد ابراہیم، شاعر انور اقبال، ابن حسن، ڈاکٹر جاویدمنظر، اظہر نقوی، سید عبدالباسط، صباحت بخاری،قندیل جعفری اور نعیم طاہر نے کہا ہے کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی موجودہ انتظامیہ کٹھ پتلی ہے۔گزشتہ دس سال سے سندھ حکومت کی سرپرستی میں ووٹرز کے مینڈیٹ کو چرایا جارہا ہے۔گزشتہ انتخابات میں دی آرٹس فورم کے بائیکاٹ کے باوجود موجودہ گورننگ باڈی کو مسلط کردیا گیا۔موجودہ صدر آرٹس کونسل سلیکٹڈ ہیں۔آرٹس کونسل کے ووٹرز کو عزت دینے کے لیے آئندہ انتخابات میں حکومت سندھ کو غیر جانبدار رہنا ہوگا۔اپنے مشترکہ بیان میں دی آرٹس فورم کے ارکان نے کہا کہ آرٹس کونسل کراچی ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ دس سال سے شہر کے اس علمی و ادبی مرکز پرحکومت سندھ کی سرپرستی میں ایک گروہ کو مسلط کردیا گیا ہے،جس کی وجہ سے فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ شدید مایوسی کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل میں اقربا پروری کی انتہا کردی گئی ہے اور تمام معاملات انتہائی بھونڈے انداز میں چلائے جارہے ہیں۔بہتر لوگوں کو اہلیت رکھنے کے باوجود ممبر نہیں بنایاجارہا ہے اور ممبر شپ کا معیار صرف چاپلوسی رہ گیا ہے۔خفیہ انداز میں کی جانے والی ممبر سازی نے انتخابی عمل پر بھی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔دی آرٹس فورم کے ارکان نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ حکومت سندھ کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔گزشتہ انتخابات میں نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی کی گئی بلکہ آرٹس فورم کی ایک خاتون امیدوار کو باقاعدہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا لیکن اس کے باوجود سندھ حکومت نے آرٹس کونسل پر مسلط گروہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل کے ارکان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔اس حوالے سے ایک نجی ٹی پر نشر ہونے والی رپورٹ پر بھی حکومتی سطح پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔دی آرٹس فورم کے ارکان نے مطالبہ کیا کہ دسمبر میں ہونے والے انتخابات کو آزادانہ انداز میں منعقد کرانے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں اور حکومت سندھ آرٹس کونسل کراچی میں اپنی مداخلت بند کرے۔

مزید :

صفحہ آخر -