انٹلکچوئل فورم آف پاکستان کے تحت ”خواتین کے کردار“ پر سیمینار

انٹلکچوئل فورم آف پاکستان کے تحت ”خواتین کے کردار“ پر سیمینار

  

کرچی (سٹاف رپورٹر)کراچی کی ترقی میں خواتین کے کردار پر ایک سیمنار محمد اسلم خان چیرمین انٹلیکچوؤل فورم آف پاکستان کی ہدایت پر  مقامی کلب کے سبزہ زار پر منعقد ہوا۔ مختصر نوٹس پر منعقد کئے گئے اس سیمنار کا آغاز تلاوت کلام پاک  سے ہوا۔ ڈاکٹر علامہ شاہ فیرورالدین رحمانی، ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر نادیہ، محترمہ رفعت،محترمہ دلشاد،حارث خان اور خالد رحمانی نے تقریب سے خطاب کیا۔ انٹلکچوؤل فورم کے چیئرمین محمداسلم خان نے اپنے خطاب میں کراچی میں مختلف شعبوں میں خواتین کے کردار کی تعریف کی اور انہیں باور کرایا کہ وہ ملک کی ایک بڑی اکائی ہیں جو تمام شعبوں میں فیصلہ کن عہدوں پر ھوتے ھوئے بھی  اپنی گھریلو زندگی پر سمجھوتہ نہیں کرتیں اور سب کو نبھا کر چلتی ہیں کراچی کی ترقی میں خواتین کو بہت اہم کردار ادا کرنا ہے جس میں نوکریاں روزگار کے مختلف ذرائع اور ناکافی پانی بجلی کے شعبہ جات شامل ہیں۔ ڈاکٹر جاوید منظر نے ان خواتین کا زکر کیا جنہوں نے قیام پاکستان اور اس کے بعد  تعمیر پاکستان اہم رول ادا کیا۔ تقریب میں احمد علی، ذیڈ ایچ خرم، مبشر میر، نجم الدین شیخ، باسط علی، شاکر خان، سیما شاکر، فہیم برنی، سر تقی،افشاں فرح، ریاض صاحب کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ سیمنار خواتین و حضرات کی تعداد کے بڑھنے سے ایک بڑے اجلاس میں تبدیل ہو گیا جس کے لئے علیحدہ سے مزید نشستوں کا انتظام کرنا پڑا، سیمینار کو لے کر خواتین میں جوش و جزبہ دیدنی تھا۔ پروگرام کے آخر میں چند قراردادیں (۱)کراچی کی مردم شماری درست کی جائے اور دوبارہ اس کی مردم شماری کی جائے (۲)پاکستان میں ڈویژن کی بنیاد پر انتظامی یونٹ بنائے جائیں  جوٹوٹل  32 ہو تے ہیں (۳) این ایف سی ایوارڈ کے تحت کر اچی کو جو 5فیصد سندھ کو زیادہ مل رہا ہے وہ کراچی کو دیا جاے اور(۴) مقامی لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیا  جائے، منظور کی گئیں۔ 

مزید :

صفحہ آخر -