کراچی مسائل پر صرف اعلانات، احکامات اور نمائشی اجلاس کیے جارہے ہیں: حافظ نعیم الرحمن

کراچی مسائل پر صرف اعلانات، احکامات اور نمائشی اجلاس کیے جارہے ہیں: حافظ ...

  

 کراچی (سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی ترقی اور مسائل حل کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے اجلاس اور اب تک کی مجموعی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے بجائے محض خانہ پری کے لیے کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں یا صرف نمائشی اجلاس کیے جارہے ہیں،بارش ختم ہوئے چار ماہ گزگئے، احکامات، اعلانات،وعدوں کے باوجود نہ سڑکوں کی مرمت کی گئی نہ ہی شہر کے نالوں کی مستقل صفائی کا کوئی نظام بنایا گیا،حد تو یہ ہے کہ شہر میں یومیہ بنیادوں پر پیداہونے والے کچرے کو ٹھکانے لگانے کا بھی کوئی بندوبست نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے 1100ارب روپے کے پیکیج کا اعلان تو کیا لیکن عملاً کوئی کام نہیں کیا گیا،صورتحال یہ ہے کہ 1100ارب روپے میں سے صوبے کا کتنا حصہ ہے ابھی تک یہ بھی طے نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہاکہ کراچی میٹروپولیٹن سٹی ہے جو پورے پاکستان کو 67فیصد اور سندھ کو 95فیصد ریونیوفراہم کرکے دیتا ہے لیکن وفاق اور صوبہ دونوں نے تین کروڑ آبادی والے شہر کو مسلسل نظر اندا ز کیا ہوا ہے۔کراچی کے شہری پہلے ہی مہنگائی و بے روزگاری سے پریشان ہیں دوسری جانب شہر کی سڑکیں، گلیاں،ندی نالے اورکچرے کی صفائی نہ ہونے سے شدید ذہنی وجسمانی اذیت کا شکار ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بارشوں کے بعد شہر کی تباہ سڑکوں کی مرمت کا کام کیا جاتا،ندی نالوں اور کچرا کنڈیوں کی مستقل صفائی کی جاتی اس کے بعد کراچی کی تعمیر وترقی کے لیے کام کیا جاتا لیکن وفاقی حکومت کراچی میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر صوبائی حکومت کو اقدامات کرنے کا کہہ رہی ہے،ہم اس حوالے سے حکومت کو خبردار کرتے ہیں کہ کہ وہ پہلے لوگوں کے لیے متبادل رہائش کا انتظام کرے بصورت دیگر جماعت اسلامی بھرپور احتجاج کرے گی۔جماعت اسلامی گراس روٹ لیول پر موجود ہے اور حقوق کراچی تحریک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،عوام میں شعور بیدار ہوا ہے،اگر وفاقی وصوبائی حکومتوں نے کراچی کو اس حق نہ دیا تو عوامی دباؤ کے ذریعے سے مسائل حل کرائیں گے۔#

مزید :

صفحہ آخر -