دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی کھلاڑی ”فائیو سٹار“ ماحول کو ترس گئے

دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی کھلاڑی ”فائیو سٹار“ ماحول کو ترس گئے
دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی کھلاڑی ”فائیو سٹار“ ماحول کو ترس گئے
سورس:   Twitter

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی کھلاڑی ”فائیو سٹار“ ماحول کو ترس گئے جبکہ ملک میں بادشاہوں والی زندگی گزارنے والے سٹارز کے کمروں کی بھی 11 دن سے صفائی نہیں ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق کرکٹرز عام طور پرفائیو سٹار سہولتوں کے عادی ہوتے ہیں جنہیں ملک اور بیرون ملک ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے، کھلاڑی بڑے ہوٹلز میں قیام کرتے اور کوئی کام خود نہیں کرنا پڑتا ہے لیکن نیوزی لینڈ میں حالات ایسے نہیں ہیں، گو کہ قیام تو اچھے ہوٹل میں ہے مگر وہ ان دنوں قرنطینہ مرکز بن چکا اور فوج کی زیرنگرانی ہے۔

ٹیم ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 11 دنوں میں کھلاڑیوں کے کمروں میں کوئی داخل نہیں ہوا، بیڈ شیٹس تک تبدیل نہیں ہوئی ہیں، عموماً ہوٹل میں روزانہ ہی انہیں تبدیل کیا جاتا ہے، کمروں نہ ہی واش رومز کی صفائی ہوئی، کھلاڑی تولیہ استعمال کرکے بیگز میں کمرے کے باہر رکھ دیتے ہیں، اسی طرح باہر دھلے ہوئے تولئے رکھ دئیے جاتے ہیں۔

آمد کے بعد پلیئرز کو مہذب انداز میں باقاعدہ ٹرے میں پلیٹوں کے ساتھ کھانا پیش کیا مگر جب مثبت کورونا ٹیسٹ آئے تو اگلے روز سے ہی ڈبوں میں کھانا دیا جانے لگا،پہلے دن ہی یہ الزام لگا تھا کہ کھلاڑیوں نے کھانے کی ٹرے اٹھانے کیلئے جب دروازہ کھولا تو ماسک نہیں پہنا ہوا تھا، اس دوران دوسرے کمروں کے دروازوں پر کھڑے ساتھیوں سے بھی انہوں نے بات چیت کی۔

ٹیم ذرائع یہ کہتے ہیں کہ آنے سے پہلے جو ایس او پیز بتائے گئے اس میں کھانا وصول کرتے ہوئے ماسک پہننے والی بات شامل نہ تھی، ساتھیوں سے بات کرتے وقت بھی کافی فاصلہ تھا مگر جب بتایا گیا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے تب سے مکمل احتیاط برت رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ پی سی بی ٹیم کی مشکلات سے بخوبی آگاہ اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ سے بھی بات کی مگر انہوں نے حکومت کے سامنے ہاتھ بندھے ہونے کا جواز دے دیا، بورڈ حکام نے کوچ مصباح الحق اور کپتان بابر اعظم سے دورہ جاری رکھنے کے حوالے سے ضرور پوچھا البتہ دیگر کھلاڑیوں سے کوئی فیڈ بیک نہیں لیا گیا، نہ ہی ٹیم آفیشلز نے کوئی رائے لی، گوکہ کھلاڑی ان سختیوں سے سخت مایوس ہیں البتہ وہ سیریز کی منسوخی کے حق میں بھی نہیں لگتے۔

بیشتر کی رائے ہے کہ جہاں اتنے دن گزار لئے مزید2،3 روز بھی نکل ہی جائیں گے، یاد رہے کہ پاکستانی سکواڈ کے 44 ارکان کی چوتھی ٹیسٹنگ میں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا، اس کے باوجود نیوزی لینڈ کی وزارت صحت نے انہیں گروپس میں ٹریننگ کی اجازت نہیں دی۔

مزید :

کھیل -