کورونا وائرس کی آپ بیتی

کورونا وائرس کی آپ بیتی
کورونا وائرس کی آپ بیتی

  

میرا نام کورونا وائرس ہے مجھے اپنی جائے پیدائش معلوم نہیں لیکن اتنا پتا ہے کہ چین میں ابتدائی ایام گزرنے کے بعد مجھے وہاں کے بے وفا لوگوں نے اپنے وطن سے نکال دیا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ مجھے بیک وقت جرمنی اٹلی اور امریکہ کے باسیوں نے خوش دلی سے ویلکم کیا۔ میں مسرور تھا کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں امریکہ جا پہنچا اب تو گرین کارڈ لے کر ہی رہوں گا۔ لیکن میری سوچ چھوٹی تھی۔ وہاں کے صدر بہت اچھے تھے انہوں نے پورا ملک ہی میرے لئے فرش راہ کر دیا۔ کچھ روز یوں ہی سیروتفریح میں گزر گئے۔ پھر وہاں کسی نے بتایا کہ پاکستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ دل میں اک لہر سی اٹھی کے جوانی کے چند ماہ کسی گرم مرطوب علاقے میں گزارنے کا خواب بھی پورا ہو جائے گا۔ یہاں امریکہ میں جب بھارتی اور پاکستانی چینلز دیکھتا تو دل باغ باغ ہو جاتا کہ میرے لیے اصل جگہ یہ دونوں ممالک ہی ہیں، امریکہ تو ایک عارضی مقام  ہے اور ویسے بھی یہ ملک حلیفوں سے دیر تک اچھا سلوک نہیں کرتا۔ جب خواہش پہ قابو نہ رہا تو میں ایک کنٹینر میں گھس گیا۔ دل میں ڈر بھی تھا کہ غیر قانونی طور پر جا رہا ہوں کہیں پکڑا نہ جاؤں، مگر کیا کہنے بندرگاہ والوں کے، انہوں نے بغیر کسی چیکنگ کے کراچی جانے دیا۔ غالبا ایسے ہی لوگوں کے لیے خواجہ میر درد نے لکھا تھا کہ: 

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

دنیا اب بھی اچھے لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ پاکستان پہنچ کر میں نے دیکھا کہ پوری قوم ایک جگہ کھڑی ہوئی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے کہ یہ تو بڑی متحد قوم ہے،  میں نے ایک آدمی سے پوچھا کہ بھائی یہ کونسی جگہ ہے اور آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ کہنے لگا یہ تاریخ کا نازک ترین موڑ ہے اور ہم 72 سال سے یہیں کھڑے ہوئے ہیں۔ میں جلد ہی لوگوں میں گھل مل گیا ۔ میری خوب سیرتی اور اچھی شخصیت سے متاثر ہو کر یہاں میرے فینز کی تعداد کئی لاکھ تک جا پہنچی۔ خوش تھا کہ وزیراعظم کے ٹوئٹر اکاؤنٹ جتنے فالور جلد ہی بنا لوں گا۔ مگر کسی نگوڑے نے یہ خبر عمران خان تک پہنچا دی۔ وہ حسد کی آگ میں جل اٹھا اور چند روز بعد ہی اس نے لاک ڈاؤن لگا دیا۔ یقین جانیں بہت مایوسی ہوئی۔ آگ اس گھر میں لگی ایسی کہ جو تھا جل گیا۔

چند ماہ پاکستان میں رہنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہاں کے لوگ تو محبت کے پیامبر ہیں لیکن حکومت میرے ساتھ روابط رکھنے میں سنجیدہ نہیں۔ کسی چاہنے والے نے بتایا کہ بھائی انڈیا جاؤ وہاں بڑا سکوپ ہے۔ میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا، سو دہلی جا پہنچا۔ وہاں حالات کچھ بہتر لگے۔ اپنا گھر بنایا اور پھر ایک نیا جہاز خرید کر شہر شہر سفر کیا۔ شروع میں یہ لوگ بہت اچھے تھے مگر بعد میں انھوں نے بھی آنکھیں ماتھے پر رکھنا شروع کر دیں۔ مودی کو لگا کہ شاید میں کشمیری ہوں تو اس نے لاک ڈاؤن لگا دیا۔ میں نے بہت عرض کی کہ بھائی میں نہ تو مسلمان ہوں نہ کشمیری اور نہ ہی سکھ، پھر یہ بے اعتنائی کیوں؟ لیکن میری عرضی اقوام متحدہ میں برسوں سے پڑی ہوئی دیمک زدہ قراردادوں کی طرح مودی کے دفتر کی فائلوں میں دبی رہ گئی۔ چند ہفتے بھوک اور پیاس سے نڈھال رہا۔ کبھی کسی ڈھابے پر بیٹھا رہا تو کبھی کسی چائے والے سے دوستی کرنے کی کوشش کی، مگر حالات بہتر نہ ہو سکے۔ ایک دن ہوٹل میں بیٹھا اکیلا بور ہو رہا تھا۔ سوچا ٹی وی دیکھتے ہیں۔ ڈش لگائی تو ڈورے مون لگے ہوئے تھے۔ میں نے ریموٹ پکڑ کے چینل تبدیل کرنا شروع کیے۔ اچانک ایک جگہ آنکھیں جم گئیں۔ کوئی نیوز چینل تھا اور اینکر بتا رہی تھی کہ لاہور میں 13 دسمبر کو ایک بڑا جلسہ ہونے والا ہے۔ یہ سنتے ہی "اسد خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پھول گئے"۔ فوراً مولانا خادم حسین رضوی مرحوم کے جنازے کا منظر آنکھوں کے سامنے دوڑ گیا جو میری نااہلی سے چھوٹ گیا تھا۔ اگلے ہی لمحے ایک افسوسناک خبر ملی کہ یہ جلسہ اپوزیشن کر رہی ہے۔ یہ سن کر دل پھر کرب سے نڈھال ہو گیا۔ سوچا اپوزیشن کے ساتھ تو لوگ ہی نہیں ہیں، وہاں جانا بیکار ہے۔ میں نے دلی سرکار کو ایک نامعلوم نمبر سے کال کی اور ان سے جلسے کے اسکوپ کے بارے میں معلوم کیا۔ بتانے والے نے بڑے اعتماد سے کہا کہ "پاجی فورا لہور چلے جاؤ بڑا موقع جے"۔

12 دسمبر کو میری لاہور کے لیے ٹکٹ ہے لیکن خدشہ ہے کہ حکومت کہیں لوگوں کو گھروں میں بیٹھنے کے لئے راضی نہ کر لے۔ ایسے، ٹکٹ کے پیسے بھی ضائع ہو جائیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہ آئے گا۔ احتیاطا اپوزیشن کے ایک رہنما سے فون پر بات کی اور پوچھا کہ کوئی پازیٹو رسپانس نہیں آرہا، کہیں آپ جلسہ منسوخ تو نہیں کر دیں گے، میری روزی روٹی کا سوال ہے اور پہلے ہی بہت تلخ ہیں بندہ مزدور کے اوقات۔ کہنے لگا کہ ہم پتھر کے زمانے والا پرانا پاکستان بنانا چاہتے ہیں، تمام اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اپنے ممولے کو اس بار شہباز سے لڑا ہی دینا ہے۔ میں نے عرض کی کہ بھائی اتنی پابندیاں ہیں، غیر قانونی طور پر جلسہ کرنے پر آپ کے کئی بندے بھی دھر لیے گئے ہیں۔ کہنے لگا:

گر کیا ناصح نے ہم کو قید، اچھا یوں سہی

یہ جنون عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا

خانہ زادِ زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں گے کیوں

ہیں گرفتارِ وفا، زنداں سے گھبراویں گے کیا

میں نے کہا یہ تو سیاسی بیان ہے، عدم تک بے وفا چرچا ہے تیری بے وفائی کا۔ ایک بار پھر سوچ لو۔ کہنے لگا، بریانی کا آرڈر دے دیا ہے "ایہہ جلسہ ضرور ہووےگا"۔ یہ سن کر میری آنکھوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -