"جماعت اسلامی بھی پی ڈی ایم کے ساتھ استعفے دینے کو تیار ہے لیکن شرط یہ ہے" سراج الحق نے اعلان کردیا

"جماعت اسلامی بھی پی ڈی ایم کے ساتھ استعفے دینے کو تیار ہے لیکن شرط یہ ہے" سراج ...

  

تیمرگرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ اگر پی ڈی ایم قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے نکلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو جماعت اسلامی بھی استعفے دینے کو تیار ہے، پی ڈی ایم میں شامل سبھی جماعتوں نے اقتدار کے مزے لوٹےلیکن عوام کو کچھ نہیں دیا،اب تبدیلی کے دعوے دار لوگوں کا خون نچوڑ رہے ہیں اور انھیں لنگرخانوں کے باہر کھڑا کر دیا ہے،خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 7اموات کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوا،وزیراعلیٰ کے پی کے استعفیٰ کیوں نہیں دیتے؟۔

تیمرگرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہعدالتوں میں غریب کے لیے انصاف نہیں ہے جب کہ تعلیم اور صحت کی سہولتیں نایاب ہو گئیں،عوام کو ہسپتالوں میں ڈسپرین کی گولی تک دستیاب نہیں،خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں 7 لوگوں کا آکسیجن کی عدم دستیابی کی وجہ سے چل بسنا بڑا سانحہ ہے،وزیراعلیٰ کے پی نے اب تک استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟یہ سانحہ پورے صوبے کے صحت کے نظام کے منہ پر طمانچہ ہے،تبدیلی کے دعوے دار کے پی میں صحت کے نظام کو آئیڈیل قرار دیتے تھے اب کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ، ملک پر مسلط حکمران طبقے نے صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے آج تک کوئی قدم نہیں اٹھایا، پی ٹی آئی کی حکومت نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی اور سسٹم کو تباہ کر دیا،حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اصل راج مافیاز کا ہے، اس کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں گزشتہ اڑھائی سالوں میں سوائے ناکامیوں کے کچھ نہیں، تبدیلی کے دعوے داروں نے عوام کو لنگرخانوں کے باہر کھڑا کر دیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد خالصتاً عوامی ہے اور اس کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست کی منزل کا حصول ہے۔ لوگوں کو اسٹیٹس کو کے چنگل سے نجات دلانا ہی جماعت اسلامی کی جدوجہد کا حاصل ہے،پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں میں کوئی فرق نہیں ہے، کئی اپوزیشن پارٹیوں کے اب بھی حکومت سے رابطے ہیں، انھوں نے ماضی میں بھی ایف اے ٹی ایف، سینیٹ چیئرمین کے الیکشن اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سمیت دیگر اقدامات پر حکومت کا ساتھ دیا، کیا پی پی سندھ حکومت کی قربانی دینے کو تیار ہے ؟ اگر پی ڈی ایم قومی اسمبلی، سینیٹ اور سندھ اسمبلی سے نکلنے کا فیصلہ کرتی ہے تو  ہم بھی اس پر سوچیں گے۔

مزید :

قومی -