اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کو کس طرح نشانہ بناتے ہیں؟ ان کی کارروائیاں جان کر آپ فلموں کی کہانیاں بھول جائیں

اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کو کس طرح نشانہ ...
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹ دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کو کس طرح نشانہ بناتے ہیں؟ ان کی کارروائیاں جان کر آپ فلموں کی کہانیاں بھول جائیں

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹوں نے پہلے ایران میں القاعدہ کے دوسرے بڑے لیڈر کو بیٹی سمیت نشانہ بنایا اور پھر ایران کے اندر ہی ایرانی ایٹمی پروگرام کے سربراہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اب تک موساد عالمی سطح پر قتل کی کئی ایسی وارداتیں کر چکی ہے کہ طریقہ واردات کو دیکھا جائے تو فلمی کہانیاں اس کے آگے ماند پڑ جائیں۔ ٹام لیونارڈ نامی ایک ماہر نے میل آن لائن کے لیے لکھے گئے ایک آرٹیکل میں موساد کی قتل و غارت گری کے کچھ ایسے ہی حیران کن طریقے بیان کیے ہیں۔

ٹام لیونارڈ لکھتے ہیں کہ ایک خلیجی ملک کے لگژری ہوٹل کے کمرے میں ایک آدمی قتل ہوتا ہے، مقتول کی طرف سے مزاحمت کیے جانے کے کچھ آثار ملتے ہیں لیکن کمرے کا دروازہ اندر سے لاک ملتا ہے۔ ایران کے ایٹمی سائنسدان کو اس وقت مشین گن سے نشانہ بنایا جاتا ہے جب وہ ٹریفک سگنل پر کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ گاڑی میں ان کی اہلیہ بھی موجود ہوتی ہے۔اسرائیلی قبضے کے خلاف سرگرم عمل ایک فلسطینی لیڈر کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اور ڈاکٹر بھی اس بیماری کا سراغ نہیں لگا پاتے۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلسطینی لیڈر جو ’ٹوتھ پیسٹ‘ استعمال کر رہا تھا، اس میں زہر ملا ہوا تھا۔

ٹام لیونارڈ لکھتے ہیں کہ ”ایسے جتنے بھی کیس سامنے آئے ہیں جن میں موساد کے ملوث ہونے کا شبہ ہوا ہے، ان میں لوگوں کو انتہائی بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی ایسے طریقے استعمال کیے گئے ہیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان طریقوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے اپنے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے فن میں کس قدر مہارت حاصل کی ہے۔ موساد کے ان طریقوں کو دیکھ کر جیمز بانڈ کی یاد آتی ہے جو جہاز میں اڑتا پھر رہا ہے اور دنیا بھر میں اپنے دشمنوں کو نشانہ بناتا پھر رہا ہے۔ ایرانی سائنسدان فخری زادہ کے قتل کی واردات ہی کو دیکھ لیں۔ وہ تین گاڑیوں کے قافلے میں جا رہے ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ باڈی گارڈز سے بھری دو گاڑیاں موجود ہوتی ہیں لیکن جیسے ہی وہ ایک چوراہے پر پہنچے ہیں، وہیں قریب کھڑی گاڑی دھماکے سے اڑا دی جاتی ہے۔ اسی دوران کہیں سے موٹرسائیکل سوار نمودار ہوتے ہیں اور ان پر فائرنگ کر دیتے ہیں ۔ ان موٹرسائیکل سواروں کے ساتھ ایک گاڑی بھی ہوتی ہے جس پر آٹومیٹنگ مشین گن نصب ہوتی ہے اور وہ ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر گولیاں برسانے لگتی ہے۔ اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد موساد کے یہ درجن بھر قاتل جس طرح اچانک نمودار ہوتے ہیں، اسی طرح اچانک غائب بھی ہو جاتے ہیں۔“

مزید :

برطانیہ -