سب سے مہنگی جسم فروش خاتون امریکی حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئی

سب سے مہنگی جسم فروش خاتون امریکی حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئی
سب سے مہنگی جسم فروش خاتون امریکی حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گئی
سورس:   Instagram/thealicelittleofficial

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کی سب سے مہنگی جسم فروش خاتون لاک ڈاﺅن کے دوران کام نہ ملنے پر حکومت کے خلاف عدالت چلی گئی۔ ڈیلی سٹار کے مطابق ایلیس لٹل نامی یہ جسم فروش خاتون امریکی ریاست نیواڈا کے قحبہ خانے ’مون لائٹ بنی رینچ‘ میں کام کرتی ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ 10لاکھ ڈالر (تقریباً 16کروڑ روپے)سالانہ کماتی ہے۔ ایلیس نے عدالت میں حکومت کے خلاف دی گئی درخواست کہا ہے کہ وہ مارچ سے بے روزگار ہے اور اس کی زندگی شدید متاثر ہورہی ہے۔ 

ایلیس کا کہنا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی اور سیلون، مساج پارلر اور دیگر کئی ایسے کاروبارکھول دیئے جانے کے باوجود ہمارا کام تاحال بند رکھا جا رہا ہے۔ نیواڈا حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ دیگر کاروباروں کی طرح ہمارے قحبہ خانے بھی کھولے، تاکہ اس انڈسٹری سے وابستہ خواتین، جو شدید مالی بدحالی کا شکار ہو چکی ہیں، کا روزگار بحال ہو سکے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -