جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتو ضمیر نہیں ہوتا، بعد میں جاگ جاتا ہے ، رانا شمیم کے بیان حلفی کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد کے ریمارکس

جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتو ضمیر نہیں ہوتا، بعد میں جاگ جاتا ہے ، رانا شمیم کے ...
جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتو ضمیر نہیں ہوتا، بعد میں جاگ جاتا ہے ، رانا شمیم کے بیان حلفی کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد کے ریمارکس

  

اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن )  اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جج رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ  یہ ایک مسئلہ ہے کہ جب کوئی کرسی پر بیٹھا ہوتا ہے تو ضمیر نہیں ہوتا ، بعد میں جاگ جاتا ہے ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیان حلفی کیس میں رانا شمیم عدالت پیش ہوئے ، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ آپ کو  جواب جمع کرانے کا کہا گیا تھا، کیا آپ نےجواب جمع کرایا ؟۔ رانا شمیم نے عدالت کو بتایاکہ میں نے اپنا جواب اپنے وکیل کو دےدیا تھا ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیر تک اصل بیان حلفی جمع نہ کرایا گا تو کارروائی ہو گی ۔ 

بعد ازاں رانا شمیم کے وکیل لطیف آفریدی عدالت پہنچے تو عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ اصل بیان حلفی کہاں ہے ؟،  لطیف آفریدی نے جواب دیاکہ میرے موکل کا بیان حلفی خفیہ دستاویز تھا، میرے مطابق سیاسی معاملات کو عدالتوں میں نہیں آنا چاہیے ،میں نے پوری زندگی عدلیہ کی آزادی اور رول آف لا کے لیے جدوجہد کی ۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے کوئی غرض نہیں، یہ مسئلہ اس عدالت کے اپیلیں سننے والے بینچ میں شامل ججز پر الزام لگانے کا ہے،یہ تاثر دیا گیا کہ ہائیکورٹ کے تمام ججز نے سمجھوتہ کر رکھا ہے،  یہ کیوں ہوا کہ رانا شمیم نے 3 سال بعد بیان حلفی لکھا؟، اگر ضمیر جاگ گیا تھا تو بیان حلفی کہیں جمع کراتے، یہ تاثر دیا گیا کہ رہائی الیکشن سے پہلے نہیں ہوئی بعد میں ہوئی ہے، نواز شریف کی رہائی پر بھی اسی طرح کی خبریں شائع کی گئیں، اس وقت بینچ جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب شامل تھے،  کیا چھٹیوں پر موجود جج نے باقی دو ججز کا بھی سمجھوتہ کرایا؟ ، رانا شمیم نے کہا کہ ایک سابق چیف جسٹس نے انکے سامنے اتنا سنگین جرم کیا، یہ بیان حلفی شائع کرنا بھی اسی بیانیے کی ایک کڑی ہے،  تاثر دیا گیا کہ ایک مخصوص شخص الیکشن سے پہلے رہا نہیں ہونا چاہیے اور ججز پر دباؤ ڈالا گیا۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے رانا شمیم کو بیان حلفی پیش کر کے اپنی اچھی نیت ثابت کرنی ہو گی، اگر پیر کو رانا شمیم بیان حلفی پیش نہیں کرتے تو فرد جرم عائد کرینگے،جسٹس وقار سیٹھ پر کوئی دباؤ اس لئے نہیں ڈال سکتا تھا کیونکہ وہ دروازہ نہیں کھولتے تھے،  میرے کسی جج پر کوئی اثر انداز اس لیے نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ یہ دروازہ نہیں کھولتے، میں چیف جسٹس ہوں، میرے سامنے کوئی چیف جسٹس ایسا جرم کرتا تو مجھے کیا کرنا چاہیے تھا؟، میرے دروازے ہر کسی کے لیے بند رہے ،میں نے اپنی پوری زندگی کسی کو خود تک رسائی نہیں دی ، میرے ججز کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا ہے، ہم جج پریس کانفرنس نہیں کر سکتے، وضاحت نہیں دے سکتے، توہین عدالت کی کارروائی کسی جج کی عزت بچانے کیلئے نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سوال کیا کہ اخبار کی رپورٹنگ کیلئے کیا ذمہ داریاں ہیں؟، رانا شمیم نے گزشتہ سماعت پر کہا کہ انہوں نے بیان حلفی اخبار کو نہیں دیا، کیا کسی ذمہ داری کے بغیر خبر شائع کی جا سکتی ہے، عدالتی معاون نے بتایا کہ کسی دستاویز کو شائع کرنے سے پہلے تمام متعلقہ فریقین سے موقف لینا ضروری ہے، کیس میں رجسٹرار سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے موقف نہیں لیا گیا، رانا شمیم نے کہا کہ یہ خفیہ دستاویز تھا اور اسے شائع کرنے کیلئے نہیں رکھا گیا تھا، اگر رانا شمیم کی دستاویز پرائیویٹ ہیں تو پھر ان پر توہین عدالت نہیں بنتی۔ 

مزید :

اہم خبریں -قومی -