سانحہ سیالکوٹ، پاکستان کے وزیر داخلہ نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دہانی کرادی

سانحہ سیالکوٹ، پاکستان کے وزیر داخلہ نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دہانی ...
سانحہ سیالکوٹ، پاکستان کے وزیر داخلہ نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دہانی کرادی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے  کہا ہے کہ وزارت قانون سے ایسے قوانین آنے چاہئیں کہ اس طرح کے مقدمات کے فیصلے جلد از جلد ہوں، سیالکوٹ میں دل دہلا دینے والا واقعہ ہوا، میں نے سری لنکن ہائی کمشنر کو یقین دلایا ہے کہ مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ واقعے اور ملک کی امن و امان کی صورتحال پر عسکری اور سول قیادت کے اجلاس میں غور و فکر کیا گیا اور کہا گیا کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے میڈیا اداروں سے اپیل کی کہ ملک میں انتہا پسندی روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ایسے افراد جو دہشت گردی یا انتہا پسندی میں ملوث ہیں انہیں کوریج نہ دیں، ان کی بات کو پیش نہیں کریں گےتو ملک بہتری کی جانب جائے گا،  ملکی حالات آپ کے سامنے ہیں، کل لاہور میں پولیس والے کھڑے تھے پھر بھی ملزمان بخشی خانے سے فرار ہوگئے، اسلام آباد میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے آئی جی تبدیل کردیا گیا ہے۔ میڈیا کو پولیس کے مورال کو سپورٹ کرنا چاہیے بلکہ ان طاقتوں کی بھی نفی کرنی چاہیے جو پاکستان میں انتہا پسندی کی تبلیغ کرتے اور اس کا پیغام پہنچاتے ہیں۔

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے لانگ مارچ کی کال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جہاں اپوزیشن نے 4 ماہ پہلے لانگ مارچ کی کال دی اور یومِ پاکستان پر دی ہے، میں مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف سے کہنا چاہتا ہوں کہ 23 مارچ افواجِ پاکستان کا عالمی سطح پر منایا جانے والا دن ہے جس میں ساری قوم شریک ہوتی ہے اور اس سے ایک کروڑ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے جذبات بھی وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ 15 روز پہلے کرلیں یا 7 روز بعد کرلیں کیوں کہ یومِ پاکستان کی پریڈ کے لیے تمام سامان حرب بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد پہنچتا ہے اور زیادہ تر کور ہیڈ کوارٹرز بھی جی ٹی روڈ پر ہیں، اس دوران اسلام آباد کے بعض راستے بند کردیے جاتے ہیں، پھر اپوزیشن یہ اعتراض نہ کرے کہ ہمارے راستے بند کردیے گئے، میں 3 ماہ بعد اس پر بات کروں گا تا کہ اس کا حل نکالا جائے لیکن اپوزیشن کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہوں کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے ساڑھے 3 سال بعد تاریخ دینے کا فیصلہ کیا اور وہ بھی غلط کیا، این اے-133 کے انتخابات میں دیکھ لیا شائستہ ملک نے صرف 10 فیصد ووٹس حاصل کیے ہیں، عوام کی سوچ میں فرق ہے انہوں نے آپ کے مرغ پلاؤ کی جانب توجہ بھی نہیں دی،  اپوزیشن نے 4 ماہ کا وقت دیا ہے اس دوران پنجاب میں بلدیاتی انتخابات بھی ہوں گے لہٰذا اپنے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کریں،  ہم سختی سے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -