اناج کی ریکارڈ  683 ارب کلو گرام   پیداوار

اناج کی ریکارڈ  683 ارب کلو گرام   پیداوار
اناج کی ریکارڈ  683 ارب کلو گرام   پیداوار

  

جی ہاں ایک سال میں اناج کی 683 ارب کلو گرام پیداوار کوئی خیالی بات نہیں ہے بلکہ چین نے ابھی حال ہی میں یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔چین کے قومی شماریات بیورو نے پیر کے روز اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ رواں برس چین کی اناج کی پیداوار  683  ارب کلو گرام کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ،جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 13.4 ارب کلوگرام زیادہ ہے یوں اس میں اضافے کا تناسب سال بہ سال 2 فیصد  ہے  ۔ایک جانب اکثر ممالک میں زرعی رقبے کی جگہ کنکریٹ اور فولادی جنگل لے رہے ہیں تو دوسری جانب چین میں زرعی رقبے کو مسلسل وسعت مل رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ چین میں اناج کی پیداوار مسلسل سات سالوں سے  650  ارب کلو گرام سے متجاوز رہی ہے۔ بیورو کے دیہی امور کے محکمے کے  مطابق  قابل کاشت رقبہ 0.7 فیصد اضافے سے  117 ملین ہیکٹر تک پہنچ  چکا ہے۔ گندم اور مکئی کے لیے قابل کاشت رقبے کو مزید وسعت ملی ہے۔رواں برس ملک میں  سویابین کی مجموعی پیداوار  16.4 فیصد  کی کمی سے 16.4 ملین ٹن رہی جس کی ایک بڑی وجہ مکئی کی بڑھتی ہوئی طلب اور قیمت کے باعث کاشتکاروں کی سویا بین کے بجائے مکئی میں دلچسپی رہی ہے۔

دوسری جانب یہ امر  حیران کن ہے کہ رواں سال موسم گرما میں وسطی چین کو شدید بارشوں اور سیلاب کا بھی سامنا بھی رہا  جس کے باعث صوبہ حے نان میں  فصلوں کی پیداوار میں 2.8 ملین ٹن کمی واقع ہوئی مگر اس کے باوجود اناج کی ریکارڈ پیداوار چین کے زرعی نظام میں مضبوطی کا بہترین مظہر ہے ۔

اگر مزید تفصیلات کا جائزہ جائے تو رواں سال چین کے صوبائی سطح کے 31 میں سے ستائیس علاقوں نے اناج کی پیداوار میں اضافے کو یقینی بنایا ہے۔ان میں سنکیانگ، آنہوئی، حونان، سیچوان اور شان دونگ میں اناج کی پیداوار 500 ملین کلو گرام سے زائد رہی۔چین کی جانب سے رواں برس اناج کی مستحکم پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات اپنائے گئے تھے جن میں کسانوں کے لیےخصوصی سبسڈیز  اور آفات سے بچاو  کا میکانزم نمایاں رہے۔ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے بلیو پرنٹ کے مطابق آئندہ پانچ سے 15 سالوں میں اناج کے جامع تحفظ سمیت اہم زرعی مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور غذائی تحفظ سے متعلق قانون سازی کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر  تنازعات ،موسمیاتی تبدیلی اور  اقتصادی سماجی مسائل کے باعث خوراک کی قلت کے مسائل سامنے آئے ہیں اور اب کووڈ۔19 وبا نے عالمی معاشی بحران کو جنم دیا ہے جس کے نتیجے میں خوراک کے عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ آج دنیا میں مجموعی طور پر تقریباً 811 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں ، بشمول 132 ملین ایسے افراد جنہیں وبائی صورتحال کے دوران غذائی قلت کا سامنا ہے۔دنیا میں ایسے افراد کی تعداد بھی لگ بھگ تین ارب ہے جو صحت مند غذا کے متحمل نہیں ہیں۔اگرچہ دنیا میں بھوک کے خاتمے کے حوالے سے عزم توموجود ہے اور اسی مقصد کی خاطر سال 2015

میں 193 ممالک اقوام متحدہ میں جمع ہوئے تھے اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے کے تحت 2030 تک عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر آج حقائق کے تناظر میں اس مقصد کے حصول کے امکانات تاریک دکھائی دیتے ہیں۔ آج نئی صورتحال میں دنیا کے سبھی ممالک کو بیک وقت عالمی خوراک ،معاشی بحالی اور ماحولیاتی بحرانوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب چین نے اپنی زراعت کو جدید اقدامات سے ہم آہنگ کیا ہے جس کا نتیجہ ہر سال بمپر فصلوں کی صورت میں برآمد ہو رہا ہے۔ ان اقدامات میں زرعی تحقیق اور ترقی شامل ہے تاکہ خوراک کو مزید موثر طور پر تیار کیا جا سکے ، معلوماتی خدمات کی فراہمی جو کسانوں کو موسم کی پیش گوئی اور موزوں فصلوں سے متعلق بتاتی ہے ،کسانوں اور گلہ بانوں کے لیے خواندگی پروگرام جو سماجی تحفظ کو فروغ دیتے ہیں۔اسی طرح جدید زرعی تصورات مثلاً آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈرون وغیرہ کے استعمال سے فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کی تلفی سمیت ، آبپاشی ، فصلوں کی بوائی و کٹائی اور کھاد کے استعمال میں رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔چھوٹے کسانوں کو  مالیاتی خدمات کی فراہمی سے انہیں جدید کاشتکاری کی جانب مائل کیا گیا ہے جس سے فصلوں کی زیادہ پیداوار اور تحفظ خوراک میں انتہائی معاونت ملی ہے۔ 

اب اگر عالمی سطح پر تحفظ خوراک میں چین کے کردار کی بات کی جائے تو چین تسلسل کے ساتھ مختلف طریقوں سے زرعی پیداوار کی صلاحیت میں بہتری کے لیے ترقی پزیر ممالک کی امداد کرتا چلا آ رہا ہے۔  سنہ 1996 سے لے کر اب تک چین نے افریقہ ، ایشیا، جنوبی بحر الکاحل  اور  کیریبین سمیت  چالیس سے زائد ممالک اور خطوں  کے لیے اپنے ہزاروں زرعی ماہرین بھیجے ہیں ۔اقوام متحدہ  کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے تحت چینی ماہرین نے کئی ممالک میں 1000 سے زائد زرعی ٹیکنالوجیز پیش کیں ،جن میں فصلوں کی پیداوار ، جانوروں کی پرورش اور زراعت ،کھیتوں میں آبپاشی  اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ وغیرہ شامل ہیں۔ان  پروجیکٹس  کی مدد سے  مقامی  فصلوں کی پیداوار میں اوسطاً 30 سے 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔چین نے عالمی سطح پر  تقریباً ایک لاکھ مقامی کسانوں کو عملی تربیت فراہم کی ہے جبکہ مجموعی طور پر دس لاکھ سے زائد کسانوں نے مختلف تربیتی پروگراموں سے  فائدہ اٹھایا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ترقی پزیر اور ذمہ دار ملک کی حیثیت سے چین نے آفات سے نمٹنے میں بھی دوسرے ممالک کی بھرپور مدد کی ہے ۔سال دو ہزار بیس میں ٹدی دل کے حملوں سے نمٹنے کے لیے  چین نے پاکستان، ایتھوپیا  اور یوگنڈا سمیت ترقی پذیر ممالک کو کیڑے مار ادویہ ، سپرے  مشینز ، حفاظتی لباس ، ماسک اور دستانے فراہم کیے۔اس کے ساتھ  ساتھ  چین اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ چین نہ صرف اپنے ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد عوام کی خوراک کی ضروریات کو احسن طور پر پورا کر رہا ہے بلکہ دنیا سے بھی بھوک کے خاتمے اور پائیدار تحفظ خوراک میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے۔  

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -