امارات میں پاکستانی شہری کی صفر سے شروع کرکے بڑا کاروباری بننے کی کہانی

امارات میں پاکستانی شہری کی صفر سے شروع کرکے بڑا کاروباری بننے کی کہانی
امارات میں پاکستانی شہری کی صفر سے شروع کرکے بڑا کاروباری بننے کی کہانی

  

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں کامیاب لوگوں کی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں جو صفر سے شروع ہوئے اور اوج کمال کو پہنچے۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم 72سالہ پاکستانی شہری راجہ محمد خان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی متاثر کن اور سبق آموز ہے۔ گلف نیوز کے مطابق راجہ محمد خان 1973ء میں پاکستان سے متحدہ عرب امارات پہنچے تھے جب ان کی عمر محض 23برس تھی۔ وہ کشمیر کی ایک کاروباری فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ  پانچ سال تک متحدہ عرب امارات میں ٹھہریں گے اور پھر وہاں سے برطانیہ چلے جائیں گے جہاں ان کی فیملی کے بیشتر لوگ مقیم تھے۔

امارات میں محمد خان نے ایک ہیلپر کی ملازمت سے شروعات کی اور آج وہ ایک کامیاب کاروباری شخص ہیں۔محمد خان نے بتایا ”امارات آنے سے قبل میں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ یہاں آ کر میں نے شارجہ کی ایک ایلومینیم اینڈ گلاس فیکٹری میں ہیلپر کی پہلی ملازمت کی۔ متحدہ عرب امارات میں مجھے ایسا پرسکون ماحول ملا کہ میں نے برطانیہ جانے کی منصوبہ بندی ترک کر دی۔ یہاں سے پاکستان جانا اور اپنی والدہ سے ملنا بہت آسان تھا اور کام بھی بہترین تھا۔“ 

محمد خان کا کہنا تھا " 1975ء میں میں نے عجمان میں ٹریڈنگ لائسنس حاصل کیا اور ایلومینیم اور گلاس کی تجارت شروع کر دی۔ 1979ء میں نے شارجہ میں ایک پارٹنر کی شراکت سے ایک مینوفیکچرنگ یونٹ لگا لیا اور یہاں سے میرے کاروباری سفر کی شروعات ہوئی۔ مجھے متحدہ عرب امارات سے بہت لگاؤ ہے کیونکہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ اسی ملک کا دیا ہوا ہے۔ میرے تین بچے ہیں۔  بیٹی مصباح اور بیٹے مبشر اور حمزہ بھی متحدہ عرب امارات سے خاص انسیت رکھتے ہیں۔ ان سب کی پیدائش امارات میں ہی ہوئی تھی اور وہ اب امارات کے سوا کسی اور ملک میں رہنا پسند نہیں کرتے۔“

مزید :

عرب دنیا -