’اوورسپیڈنگ کی آبادی اور انڈر سپیڈنگ کی معیشت خونی انقلاب کے لئے بہترین سکرپٹ ‘احسن اقبال نے حکومت کو خطرناک تنبیہ کردی

’اوورسپیڈنگ کی آبادی اور انڈر سپیڈنگ کی معیشت خونی انقلاب کے لئے بہترین ...
’اوورسپیڈنگ کی آبادی اور انڈر سپیڈنگ کی معیشت خونی انقلاب کے لئے بہترین سکرپٹ ‘احسن اقبال نے حکومت کو خطرناک تنبیہ کردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کےمرکزی سیکرٹری جنرل احسن اقبال نےکہاہےکہ معیشت،سیاست،معاشرت اورسفارت کسی بھی ملک کی ترقی کے چار  پہیےہوتےہیں ،آج یہ چاروں پہیے پنکچر ہوچکےہیں،بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے پاکستان کی خود مختاری کو فروخت کردیا گیا ہے،اوورسپیڈنگ کی آبادی اور انڈر سپیڈنگ کی معیشت  کسی بھی ملک میں خونی انقلاب پیدا کرنے کے لئے ایک بہترین سکرپٹ ہے، اگر ہم نے گالی گلوچ کی سیاست جاری رکھی تو پھر پاکستان کو خونی انقلاب سے کوئی نہیں روک سکتا،مسلم لیگ ن پاکستان کی ماں ہے،لاہور کے عوام نے ایک بارپھرثابت کردیاکہ پاکستانی عوام کی آواز کو نہ طاقت سےدبایا جاسکتا ہےاورنہ نوٹوں سےخریداجاسکتا ہے۔

 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج یہ حکومت پاکستان میں جس طرح کا انتشار پیداکررہی ہے،سیاسی ،فکری اور نظریاتی انتشار پیدا کر رہی ہے ،اس سے پاکستانی قوم تقسیم در تقسیم کےعمل سےگزر رہی ہے،ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان کی ترقی اور یکجہتی کےسفر کو ختم کرنےکیلیے2018ءسےپہلےجھوٹی خبریں پھیلائی گئیں ،جھوٹےوعدےکیے گئے،پانامہ کا ڈرامہ کیاگیا ہنستے کھیلتے ،پھلتےپھولتے پاکستان کولاچاربھوکےپاکستان میں تبدیل کردیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ سوا تین سال جتنی مسلم لیگ ن اورنوازشریف  کی کردار کشی کی گئی،جتنا مسلم لیگ ن کے خلاف زہر گھولا گیا،پاکستان کی عوام نےاسےردی کی ٹوکری میں پھینک دیاہے،چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب جھوٹی الف لیلیٰ کی کہانیاں ہیں ، جھوٹی الف لیلیٰ کی کہانیوں پر جھوٹے مقدمے بنائے گئےاور ان مقدموں کے ذریعے ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا لیکن فتح اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی کیونکہ وہ جھوٹے مقدمے عدالتوں کے سامنے جا کر جھوٹے ثابت ہوئے ۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو ہمیں انتشار سے نکال کر دوبارہ یکجہتی پر لانا ہے،ہمیں پاکستان کو گالیوں کی سیاست سے دوبارہ احترام کی سیاست پر لے کر آنا ہے،ملک کو سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے، اگر ہم نے گالی گلوچ کی سیاست جاری رکھی تو پھر پاکستان کو خونی انقلاب سے کوئی نہیں روک سکتا،یہ بھوکے ننگے عوام ،یہ بپھرے ہوئے نوجوان  فیکٹریوں کو لوٹیں گے،بڑے، بڑے محلات کو لوٹیں گے اور اس ملک کے اندر ایک ایسی اَنارکی پیدا ہوگی جس کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے،چونکہ دنیا میں ہم  نے سب سے زیادہ اوورسپیڈنگ کر کےاپنی آبادی میں اضافہ کیا ہے،جس اوورسپیڈنگ سے ہم نے آبادی میں اضافہ کیا ،اس حساب سے ہم نے معیشت کو ترقی نہیں دی بلکہ ہم معیشت کو انڈر سپیڈنگ پر لے آئے ہیں ،اوورسپیڈنگ کی آبادی اور انڈر سپیڈنگ کی معیشت یہ کسی ملک میں خونی انقلاب پیدا کرنے کے لئے ایک بہترین سکرپٹ ہے،ہم نے پاکستان کو اس انجام سے بچانا ہےاوراس کو بچانے کے لئے ہمیں پاکستان کو ان نالائقوں اور نا اہلوں سے نکالنا ہے جو کہ کسی اور دنیا میں رہتے ہیں،اس بات کی اجازت ہم نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہاکہ معیشت برباد ہوگئی ہے,معاشرت آپ نے سیالکوٹ میں دیکھی لی ہے,سیاست انتشار میں جھونک دی گئی ہےاور سفارت یہاں پر ہے کہ ہندوستان کشمیر اُچک کر لے گیا ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں،کسی بھی ملک کی طاقت کے معیشت ، سیاست ،معاشرت اور سفارت یہ چار پہیے ہوتے ہیں ،آج یہ چاروں پہیے پنکچر ہو چکے ہیں تو ہم کیسے توقع رکھتے ہیں کہ ہم پاکستان کی خود مختاری کا دفاع کر سکیں گے؟ آج اس حکومت نے صرف زندہ رہنے ،وینٹی لیٹر پر چلنے اور پیسے لینے کے لئے جو عالمی معاہدے کئے ہیں وہ پاکستان کی خود مختاری کو سرینڈر کرنے کی دستاویزات ہیں،اگر ہم پاکستان کو خود مختار ملک کہیں تو  خود کو  دھوکہ ضرور دے سکتے ہیں لیکن ہم اپنی خودمختاری ان چند ارب ڈالروں کے لئے بیچ چکے ہیں جو اس حکومت کی نالائقی اور ناکامی کی وجہ سے ہمیں ادھار لینے پڑے ہیں ،آج یہ حکومت اپنی ناکامی اور نالائقی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس کے عوض پاکستان کی خود مختاری کا سودا کر چکی ہے ،کیا کسی کو اس کا احساس ہے ؟۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایک ایٹمی ملک کی خودمختاری سرنڈر کرکے اسے نہیں چلایا جاسکتا،یہ ایک ایسا پوائنٹ ہے جو آج ہر پاکستانی کے لئے لمحہ فکریہ ہے،آج پاکستان جہاں پہنچ چکا ہے ،اسکو آپ ٹینکوں اور توپوں سے نہیں بچاسکتے ،آج پاکستان کے عوام کو جس انتشار میں دھکیل دیا گیا ہے،ہم تقریروں اور گالیوں سے اسکو نہیں بچا سکتے،آج پاکستان کو جس ہتھیار کی ضرورت ہے،اس کانام ’قوت ،اخوت ،عوام‘ہے،یہ وہ ہتھیار ہے جو پاکستان کو دوبارہ کھڑا کر سکتا ہے ،مسلم لیگ ن اسی ہتھیار کے ذریعے پاکستان کی تعمیر نو کرنا چاہتی ہے،ہم نے 2013ء اور 2018ء میں پیپلز پارٹی کی سندھ کی حکومت ،خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی حکومت اور پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت میں کبھی فرق نہیں کیا تھا ،چونکہ ہم   ’قوت ،اخوت ،عوام‘پر یقین رکھتے تھے،ہم  ے نیشنل ایکشن پلان کے اندر سب کو اکٹھا کیا ،انہیں بھی اکٹھا کیا جو کنٹینر پر کھڑے ہو کر ہمیں گالیاں نکالتے تھے ،ہم نے سی پیک کے اندر سب کو اپنے ساتھ بیجنگ میں لے جا کر کھڑا کیا اور پاکستان کا مقدمہ سب کے ساتھ مل کر پیش کیا کیونکہ ہم  ’قوت ،اخوت ،عوام‘پر یقین رکھتے تھے۔

مزید :

قومی -