ملالہ یوسفزئی اور عابیا اکرم دنیا کی 100 بااثر خواتین میں شامل

ملالہ یوسفزئی اور عابیا اکرم دنیا کی 100 بااثر خواتین میں شامل
ملالہ یوسفزئی اور عابیا اکرم دنیا کی 100 بااثر خواتین میں شامل

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)2021 ءمیں دنیا کی100 بااثر ترین خواتین کی فہرست میں پاکستان کی دو خواتین بھی شامل ہیں۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کی جانب سے ترتیب کی گئی اس فہرست میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی اور ڈس ایبلٹی لیڈر عابیا اکرم کو شامل کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ملالہ یوسفزئی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم سماجی کارکن ہیں جو سماجی تنظیم ملالہ فنڈ کی بانی بھی ہیں۔ دوسری جانب عابیا اکرم جسمانی طور پر معذور لیکن بہت ہی باہمت خاتون ہیں، وہ 1997ء سے طالبہ سپیشل ٹیلنٹ ایکسچینج پروگرام کے آغاز سے جسمانی معذوری سے متعلق تحریک میں سرگرم ہیں، وہ پاکستان سے دولت مشترکہ کے کامن ویلتھ ینگ ڈس ایبلڈ فورم کے لیے نامزد کی جانے والی پہلی رابطہ کار ہیں جبکہ نیشنل فورم آف ویمن ود ڈس ایبلٹی کی بانی بھی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی اس فہرست میں افغانستان کی 50 خواتین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس سال 100 خواتین میں ایسی شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جارہا ہے جنہوں نے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور زندگی کو دوبارہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

دوسری طرف عابیہ اکرم نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو  کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں معذور افراد کو گناہوں کی سزا، آزمائش یا اللہ لوگ سمجھا جاتا ہے،ان دونوں صورتوں میں انھیں گھروں میں عمر قید کی سزا سنا دی جاتی ہے اور انھیں معاشرے میں شامل نہیں کیا جاتا،اگر کوئی شخص کسی قسم کی معذوری کا شکار ہے تو انھیں خود کو منوانے کے لیے تقریباً ہر دن ہی جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور انھیں خود بھی ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا،معذور افراد کو لے کر لوگوں کے رویے بہت مختلف ہوتے ہیں، لوگوں کو لگتا ہے کہ معذور افراد کچھ نہیں کر سکتے، یہ باہر جا کر کیسے پڑھ سکتے ہیں،لوگوں کے دماغ میں میرے بارے میں بھی ایسی ہی رائے تھی، اس سوچ کو بدلنے کے لیے مجھے بہت جدوجہد کرنا پڑی۔انہوں نےکہاکہ اگر کوئی معذور فرد باہر جاتا ہے تو اسے اوپر لانے کے لیے چار پانچ لوگوں کی مدد درکار ہوتی ہے،ہم سیڑھیاں تو بنا دیتے ہیں لیکن ریمپ نہیں بناتے اور پھر کہا جاتا ہے کہ بے چارے معذود لوگ، قوت سماعت سے محروم افراد کے لیے ہسپتالوں میں سائن لینگوئج (اشاروں کی زبان) سمجھنے والا کوئی نہیں۔عابیہ اکرم کا کہنا تھا کہ معذوری کو اپنے اوپر سوار کر کے اسے کوئی مجبوری نہ سمجھیں، اپنی ڈس ایبلٹی کو قبول کریں، اسے اپنی طاقت بنائیں اور پھر سوچیں کہ آپ معاشرے کے دوسرے لوگوں کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ کس طرح آپ مثبت انداز میں سوسائٹی کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

مزید :

برطانیہ -