قائمہ کمیٹی کا بینہ سیکرٹریٹ میں سول سرونٹس (ترمیمی) بل اور اوگرا (ترمیمی) بل منظور 

  قائمہ کمیٹی کا بینہ سیکرٹریٹ میں سول سرونٹس (ترمیمی) بل اور اوگرا (ترمیمی) ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکر ٹریٹ نے سول سرونٹس (ترمیمی) بل اور آئل اینڈگیس ریگولیٹری اتھارٹی (ترمیمی) بل منظورکر لئے،کمیٹی نے ملک میں حالیہ سیلاب کے متاثرین کی بحالی کی تفصیلات کے  لئے پی ڈی ایم اے کو طلب کر لیا۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکر ٹریٹ کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی کشور زہرا کی زیر صدارت ہوا۔  اجلاس میں  سول سرونٹس(ترمیمی) بل2021کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد کمیٹی نے بل کی منظوری دے دی۔کمیٹی کو چیئرمین اوگرا نے بتایا کہ پاکستان  میں دو  ایل این جی ٹرمینل چل رہے ہیں ہم کو دو مزید لگانے کا کہا گیا ہے جس کے لیے دوباہر کی کمپنیوں سے بات ہوئی ہے ایک قطر کی کمپنی ہے، ہم اوگرا کے معاہدے کے حوالے سے حاضر ہوئے تھے،یہ قومی فائدے کا معاملہ ہے اس کی اجازت دے دینی چاہئے،جن تھرڈ پارٹیوں کے ساتھ معاہدہ ہونا ہے وہ کہتی ہیں کہ جو ایسیڈز ہم باہر سے لائیں گے ان پر اپنا کنٹرول چاہیے،پاکستان میں اس سے پہلے صرف دو ہی ٹرمینل چل رہے ہیں۔رکن کمیٹی محمد ابو بکر کا کہنا تھا کہ اگر ان کمپنیوں کو اپنی مرضی پر چھوڑا گیا تو وہ اپنی من مانی کریں گی۔ کمیٹی ارکان کے ایل این جی کی قیمت کے حوالے سے  سوال کے جواب میں چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس ایل این جی کا ایک یونٹ بھی پیدا نہیں ہوتاساری باہر سے لائی جاتی ہے اس لئے اس کی  انٹرنیشنل جو قیمت ہوتی ہے اس کے مطابق ہم بڑھاتے یا کم کرتے ہیں، اگر ہم سعودی عرب یا قطر سے آٹھ سال یا دس سال کا معاہدہ کر لیں تواس معاہدے کے مطابق قیمت ادا کریں گے،بغیر معاہدے کے ریٹ کم زیادہ ہوتا رہتا ہے۔چیئرپرسن کمیٹی نے کہاکہ باہر کی کمپنیوں کی ڈیمانڈ کو ماننے سے ہم ڈیپینڈینٹ  نا ہو جائیں۔چیئرمین اوگرا کا کہنا تھا کہ میں سب سے درخواست کروں گا کہ اس کی منظوری دیں اس سے پاکستان میں مزید انویسٹمنٹ آئے گی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا چلو ہم آپ کا کہنا مان لیتے ہیں۔جوائنٹ سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ اب تک منسٹری نے  حالیہ بارشوں اورسیلاب متاثرین کے حوالے سے18ارب  روپے دئیے ہیں جوکہ چار طرح سے پہنچائے گئے،27لاکھ متاثرہ  خاندانوں کوبینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے  رقم دی گئی، جو این ڈی ایم اے کو ملی اس کی تفصیل چیئرمین این ڈی ایم اے دیں گے۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ کچھ امداد جو پوری دنیا سے ملی وہ بھی تقسیم کی اور حکومت کی جانب سے دی گئی امداد سے بھی متاثرین کو کھانے کے پیکٹس،ٹینٹ،اور ضروری سامان دیا گیا۔رکن کمیٹی محمدابوبکر نے کہا کہ یہ معلومات دیں کہ واقعی سامان حقداروں تک پہنچا؟کچھ لوگ ابھی بھی شکایات کر رہے ہیں کہ ابھی تک سکولوں اور خیموں میں ہیں۔چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ مقامی سیاسی نمائندوں اور سندھ حکومت کو بھی ساتھ شامل کر کے امداد پہنچائی گئی، پانچ لاکھ لوگوں کو سرکاری سکولوں میں رکھا گیا،ابھی بھی بحالی کا کام جاری ہے۔رکن کمیٹی محمد سجادنے کہا کہ خیبر پختونخوا کی کوئی رپورٹ ہے تو دکھائیں،آپ جو باتیں بتا رہے ہیں وہ صرف باتیں ہیں،2005کے زلزلے سے میں خود متاثر ہوا تھا،ادھر ابھی تک بحالی نہیں ہوئی،سکول خیموں میں ہیں،پیپر ورک میں سب کلیئر ہوتا ہے مگر کام نہیں ہوتا۔چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ میں نے2005کے زلزلے میں خود رضاکارانہ کام کیا تھا۔چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ زلزلے کے وقت ہمارا ادارہ نہیں تھا،آپ کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں ہمارے پاس سیلاب متاثرہ لوگوں گا ڈسٹرکٹ لیول تک کا ریکارڈ موجود ہے جب کہیں لے آئیں گے اور اس امدادی رقم کے دو آڈٹ ہونے ہیں جیسے ہی مکمل ہوں گے آپکو دکھا دیں گے۔قانون کے مطابق این ڈی ایم اے تیسرے نمبر پر جوابدہ ادار ہ ہے،بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے سامان کو لوٹنے والوں کا حساب لیا جانا چائیے۔ممبران کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اے کو بھی کمیٹی میں بلانا چائیے اور ان سے بھی امداد کی ترسیل کے متعلق رپورٹ لینی چاہئے جس پر کمیٹی نے اگلی میٹنگ میں پی ڈی ایم اے کو  بھی طلب کر لیا۔(ش خ)

قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -