صحت کے شعبے میں نرسنگ کونسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے 

  صحت کے شعبے میں نرسنگ کونسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے 

  

 اسلام آباد (این این آئی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے کہاہے کہ صحت کے شعبے میں نرسنگ کونسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کا مسئلہ نرسنگ کونسل کا معیار ہے،نرسنگ کونسل میرٹ پر چلے،تشکیل صحیح طریقے سے ہو، کیا بھرتیاں ایکٹ کے مطابق ہوئیں یا نہیں؟۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس چیئرمین ہمایوں مہمند کی زیر صدارت ہوا جس میں چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ صحت کے شعبے میں نرسنگ کونسل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان کا مسئلہ نرسنگ کونسل کا معیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ نرسنگ کونسل میرٹ پر چلے،تشکیل صحیح طریقے سے ہو، کیا بھرتیاں ایکٹ کے مطابق ہوئیں یا نہیں؟۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ سب سے پہلے اس پر بات ہو گی۔ چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ 1973 کا ایکٹ ہے اور آج تک رولز نہیں بنے،اسپیشل سیکرٹری صحت نے رجسٹرار کی تعیناتی کو غیر قانونی کہا تھا۔ سیکرٹری صحت نے کہاکہ رجسٹرار نرسنگ کونسل کو پروموشن پر اس عہدے پر بھیجا گیا چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ پارلیمانی سیکرٹری کیا صدر پاکستان نرسنگ کونسل ہو سکتی ہے؟  پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر شازیہ ثوبینہ نے کہاکہ میرے علم کے مطابق رولز بنے بھی تھے لیکن وزارت صحت میں پڑے رہے پتہ نہیں کیوں سیکرٹری صحت نے کہاکہ نیب آرڈیننس کے بھی رولز نہیں بنے ہوئے تھے۔ رکن کمیٹی روبینہ خالد نے کہاکہ سب سے پہلے یہ تو پتہ چلے کہ تعیناتی کے خلاف شکایت کرنے والا کون ہے۔ پٹیشنرز ملک عثمان نے کہاکہ نرسنگ کونسل کے گارڈز کا رویہ ہی بہت برا ہوتا ہے۔ نرسنگ کونسل حکام نے بتایاکہ 511 رجسٹرڈ ماسٹرڈ نرسنز موجود ہیں۔ سیکرٹری صحت نے کہاکہ اگر پٹیشنر کا کوئی ذاتی مسئلہ ہے تو بتائیں اس کو حل کرتے ہیں۔ رکن کمیٹی روبینہ خالد نے کہاکہ ہم ڈاکٹرز پر ہی ہمیشہ بات کرتے ہیں نرسز پر بھی دھیان دینا چاہیے چیئر مین کمیٹی نے کہاکہ یہ بتائیں کہ کیا نرسنز کی ٹریننگ ٹیچنگ ہسپتال میں کروائی جاتی ہیں، کچھ کالجز پمز کے ساتھ معاہدے میں ہیں۔روبینہ خالد نے کہاکہ ہمیں فہرست فراہم کر دی جائے کہ کون سے کالجز کس ہسپتال کے ساتھ نرسز کی تربیت کروانے کے معاہدے میں ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری صحت نے کہاکہ 120 کالجز کے پی میں کس طرح سے بنا دیئے گئے ہیں۔ شازیہ ثوبینہ نے کہاکہ سروس رولز اگر بنے ہوئے ہیں تو وزارت میں جا کے ہر کام قانون کے مطابق کروں مجھے دیں۔ انہوں نے کہاکہ ایک پی ایچ ڈی نرس کو بھی نکال دیا گیا، مجھے بھی کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے، میں نے رجسٹرار کی ایکسپلیشن کال کی اور انہوں نے آگے سے کال کروا دی کہ آپ کیسے ریکارڈ مانگ رہی ہیں، وزارت نے بھی ساتھ نہیں دیا۔

قائمہ کمیٹی 

مزید :

صفحہ آخر -