کھاد بحران، ڈیلرز کیخلاف آپریشن تیز، متعدد دکانیں سیل

کھاد بحران، ڈیلرز کیخلاف آپریشن تیز، متعدد دکانیں سیل

  

 راجن پور، خان گڑھ، لیاقت پور، دھنوٹ، کہروڑ پکا(نامہ نگار، نمائندہ پاکستان، سٹی رپورٹر، نمائندہ خصوصی)ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم  کی ہدایت پر کھاد ڈیلروں کیخلاف اور زیادہ منافع خوری کرنے والے ڈیلر حضرات کے خلاف زیادہ قیمت پر کھاد لینے والے (بقیہ نمبر2صفحہ6پر)

کسانوں کی شکایت پر ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) راجنپور کا بھرپور ایکشن۔جن میں کھاد ڈیلر عدنان احسان ولد خادم حسین عدنان احسان ٹریڈرز عطا مارکیٹ فاضل پورکویوریا کھاد مہنگی دینے پر مبلغ 20000 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔ نیز کسانوں کو اس پریس ریلیز کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا ہے جعلی کھادیں فروخت کرنے اور زیادہ منافع خوری کرنے والوں کے لیے مخبری کر کے اپنا کردار ادا کریں اس پریس ریلیز کے تحت  ڈائریکٹر زراعت (توسیع) ڈیرہ غازی خان مہار عابد حسین اور  ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع)راجن پور محمد آصف  نیکسانوں کو ہدایت کی ہے۔ جعلی کھاد بیچنے والوں اور زیادہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی مخبری کریں ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔درجنوں کسانوں میاں توقیر مصطفی مکول، مہر کالو سیال، میاں تنویر اظہر، ملک فیض بخش، میاں مختیار احمد بھٹی، ملک اقبال ابڑیند، ملک محمد فاروق ابڑیند، مہر صغیر سیال، نذیر احمد ملک، حافظ صغیر ملانہ و دیگر نے شدید احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ گندم کی بوائی کا سیزن شروع ہوتے ہی ضلع مظفرگڑھ بھر میں تلیری کینال مظفرگڑھ سمیت دیگر ندی نالوں میں نہری پانی بند کردیا گیا ہے جبکہ یوریا کھاد بھی خود ساختہ طور پر مہنگی کر کے 700 روپے فی بیگ اضافی اور بلیک نرخوں تک فروخت کی جا رہی ہے جبکہ زراعت افسران بھی کاروائی سے گریزاں ہیں متاثرہ کسانوں نے  سیکرٹری زراعت پنجاب اور سیکرٹری انہار پنجاب سے ضلع مظفرگڑھ کی بند نہروں میں پانی کی فراہمی اور کھاد ڈیلروں کے خلاف سخت نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے تحصیل بھر میں یوریا کھاد کا بحران دوبارہ سر اٹھانے لگا گندم کی کاشت متاثر ہونے کے بعد اس کی نگہداشت بھی مسلۂ بن گئی، کاشتکار یوریا کھاد کے لیئے در در کی ٹھوکریں کھانے لگے، کھاد ڈیل وں نیکنٹرول ریٹس کی بجائے بلیک میں فروخت کو مستقل کاروبار بنا لیاہے علاقہ عباسیہ کے کاشتکاروں محمد حسن، محمد رمضان، علی محمد، محمد حسین اور عزیز الرحمن نے کہا ہے کہ پہلے گندم کی کاشت ڈی اے پی کھاد بلیک فروخت کی وجہ سے متاثر ہوئی جس کی وجہ سے اس سال گندم کی کاشت کم ہوئی ہے اب جبکہ کاشتہ گندم کو یوریا کی ضرورت ہے شہر و ملحقہ علاقوں کے بلیک میلر کھاد ڈیلروں نے مذکورہ کھاد کنٹرول ریٹ 2250  کی بجائے 2800 سے 3000 روپے تک فروخت کرنا شروع کر رکھی ہے کسان سارا سارا دن مختلف دوکانوں پر دھکے کھانے کے بعد خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتے ہیں کھاد ڈیلر زائد ریٹس لینے کے علاوہ کھاد دینے سے انکار بھی کر رہے ہیں اس صورت حال سے گندم کی اوسط پیداوار شدید متاثر ہو رہی ہے چیکنگ پر متعین محکمے بھی آنکھیں بند کیئیہوئے ہیں کسانوں نے وزیر اعلی پنجاب سے کھاد ڈیلروں کے خلاف فوری کارروائی اور یوریا کھاد حکومتی نرخوں پر فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہیمحکمہ زراعت کسانوں کی شکایات کے ازالے کیلئے ہر وقت کوشاں ہے۔ مہر راشد۔ تفصیلات کے مطابق زراعت آفیسر مہر راشد نے میڈیا کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر لودھراں بابر رحمن وڑائچ اور اسسٹنٹ کمشنر اشرف صالح کی ہدایت پر  مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے۔  چوکی مستی دنیاپور روڈ پر شیخ عثمان اور خیر پور روڈ پر ساجد اینڈ کو کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ہوئے ان کی دکانیں سیل کر دیں۔ کسانوں کو مہنگی کھاد ملنے کی شکایات پر فوری کارروائی کی جارہی ہے۔ غیر ملکی کھاد زیادہ نرخوں پر فروخت کرنے کی وجہ سے دکاندار کو بیس بیس ہزار کا جرمانہ بھی کیا گیا۔ مہر محمد راشد کا کہنا ہے کہ یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ناجائز منافع کرنے والے ڈیلروں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ڈپٹی کمشنر بابر رحمان وڑائچ، اسسٹنٹ کمشنر کہروڑپکا محمد اشرف صالح کی ہدایت پرپرائس کنٹرول مجسٹریٹ، ایگریکلچر آفیسر مہر راشد نے اڈہ چوکی مستی پر شیخ عثمان اور پل چورواہ  پر ساجد اینڈ کو کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے ہوئے ان کی دکانیں سیل کر دیں ں۔غیر ملکی کھاد زیادہ نرخوں پر فروخت کرنے کی وجہ سے شاہ اینڈ کوپل چورواھ کو بیس ہزار کا جرمانہ کیا گیااورموقع پر زمینداروں کی شکایت کا ازالہ کیا گیا یہ دونوں ڈیلر یوریا کھاد زائد دکانوں پر فروخت کر رہے تھے مھر محمد راشد کا کہنا ہے کہ یوریا کھاد کی بلیک مارکیٹنگ کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ناجائز منافع کرنے والے ڈیلروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی گی جبکہ چیف آفیسر میونسپل کمیٹی را مختیاراحمد نیمین بازار میں مختلف دوکانوں کا وزٹ کیااور گورنمنٹ آف پنجاب کے مقرر کردہ ریٹ سے زائد پر اشیا بیچنے پر مختلف دکانداروں کو جرمانے اور وارننگ دی گئی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -