ایکنک، سیلاب سے تباہ انفرسٹر کچر کی بحالی کیلئے 414ارب60کروڑ روپے کی منصوبوں کی منظوری 

      ایکنک، سیلاب سے تباہ انفرسٹر کچر کی بحالی کیلئے 414ارب60کروڑ روپے کی ...

  

      اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیرخزانہ اسحق ڈار کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس ہوا جس میں سیلاب سے تباہ ہونے والے انفرا اسٹرکچر کی بحالی کیلئے 414 ارب 60 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کی منظوری دیدی گئی۔اعلامیہ کے مطابق انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے منصوبے چاروں صوبوں کے متاثرہ اضلاع کیلئے ہیں، منصوبوں میں سڑکوں اور  پْلوں کی دوبارہ تعمیر کو اہمیت دی گئی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں آزاد کشمیر میں بھی متعدد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کی مطابق ایکنک نے سیلاب زدہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری دی ہے۔اہم منصوبوں میں مورو سے رانی پور این فائیو شاہراہ کی تعمیر نو اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) فلڈ ایمرجنسی لون کے تحت 32 تباہ شدہ پل بھی تعمیر کیے جائیں گے۔اس منصوبے پر 36 ارب روپے سے زیادہ لاگت آئے گی، اے ڈی بی 32.5 ارب جبکہ حکومت 3.6 ارب روپے خرچ کرے گی۔ایکنک نے 48 ارب 32 کروڑ روپے کی لاگت کے سندھ فلڈ ایمرجنسی بحالی منصوبے کی بھی منظوری دی۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہیکہ آبپاشی کے اس منصوبے کیلئے فنڈز عالمی بینک فراہم کرے گا۔اجلاس میں سندھ میں 66 ارب روپے لاگت کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر،خیبر پختونخوا میں سیلاب سے تحفظ کیلئے 15 ارب روپے کا منصوبہ منظور کیا گیا۔بلوچستان میں بحالی و تعمیر نو کے ساڑھے 12 ارب روپے لاگت کے منصوبے کی منظوری دی گئی۔ سندھ کے 23 اضلاع میں زرعی ٹرانسفارمیشن پر 70 ارب 44 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ایکنک نے 3 ارب 82 کروڑ روپے کی لاگت کے فارم واٹر منیجمنٹ منصوبے کی بھی منظوری دی۔

ایکنک

 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزارت خزانہ نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں،ملک کی معاشی صورتحال استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ پٹڑی پر آگیا ہے جبکہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی اورایف بی آر ریونیو میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔منگل کووزارت خزانہ کے اعلامیہ میں معاشی ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے زیر گردش خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی بہتری اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں جو کہ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف ہے۔وزیر خزانہ اسحق ڈار نے ا س حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ پیغام میں مذکور نو نکات کا محض پڑھنا ہی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تجاویز کس حد تک مفید ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں موروثی طاقت اور تنوع کے پیش نظر پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ کرنا بھی بالکل نامناسب ہے موجودہ مشکل معاشی صورتحال بنیادی طور پر اجناس کی سپر سائیکل، روس-یوکرین جنگ، عالمی کساد بازاری، تجارتی سر گرمیوں، فیڈ کی پالیسی ریٹ میں اضافہ اور بے مثال سیلاب سے تباہی جیسے خارجی عوامل کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے بیرونی عوامل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، یہاں تک کہ جب اسے غیر معمولی سیلاب کے معاشی نتائج کا سامنا ہو اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنا پڑے۔ حکومت وقت پر تمام بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو پورا کرتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اس مشکل معاشی صورتحال میں حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کیے ہیں۔دوسری جانب چینی،امریکی سفیر اور اور برطانوی ہائی کمشنرنے پاکستان کو سیلاب کے نقصانات سے نمٹنے میں ہر ممکن مدد کا یقین دلادیا۔یہ یقین دہانی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے تینوں ملکوں کے سفیروں نے الگ الگ ملاقاتوں میں کرائی۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے دونوں ممالک اپنے اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔

اسحق ڈار

مزید :

صفحہ اول -