روس سے رعایتی تیل اور گیس کی درآمد 

روس سے رعایتی تیل اور گیس کی درآمد 

  

وزیر مملکت برائے پیٹرولیم مصدق ملک نے دورہ روس سے واپسی کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دورہ روس اُن کی توقعات سے زیادہ کامیاب رہا، روس ہمیں دوسرے ممالک کو دی جانے والی رعایت کے برابر یا اُس سے زیادہ رعایتی نرخوں پر خام تیل کے ساتھ ساتھ پاکستان کو پٹرول اور ڈیزل فراہم کرے گا جس کے لیے مطلوبہ معاہدے بھی کر لیے گئے ہیں۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو گیس کی قلت کا سامنا ہے جسے دور کرنے کے لیے  ایل این جی کی فراہمی پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے، نجی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ایل این جی کارخانوں سے بھی بات چیت شروع ہو چکی ہے، روسی حکومت ایل این جی کی پیداوار کے لیے نئی فیکٹریاں لگا رہی ہے اور اُنہوں نے پاکستان کو 2025-26 ء کے طویل مدتی معاہدوں پر بات چیت شروع کرنے کی دعوت دی ہے، روس پاکستان کو پائپ لائن گیس کی فراہمی میں دلچسپی رکھتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان پاکستان سٹریم (نارتھ ساؤتھ پائپ لائنز) اور ایک اور عالمی بڑی پائپ لائن کے حوالے بھی سے بات چیت شروع ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کا ایک سرکاری وفد آئندہ سال جنوری میں پاکستان کا دورہ کرے گا،اُمید ہے اُس وقت تک یہ معاملات اِس حد تک پہنچ جائیں گے کہ دونوں ممالک کے درمیان مزید معاہدوں پر دستخط کیے جا سکیں۔ وزیر مملکت نے یہ بھی کہا کہ ایران نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 لاکھ پاؤنڈز کی اضافی ایل پی جی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ گیس آئندہ 10 روز میں پاکستان پہنچ جائے گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ روس کے ساتھ ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر آگے بڑھ رہے ہیں، پاکستان نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں توانائی فراہمی سالانہ 8 سے 10 فیصد بڑھانا ہوگی، ملک کی معیشت کو سات  فیصد تک آگے بڑھانا  ہو گا، معیشت بڑھے گی تو روزگار ملے گا۔ واضح رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) روس سے ایک لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی بھی منظوری دے چکی ہے۔ روس سے تیل خریدنے کی بحث اُس وقت شروع ہوئی تھی جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے روس کا دورہ کیا تھا، اُن کے دورے پر نہ صرف ملک کے اندر بلکہ باہر بھی سوالات اٹھائے گئے تھیکیونکہ وہ جس دن ماسکو پہنچے اُسی دن روس کی یوکرین سے جنگ چھڑ گئی تھی۔عمران خان نے دورے سے واپسی پر قوم کو بتایا تھاکہ وہ روس سستا تیل لینے گئے تھے،پاکستان کو 30 فیصد رعایتی نرخوں پر تیل مل سکے گا تاہم اُنہی دنوں روسی سفیر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کا تیل سے متعلق روس کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ملک بھر میں روس سے تیل کی درآمد پر تب سے اب تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے زیادہ بحث اِن نکات پر تھی کہ کیا پاکستان روس سے درآمد شدہ تیل استعمال کر سکتا ہے اور کیا پاکستانی ریفائنریز میں روسی خام تیل کو پراسیس کرنے یعنی قابل استعمال بنانے کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے؟ پہلے سوال کا جواب چند روز قبل اُس وقت سامنے آیا جب خبر آئی کہ امریکہ کو پاکستان کے روس سے تیل درآمد کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ دوسرے سوال کا جواب ہے کہ روس کے پاس خام تیل کی مختلف اقسام موجود ہیں جن میں سے چند اقسام پاکستان استعمال کر سکتا ہے تاہم سلفر کی زیادتی کے باعث ہیوی کروڈ آئل (خام تیل) پاکستان میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، ہائی سلفر خام تیل کی پاکستان میں کھپت بھی نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق 20 سے 25 فیصد روسی خام تیل عرب لائٹ خام تیل کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جا سکتا ہے پاکستان ہلکا اور کم سلفر والا روسی تیل استعمال کر سکتا ہے تاہم آپریشنل مسائل کے باعث فی الحال یہ 30 فیصد تک ہی استعمال کیا جا سکے گا تاہم اِسے مستقبل قریب میں 50 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

وزیر مملکت کے دورہئ روس سے پہلے حکومت نے چار ریفائنریز اور آئل کمپنیوں سے تکنیکی اعتبار سے سفارشات بھی طلب کی تھیں جس کے جواب میں ریفائنریوں نے حکومت کو بتایا کہ روس کی بعض اقسام مشرق وسطیٰ کے خام تیل جیسی ہیں اور ریفائن کی جا سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس سے تیل درآمد کرنے میں تکنیکی معاملات کے علاوہ بھی چند مسائل ہیں جیسا کہ ریفائنریاں تیل کمپنیوں سے خام تیل درآمد کرنے کے لیے طویل عرصے کے معاہدے کرتی ہیں، اِن کمپنیوں کو فوری تیل لینے سے منع نہیں کیا جا سکتا، روس سے تیل درآمد کرنے کے لیے گزشتہ معاہدوں میں رد و بدل کرنا ہوگا جو فوری طور پر کیا جانا شاید ممکن نہ ہو سکے۔ مشرق وسطیٰ سے خام تیل منگوانے میں وقت کم لگتا ہے جبکہ نقل و حمل کے اخراجات بھی کم ہیں، روس سے آنے والے خام تیل کے اخراجات چار گنا زیادہ ہیں اور تیل روس سے پاکستان پہنچنے میں 22 روز جبکہ مشرقی وسطیٰ سے تین سے چار روز لگتے ہیں۔ روس سے تیل منگوانے پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ڈالر میں تجارت کرنے پر پابندی ہے، روس کو ڈالر کی مد میں ادائیگی کی صورت کوئی بھی بینک لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) نہیں کھولے گا، اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کو روس سے معاہدہ کرنا ہوگا جس کے تحت ادائیگی کا طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ روس سے خام تیل منگوانے پر فریٹ چارجز بھی زیادہ ہوں گے۔ متعلقہ ماہرین کی رائے میں روس اگر مناسب رعایت دے تو مندرجہ بالا مسائل سمیت دیگر مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔  

ملکی معیشت پر تیل اور گیس کا درآمدی بل ناقابل برداشت حد کو چھو رہا ہے، تیل اور گیس کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کے باعث درآمدی بل کم ہونے کا امکان نظر نہیں آ رہا۔ برآمدات میں مطلوبہ خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے اور مہنگی گیس اور تیل کی خریداری کی وجہ سے تجارتی خسارہ بھی قابو سے باہر ہے۔ مالی سال 2021-22ء کے اختتام پر درآمدی بل 80 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا جو مالی سال 2020-21ء کے 58.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں 42فیصد زائد تھا، اِسی عرصے میں ملک کو لگ بھگ 49 ارب ڈالر کا تاریخی تجارتی خسارہ برداشت کرنا پڑا جو گزشتہ مالی سال میں قریباً 31ارب ڈالر تھا۔ روس سے تیل درآمد کر کے چند ہفتوں یا مہینوں میں عوام تک پہنچانا شاید ممکن نہ ہو تاہم مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے، عوام کو ریلیف دینے اور ملک کی معاشی صورت حال بہتر بنانے کے لیے ایسے معاہدے خوش آئند ثابت ہو سکتے ہیں۔ دیگر ملکی معاملات میں بہتری لانے کے لیے بھی آج ہی سے منصوبہ بندی شروع کر دینی چاہیے، پاکستان کا المیہ یہی ہے کہ کہ اولاً تو حکومتیں اور متعلقہ ادارے مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر فیصلے نہیں کرتے اگر ایسا کر بھی لیا جائے تو اہل ِ سیاست اتنی گرد اُڑاتے ہیں کہ حقائق چھپتے چلے جاتے ہیں۔قطر سے ایل این جی کی فراہمی کے طویل المدتی معاہدے پر تنقید اِس کی ایک انتہائی بری مثال ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسائل میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -