تہذیب یافتہ معاشرہ ادب کا رہین منت

 تہذیب یافتہ معاشرہ ادب کا رہین منت
 تہذیب یافتہ معاشرہ ادب کا رہین منت

  

 ادب ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہے اور مشاعرے ہماری ادبی روایات کے امین ہیں جب تک ہم نے ادب کے فروع کو مقدم جانا ہمارا معاشرہ تہذیب یافتہ کہلایا اور جب سے ادبی خدمات کا فقدان ہوا معاشرتی بگاڑ بھی شروع ہو گیا ایک وقت تھا کہ مشاعروں کی خوشبو شہر شہر پھیلی ہوتی جس سے معاشرہ بھی مہکا مہکا محسوس ہوتا اب تو جیسے خوشبوؤں نے کہیں اور ٹھکانہ کرلیا ہے فیص احمد فیض احمد۔ ندیم قاسمی۔قتیل شفائی اور احمد فراز تک بہترین ادب تخلیق ہوا اور ادبی خدمات کا سلسلہ دراز رہا پھر اس کے بعد شاعری کا وہ وقار نہیں رہا، عہد حاضر میں دو ایک شاعر ادیب ہماری ادبی روایات کے پاسدار ہیں لیکن مجموعی صورتحال بڑی مخدوش ہے ادب کے وہ ذائقے وہ لطافتیں ہی نہیں رہیں ایسا نہیں کہ اچھا ادب تخلیق نہیں ہورہا بلکہ یوں ہے کہ بہت کم کم خالص ادب منظر عام پر آرہا ہے کیونکہ نمائشی لوگوں نے ادب کو بہت نقصان پہنچایا ہے کہ مشاعروں کا مقصد اب ایڈووٹائز تک محدود ہوچکا ہے کاروباری لوگ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگ گئے ہیں جن کا ادب سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے وہ بھی ادب کا لبادہ اوڑھ کر ادب میں آگھسے ہیں جس سے ادبی لوگ بھی متاثر ہوئے کہ صحیح غلط کی پہچان ہی کہیں کھو کر رہ گئی ہے اور ادب پرور شخصیات نے بھی دامن بچانا ہی بہتر جانا پھر ادب کے نام پر مارکیٹ میں آنے والی غیر ادبی کتابوں نے بھی رہی سہی کسر نکال دی ہے یہی وجہ ہے کہ اب لوگ کتابیں پڑھنا چھوڑ گئے ہیں ورنہ ہر نئی کتاب کے مارکیٹ میں آنے کا انتظار رہتا طالب علموں کی کتابوں میں دلچسپی مثالی تھی اور اس کے طفیل طالب علموں کا میلان بھی مثبت سرگرمیوں کی طرف رہتا ادب کے شیدائی تو ادبی کتب کو سرہانے رکھ کر سوتے رات گئے تک کتابوں کا مطالعہ رہتا اب تو کتابوں کا شوق ہی خیال وخواب ہوکر رہ گیا ہے جس کی بڑی وجہ میں سمجھتا ہوں غیر معیاری کتابوں کا مارکیٹ میں آنا ہے وگرنہ ایک اچھا شعر شہر کی کسی دیوار پر لکھ دیا جائے تو وہ شہروں کا سفر طے کرتا ہوا ملک بھر میں پھیل جاتا ہے اب خوبصورت رنگوں سے مزین معیاری کاغذ کی کتابیں بھی کسی ایک اچھے شعر کا مقابلہ نہیں کرپاتیں یہ صرف ایک دوسرے کو پیش کرنے تک محدود ہیں جبکہ ان سے فیض حاصل کرنا تو رہا ایک طرف بندہ اپنا ادبی سواد ہی کھودیتا ہے ان تمام تر قباحتوں کے باوجود ایک سچا شعر کہنے والا شاعر اپنا وقار رکھتا ہے اگرچہ یہ ظاہری نمود و نمائش اسے حاصل نہیں ہوتی لیکن وہ شاعر دلوں میں جگہ ضرور پالیتا ہے لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک شاعر اور ادیب کو ادبی ماحول درکار ہوتا ہے جس سے اسے تحریک ملتی ہے اور وہ ادب کی خدمت میں لگ جاتا ہے اور اپنے معاشرے کو بہترین ادب تخلیق کرکے دیتا ہے اب اچھے ادب کی تخلیق میں ماحول بھی تو حائل ہے ایک وقت تک تھا سکولز کالجز میں بزم ادب سجائی جاتی اور تخلیقی ذہنوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملتے لیکن اب ہمارے پاکستانی سکولز کالجز میں شائد ہی کہیں ایسی محافل کا انعقاد ہوتا ہو اب تو یونیورسٹیز بھی سیاسی جلسوں کی نذر ہوتی دکھائی دیتی ہیں جب یونیورسٹیوں میں ہمارے سیاستدان ایک دوسرے پر الزامات دھریں گے اور غیر مہذب گفتگو ہوگی تو سوچئے ہماری نئی نسل کے ذہن کیا پرورش پائیں گے؟معیار تعلیم کیا ہوگا؟ اور طلباء اپنے مستقبل کے راستوں کا تعین بھی کیسے کریں گے؟ میں اپنے ملک کے بارے سوچتا ہوں تو ندامت ہوتی ہے کہ ہمارے سیاستدانوں نے ہمارا کیا حال کردیا ہے دنیا میں ہمارا تعارف کیا ہوگیاہے ہم کو یہ سیاستدان کہاں لے آئے ہیں ان کی زبانوں سے شائستگی مفقود ہو کر رہ گئی ہے ہمارے سیاست دان ایسی ایسی غیر ادبی گفتگو کرتے ہیں کہ سننے والا شرما کررہ جائے یہ سیاسی جماعتوں کے قائدین یہ بھی نہیں سوچتے کہ ہمارے بچے ہماری زبان درازیوں سے کیا سیکھتے ہوں گے ہمارے بارے کیا سوچتے ہونگے ہم ادبی بات چیت کے حوالے سے دہلی اور لکھنؤ کی مثالیں دینے پر مجبور ہوتے ہیں کہ وہاں ادب ایسا کہ’پہلے آپ‘’پہلے آپ‘ سے گاڑی چھوٹ جاتی ہے لیکن ادب کا دامن نہیں چھوٹتا ہمارے کراچی میں اہل زبان کو ہی لیجئے کہ وہ کیسی کیسی ناگوار باتیں بھی شستہ زبانی میں ڈھال دیتے ہیں جس سے بات کی چوٹ دِل پرایسی گہری نہیں لگتی ادب میں تو گالیاں بھی سلیقے سے دی جاتی ہیں کہ ’فلاں نے فلاں سے کیا کیا رشتے جوڑے‘ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ایک تہذیب یافتہ معاشرے کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں ادب کو فروغ دیں۔ اچھے ادب کو پذیرائی بخشیں۔بناوٹی لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں اور ہمارے رہنما بھی ادب کا سہارا لیں وگرنہ ہماری حالت تو بڑی خستہ ہو چکی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -