کمانڈ کی تبدیلی سے سیاستدانوں کے رویے بھی تبدیل ہونے لگے!

کمانڈ کی تبدیلی سے سیاستدانوں کے رویے بھی تبدیل ہونے لگے!

  

ملک میں کمانڈ کی تبدیلی سے سیاستدانوں کے رویے بھی تبدیل ہونا شروع ہو گئے ہیں جو پہلے پہل کسی کی بات سننے کیلئے تیار نہیں تھے وہ اب مذاکرات پر آمادہ دکھائی دے رہے ہیں اس کی پس پردہ وجوہات کچھ بھی ہوں مگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہیں کیونکہ ملک میں ایک طرف سیاسی کشیدگی بڑھتی جارہی ہے وہاں ملکی معیشت کو لاحق خطرات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں اگر سیاسی عدم استحکام کی صورت حال اسی طرح برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں ملک و قوم کو درپیش مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے کیونکہ ملکی معیشت کی بدحالی کی اصل وجہ سیاستدانوں کی آپس کی فرضی لڑائیاں بن رہی ہیں جس دن اقتدار کے اعلی ایوانوں میں موجود سیاستدانوں نے ذاتی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے خلوص نیت اور جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر آگے بڑھنا شروع کردیا اس سے اگلے دن سب کچھ ٹھیک ہونا شروع ہو جائے گا اور ملک ڈیفالٹ ہونے کے خدشات بھی دم توڑ جائیں گے۔

 اولیاء کرام کے مسکن تاریخی شہر ملتان میں 16 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی ہورہی ہے، پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیم 9 دسمبر کو ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں مد مقابل ہوگی۔دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اور آفیشل ملتان پہنچ گئے ہیں اور اس حوالے سے سیکورٹی کے بھی فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں اور 7 ہزار سے زائد پولیس کے جوان، افسران و دیگر سیکورٹی ادارے کے اہلکار کھلاڑیوں کی حفاظت پر مامور ہوں گے۔ ڈیڑھ دہائی بعد ملتان میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی یقینا کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔مگر میچ کے حوالے سے کیے گئے انتظامات اور اہم شاہراؤں کی بندش پر ملتان شہر کے سیاسی و سماجی حلقے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے یہ مطالبہ کررہے ہیں مختلف سڑکیں بند کرکے پریشان حال شہریوں کو مزید پریشان کرنے کی بجائے کھلاڑیوں کی آمد وفت کے متبادل انتظامات کیے جائیں یا پھر اسی طرح کے بین الاقوامی ایونٹ کیلئے ضروری ہے کہ گراونڈ کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں پر کھلاڑیوں کے قیام وطعام کا بھی اہتمام ہو اس سے شہریوں کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کم از کم اس سے تو چھٹکارہ ممکن ہو پائے گا۔

سابق وزیر اعظم و قائد حزب اختلاف سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی این اے 157 کے ضمنی انتخاب سے بیٹے علی موسی گیلانی کی جیت کے بعد کافی متحرک نظر آرہے ہیں اور مخالفین پر خوب تنقید کرتے ہوئے دیکھائی اور سنائی دے رہے ہیں گزشتہ دنوں لودھراں میں میڈیا سے گفتگو میں اْن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی غلط فہمی ہے کہ اگر الیکشن ہوئے تو انہیں دو تہائی اکثریت ملے گی، ہماری اتحادی جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں بڑی بااثر ہیں،آئندہ بھی مخلوط حکومت بنے گی،جو وزیر اعلیٰ ایک ایف آئی آ ر درج نہیں کروا سکا وہ اسمبلی کیسے توڑے گا اور عمران خان کو معلوم ہے کہ اگر وہ اسمبلیاں توڑ دیں گے تو صرف دو صوبوں میں ہی الیکشن ہوں گے، اس لیے وہ اسمبلیاں توڑنے کا رسک نہیں لیں گے،عمران خان کا جھوٹ پر مبنی بیانیہ ایکسپوز ہو چکا ہے۔عمران خان اگر حکومت کے ساتھ بات کرنا چاہتے ہیں تو غیر مشروط بیٹھیں تاکہ راستے نکلیں۔عمران خان غیر مشروط ہوکر بیٹھیں گے یا نہیں اس کے بارے میں تو حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جو آئندہ الیکشن کے بعد بھی مخلوط حکومت کے قیام کا دعوی کیا ہے اس سے کسی صورت بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ موجودہ سیاسی حالات جس تیزی کیساتھ بدل رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے تو یہی محسوس ہو رہا ہے کوئی بھی سیاسی جماعت دو تہائی اکثریت سے کامیاب نہیں ہو پائے گی بلکہ آئندہ بھی مانگے تانگے کی ہی حکومت بنے گی۔

حضرت شاہ رکن عالم کے 709 ویں سالانہ عرس مبارک کی تین روز تقریبات اختتام پذیر ہو گئی ہیں جس میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں مریدین نے شرکت کی۔عرس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت شدید دباؤ میں ہے،عوام مالی مشکلات کا شکار ہیں، معاشی حالات کے باعث ہر ایک فرد پریشانی میں مبتلا ہے۔آخر میں خصوصی دعا بھی کرائی دوسری جانب گورنر پنجاب انجینئر بلیغ الرحمن خصوصی دورے پر ملتان آئے مسلم لیگی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کرنے کے ساتھ گیلانی ہاؤس بھی گئے اور سابق وزیر اعظم کو بیٹے کی جیت پر مبارک باد دی۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعداد و شمار جاری کر دئیے ہیں جس کے مطابق یکم دسمبر تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 42 لاکھ 80 ہزار 500 گانٹھیں کپاس آئی۔ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 28 لاکھ 87 ہزار 618 گانٹھیں کم آئیں، کمی کی شرح 40.28 فیصد ہے، صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 25 لاکھ 15 ہزار 167 گانٹھ کپاس آئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں آنے والی فصل سے 11 لاکھ 63 ہزار 849 گانٹھ کم ہے، پنجاب میں کمی کی شرح 31.63 فیصد ہے، اسی طرح صوبہ سندھ میں کمی کی شرح 49.40 فیصد، یکم دسمبر 2022 تک آنے والی کپاس سے 41 لاکھ 59 ہزار 41 گانٹھ روئی تیار کی گئی، ضلع ملتان میں 40 ہزار 277 گانٹھیں، لودھراں میں 46 ہزار 980، خانیوال میں 2 لاکھ 8 ہزار 21، مظفر گڑھ میں 67 ہزار 532، ڈیرہ غازی خان میں 2 لاکھ 47ہزار، راجن پور میں 27 ہزار، لیہ میں ایک لاکھ23 ہزار، وہاڑی میں ایک لاکھ 63 ہزار، ساہیوال میں ایک لاکھ 66 ہزار، رحیم یار خان میں 3 لاکھ 94 ہزار، بہاولپور میں 2 لاکھ 82 ہزار، بہاولنگر میں 4 لاکھ 53 ہزار گانٹھیں کپاس فیکٹریوں میں آئی۔کپاس کے حوالے سے پی سی جی اے کے اعداد و شمار نے جہاں حکومت کے زراعت دوست دعوؤں کی حقیقت کھول دی ہے وہاں اس سے کاشتکاروں کی مشکلات کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انہیں کس طرح نقد آور فصل کپاس میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں سیاست سے بالا تر ہوکر شعبہ زراعت کی بحالی پر توجہ دیں اگر وہ اس میں کامیاب ہوگئیں تو اس سے نہ صرف ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا بلکہ پاکستان میں جو غذائی قلت کے بادل منڈلا رہے ہیں وہ بھی چھٹ جائیں گے۔

٭٭٭

پاکستان اور انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی ملتان پہنچ گئے،9دسمبر کو مدمقابل ہوں گے

گورنر بلیغ الرحمن کی ملتان آمد،عوامی اجتماع سے خطاب، پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں 

مزید :

ایڈیشن 1 -رائے -