انسان کے پاس جو چیز نہ ہو وہ کسی اور کے پاس دیکھ کر دکھی ہوتا ہے

 انسان کے پاس جو چیز نہ ہو وہ کسی اور کے پاس دیکھ کر دکھی ہوتا ہے
 انسان کے پاس جو چیز نہ ہو وہ کسی اور کے پاس دیکھ کر دکھی ہوتا ہے

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:73

صدیق سالک نو دو لیتے طبقے کے ناموں کے انگریزی مخففات کو ماضی سے فرار کا راستہ سمجھتے ہیں۔مثلاً اوّل الذکر مثال میں ”رحمو“ ایم۔اے چودھری“ بن جاتا ہے۔ زمبابوے کے سفر کا ”چراغ دین“ ”سی۔ڈی“ کہلانا پسند کرتا ہے۔ اسی طرح مضمون687 کلب روڈ کا محمد اکرم خان ”ایم۔اے۔کے“ کے الفاظ کے ساتھ چٹھہ کا اضافہ بھی کر لیتا ہے۔

اس موضوع سے سالک کی گہری دلچسپی کی وجہ خود ان کی اپنی زندگی ہے سالک نے غربت سے امارت کا سفر طے کیا ہے لیکن فرق یہ ہے کہ انہوں نے یہ مقام اپنی محنت اور قابلیت سے حاصل کیا‘ کسی چور دروازے سے نہیں اور پھر بڑا مقام حاصل کرنے کے بعد ان کی زندگی اس قسم کی آلائشوں سے پاک رہی انھیں کبھی اپنے ماضی پر ندامت نہیں ہوئی لیکن اپنے جیسے اور لوگوں کے اس روئیے کو خوب طنز کا نشانہ بناتے ہیں جو اپنا ماضی بھلا کر اعلیٰ طبقے میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اس کےلئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔

امراءسے نفرت بچپن کی غربت کا نتیجہ ہے یا امیر طبقے کے قریبی مشاہدے کا بہرحال یہ معاندانہ رویہ ان کے ہاں پایا جاتا ہے جس کا اظہار کبھی وہ اشارتاً اور کبھی برملا کرتے ہیں۔مثلاً:

”میَں اس کے گھر میں داخل ہوا تو دنگ رہ گیا اتنا بڑا اور عالیشان مکان‘ توبہ ایسی رہائش گاہ یا تو کسی سر براہ مملکت کی ہو سکتی ہے یا بہت بڑے سمگلر کی کیونکہ حلال کی کمائی سے اتنے ٹھاٹھ ممکن نہ تھے۔ گھر کے تمام بالغ افراد کےلئے ایک ایک کار تھی۔ مکان کے چاروں طرف وسیع اور خوبصورت باغ‘ 2سوئمنگ پول ایک سرد غسل کےلئے دو سرا گرم غسل کےلئے‘ گھر مکمل طورپر ائرکنڈیشنڈ اور نجی ملازموں کی فوج ظفر موج میں نے طے کر لیا کہ یہاں نہیں ٹھہروں گا ‘ پتہ نہیں کیوں بہت حسین عورتوں اور بہت دولت مندوں سے مجھے الرجی ہوتی ہے۔“

اس اقتباس سے صاحبِ ثروت طبقے سے ان کی واضح نفرت کے علاوہ کئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان کے مطابق بہت زیادہ دولت یقینا حرام کمائی سے آتی ہے اس لیے قابلِ نفرین ہے آخری سطر میں خود بھی اس روئیے کی وجہ جاننے سے انکار کرتے ہیں ‘” پتہ نہیں کیوں“ کے الفاظ اس کا ثبوت ہیں لیکن یہ عام سی بات ہے کہ انسان کے پاس جو چیز نہ ہو وہ کسی اور کے پاس دیکھ کر دکھی ہوتا ہے۔اس کی تائید جملے کے دوسرے حصے سے بھی ہوتی ہے یعنی ”بہت حسین عورتوں“ کو بھی انہوں نے اسی ذیل میں رکھا ہے۔ انہوں نے ”سلیوٹ“ میں ایک جگہ لکھا ہے:

”ہمارے پڑوس میں ان دنوں ایک ناک چڑھی لیڈی ڈاکٹر رہتی تھی جو مجھ سے سینئر اور میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہونے کی وجہ سے خاصی اکڑی اکڑی رہتی تھی۔

( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -