اس نے زندگی سے سبق سیکھ لیا ، اب وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا

 اس نے زندگی سے سبق سیکھ لیا ، اب وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا
 اس نے زندگی سے سبق سیکھ لیا ، اب وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:99

یورگس کی عادت بن گئی تھی کہ جب بھی اس کے پاس پیسے ہوتے وہ اتوار کا اخبار ضرور خریدتا۔ اسے 5سینٹ میں اتنا ضخیم اخبار خرید کر بہت خوشی ہوتی۔ دنیا جہان کی خبریں شہ سرخیوں میںچھپی ہوتیں جنھیں یورگس ہّجے کر کے پڑھتا۔ لمبے الفاظ کو پڑھنے میں بچے اس کی مدد کرتے۔ وہ صرف جنگ، قتل اور ناگہانی موت ہی سے واقف تھا لیکن دنیا میں ان کے علاوہ بھی بہت مزے کے اور دل چسپ واقعات ہوتے تھے۔ یورگس ان تمام خبروں کو سچ سمجھتا کیوں کہ اس کے خیال میں کوئی ایسی باتیں خود سے کیسے سوچ سکتا تھا ! اور پھر ان کے ساتھ ثبوت کے طور پر تصاویر بھی تو ہوتی تھیں۔ یہ کہانیاں ایک ان پڑھ اور تھکے ٹوٹے مزدور کے لیے بہت تفریح بخش ہوتیں۔دیگر چیزوں کے ساتھ اخبار میں کارٹون بھی ہوتے جنھیں ننھا آنٹا ناس بہت پسند کرتا تھا۔ وہ انھیں جمع کرتا جاتا اور کبھی کبھی تصویریں نکال کر اپنے باپ سے ان کی کہانیاں پوچھتا۔ ان میں ہر طرح کے جانور بھی بنے ہوتے تھے۔ آنٹاناس کو ان سب کے نام یاد ہوگئے تھے۔یورگس کی سنائی ہوئی کہانیاں بھی اسے یاد ہوگئی تھیں۔ وہ پہلے سے سنی کہانیوں کے جملے دہراتا اور لفظ ساتھ ساتھ بولتا۔ جب اس نے پہلی بار ” خدا کی لعنت!“ کا لفظ بولا تو یورگس ہنستا ہنستا کرسی سے گرپڑا لیکن بعد میں وہ پریشان ہواکیوں کہ آنٹاناس ہر چیز اور ہر آدمی پر لعنت بھیجنے لگا تھا۔

اس کا ہاتھ ٹھیک ہوا تو وہ دوبارہ اپنا بستر اٹھا کر کام پر لوٹ گیا۔ اپریل کا مہینا شروع ہو چکا تھا اور برف کی جگہ بارشوں نے لے لی تھی جن کی وجہ سے آنئیل کے گھر کے سامنے والی کچی سڑک نہر کی صورت اختیار کر گئی۔ یورگس کو اسی سے گزر کر گھر پہنچنا پڑتا۔ کبھی کبھی تو وہ کمر کمر کیچڑ میں پھنس جاتا لیکن وہ شکوہ نہیں کرتا تھا کیوں کہ یہ آنے والے گرمیوں کے موسم کا وعدہ تھا۔ ماریا کو اس دوران ایک چھوٹی فیکٹری میں گوشت کی بوٹیاں بنانے کا کام مل گیا تھا۔ یورگس خود سے کہتا کہ اب اس نے زندگی سے سبق سیکھ لیا ہے، اب وہ کبھی غلطی نہیں کرے گا۔ اسے امید تھی کہ ان کی طویل پریشانیوں او ر مصیبتوں کے خاتمے کا وقت آگیا ہے۔ وہ پیسے جوڑنے کے قابل ہوجائیں گے اور اگلی سردیوں تک کوئی بہتر رہائش گاہ لے سکیں گے۔ بچے بھی سڑکوں پر پھرنے کے بجائے سکول جانے لگیں گے۔ یورگس نے ایک بار پھر نئی زندگی کے خواب دیکھتے ہوئے منصوبے بنا نا شروع کر دئیے۔ 

ایک ہفتے کی شام وہ گاڑی سے اتر کر گھر کی سمت چلا، بادل موسلا دھار بارش برسا کر چھٹ گئے تھے۔ ایک قوس ِ قزح آسمان پر نکلی ہوئی تھی اور دوسری اس کے سینے میں کیوں کہ آنے والے 36 گھنٹے اس کے آرام کے اور گھر والوں کے ساتھ گزارنے کے تھے۔ وہ گھر کے قریب پہنچا تو گھر کے سامنے بھیڑ دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ وہ لوگوں کو ہٹا تا بھاگتا ہوا اندر پہنچا تو باورچی خانے میں بھی عورتیں جمع تھیں۔ اسے اچانک وہ وقت یاد آگیا جب وہ جیل سے گھر آیا تھا اور اونا کو دم توڑتا پایا تھا۔ اس کا دل جیسے رک گیا۔ ” کیا ہوا ہے ؟ “ وہ چیخا۔

کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی اور سب اس کو گھورنے لگے۔ ” کیا ہوا ہے ؟“ وہ پھر چیخا۔

پھر اسے اوپر اٹاری سے ماریا کے رونے کی آواز آئی۔ وہ تیزی سے سیڑھی کی طرف لپکا لیکن آنئیل نے اسے بازو سے پکڑ کر روک لیا۔ ” نہیں، نہیں، تم اوپر مت جاؤ۔ “ اس نے منت بھری آواز میں کہا۔

” آخر ہوا کیا ہے ؟ “ وہ چلّایا۔

بوڑھی آنئیل نے گھٹی گھٹی آواز میں کہا، ” ننھا آنٹا ناس۔۔۔ وہ باہر گلی میں چلا گیا تھا۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ ڈوب گیاہے!“( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -