سندھ کی تہذیب میں کسی شاہی قبر کی ابھی تک شناخت نہیں ہوپائی

سندھ کی تہذیب میں کسی شاہی قبر کی ابھی تک شناخت نہیں ہوپائی
سندھ کی تہذیب میں کسی شاہی قبر کی ابھی تک شناخت نہیں ہوپائی

  

مصنف: سرمور ٹیمر وھیلر

ترجمہ:زبیر رضوی

قسط:7

باشندے‘ فنون اور ہنر

سندھ کی تہذیب میں کسی شاہی قبر کی ابھی تک شناخت نہیں ہوپائی ہے۔ اس کمی کا سبب یقینًا دریا کے بہاﺅ سے آئی ہوئی مٹی کی تہوں کا جم جانا اور آثار قدیمہ کی کھوج کے عمل کا نامکمل ہونا ہے۔لیکن ہڑپہ میں قلعے کے جنوب کی طرف ایک قبرستان جزوی طور پر برآمد ہوا ہے۔ بظاہر یہ قبرستان عام شہریوں کا تھا۔ اس میں سے کوئی 60 ڈھانچے ملے ہیں۔ ڈھانچے اس طرح سے قبر میں دفنائے گئے تھے کہ ان کا سر شمال کی جانب تھا اور ہر ایک کے ساتھ اوسطاً 15 یا 20 مٹی کے برتن دبائے گئے تھے جن سے سندھ کے تمدن کے پختہ دور کا پتہ چلتا ہے۔ ایک قبر کچی اینٹوں سے مضبوط کی گئی تھی اور اینٹیں مستطیل ڈیزائن میں چنی گئی تھیں‘ ایک اور قبر میں لاش کو لکڑی کے بکس میں بند کرکے دفنایا گیا تھا۔ اس بکس کے چاروں طرف کے تختے مقامی روز وڈ (ایک خوشبودار لکڑی) کے تھے اور ڈھکنا دیوار کی لکڑی کا تھا جو یقیناً پہاڑوں سے بہا کر نیچے لائی گئی ہوگی۔

علم الانسان کے جن ماہروں نے ان ڈھانچوں کی تفصیل بیان کی ہے ان کا دعویٰ ہے کہ مہیا شدہ ثبوت کے مطابق وادیٔ سندھ کی آبادی (لوگوں کی جسمانی ساخت کے اعتبار سے) ہڑپہ کے زمانے سے لے کر زمانہ حال تک لگ بھگ ویسی کی ویسی ہی رہی ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلے 4 ہزار برسوں میں ان علاقوں پر وقتاً فوقتاً جو حملے ہوئے ہوں گے وہ یقیناً ایسے لوگوں نے کیے ہوں گے جو جسمانی ساخت کے لحاظ سے ان لوگوں سے ملتے جلتے یا پھر یہ حملے اتنے چھوٹے پیمانے پر ہوئے کہ ان کی وجہ سے جسمانی خصوصیات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ ہوسکی۔ بہتات لمبے والوں (dolichocephatic) کی تھی۔ عام طور پر شباہت پچھلے مصنفوں کے بیان کردہ پروٹوآسٹریلیلوئیڈ (proto Australoid) کا کاسک یا ”یورا فریقن“ (Eurafrican) انواع انسانی کے مشابہہ ہے۔ دبلے اور چھوٹے قد کے کچھ ڈھانچے جسمانی پیمائش کے علم کی اصطلاحات میڈیسٹریشن (Mediterrancan) انڈو یورپین (Indo European) یا کیپین (Caspian) انواح کی یاد دلاتے ہیں۔ بالغان قد میں 5 فٹ5 انچ سے5 فٹ آٹھ نو انچ تک کے ہوتے تھے اور اس سے بھی زیادہ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ موت کی عمر بیشتر20 اور 40 کے درمیان تھی اور اس میں بھی 20 سال کی عمر میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ دکھائی دیتی ہے چونکہ اس تجزیئے میں صرف بالغان کو لیا گیا ہے۔ اس لئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمدہ مکانوں اور نالیوں وغیرہ کے باوجود سندھ کی تہذیب میں (لوگوں کا) اوسط عرصہءحیات کم تھا۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -