عمران خان کے چاہنے والوں کیلئے حقائق کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، مایوسی کا "ہتھیار " استعمال کیا جا رہا ہے : حسین حقانی نے اہم مسائل کی نشاندہی کر دی

عمران خان کے چاہنے والوں کیلئے حقائق کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، مایوسی کا ...
عمران خان کے چاہنے والوں کیلئے حقائق کوئی اہمیت نہیں رکھتے ، مایوسی کا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ ) عمران خان کے چاہنے والوں کیلئے حقائق کوئی اہمیت نہیں رکھتے ،مقبول رہنما کی جذباتی موسیقی کے عادی کان منطقی دلائل نہیں سنتے ۔ مایوسی کا احساس  انتہا پسندوں کو حمایت حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ،قوم کی مایوسی کا تدارک کیا جائے قبل از اس کے کہ یہ قوم کی بقاء کا مسئلہ بن جائے۔ سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار حسین حقانی نے اہم مسائل کی نشاندہی کر دی ۔

"جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ بعنوان "قومی بیانیے میں تبدیلی کی ضرورت" میں حسین حقانی نے لکھا  کہ  پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ ’’عمران خان نہیں تو کوئی نہیں ‘‘ کی سوچ مایوسی پھیلانے کی ایک مرتکز کوشش کی نمائندگی کرتی ہے ۔ مایوسی کا احساس روایتی طور پر انتہا پسندوں کو حمایت حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ اٹلی اور اسپین میں فسطائیت کا فروغ اور جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کی مقبولیت کی وجہ ایسی ہی مایوسی اور ناامیدی کی فضاء تھی۔ معاشی مشکلات میں گھرے کمزور اور ناامید افراد کو مثالی دنیا کے خوب صورت وعدے جذبات میں بہا لے جاتے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ قوم کی مایوسی کا تدارک کیا جائے قبل از اس کے کہ یہ قوم کی بقاء کا مسئلہ بن جائے ۔ لیکن ایسا محض تقریروں اور بیانات سے نہیں ہوسکتا۔ مقبول رہنما کی جذباتی موسیقی کے عادی کان منطقی دلائل نہیں سنتے ۔ لوگ نجات کے جھوٹے وعدوں کو اسی طرح پسند کرتے ہیں جیسے وہ طلسمی افسانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا اور مسلسل سکرین ٹائم کے دور میں ٹک ٹاک ویڈیوز، مختصر پیغامات، ایکس اور انسٹاگرام پر جھوٹی اور من گھڑت تصاویر کے بہاؤ میں حقیقت آسانی سے ڈوب جاتی ہے ۔ ایسے لوگوں کیلئے جو اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت سی پریشانیوں کی زد میں ہوں، سوشل میڈیا کا ماحول انھیں اسکے متبادل ایک طرح کی اجارہ داری فراہم کردیتا ہے۔ 

  اپنے بلاگ میں حسین حقانی نے مزید  لکھا کہعمران خان کے چاہنے والوں کیلئے حقائق کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ وہ افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد سے پاکستان میں امریکہ اور مغرب کی عدم دلچسپی کے بارے میں نہیں پڑھتے ۔ ان کیلئے اس جھوٹ پر یقین کرنا آسان ہے کہ ان کا لیڈر مغرب مخالف طاقتوں کا ایک نیا عالمی اتحاد بنا کر اسلامی احیا کی راہ ہموار کرنے والا تھاجب بھارت، اسرائیل اور امریکہ کے توانا ہوتے ہوئے گٹھ جوڑ نے اُسے اقتدار سے ہٹا دیا ۔کلٹ کے پیروکار نہیں دیکھ سکتے کہ ان کا تصور کتنا مضحکہ خیز ہے جس میں کمیونسٹ چین اور نئے دور کی سامراجی طاقت،روس اسلام کی عالمی سربلندی کیلئے ان کا ساتھ دیں گے۔ وہ روس کے ساتھ ترکی کے مسائل، یا اس کی امریکی زیر قیادت نیٹو کی رکنیت سے بے خبر ہیں۔ وہ اب بھی خواب دیکھتے ہیں کہ 'بھائی' رجب طیب اردوان ان کے کپتان کے ساتھ مل کر امت کا وقار بحال کرنےکیلئےکمر بستہ ہیں ، اور اس جدوجہد میں روس بھی ان کے ساتھ ہے ۔ مقبول عام نعرے بازی کی کامیابی کی ایک وجہ قومی بیانیے میں تلاش کی جاسکتی ہے جو یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی سویلین اور فوجی حکومتوں کے ادوار میں کئی دہائیوں تک پاکستانیوں کے کانوں میں اتارا گیا۔ پاکستانیوں کو باور کیاگیا ہے کہ سیاسی بدعنوانی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، نہ کہ اسکی مایوس کن شرح خواندگی، ٹیکسوں کی ناکافی وصولی، اعلیٰ تعلیم کا پست معیار، زرعی اور صنعتی پیداواری صلاحیت، اور بیرونی امداد اور قرضوں پر انتہائی انحصار۔

  اپنے بلاگ میں حسین حقانی نے مزید لکھا کہ قوم عموماً اس بات سے بے خبر رہتی ہے کہ نظریاتی انتہا پسندی کے حوالے سے پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ کیا ہے۔ اس کی نسبتاً عالمی تنہائی کی وجہ 'ڈالر خور'لیڈروں کی غلامی کو قبول کرنے پر آمادگی ہے، نہ کہ جہاد اور دہشت گردی کے حوالے سے ماضی کی غلط پالیسیاں۔ بے خبر عوام اکثر یہ یقین کرنےکیلئے تیار رہتے ہیں کہ صرف ایک سخت گیر اور صاف ستھرا آدمی آجائے جس کا کرشمہ اور روزانہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقاریر پاکستان کے تمام مسائل کو جادوئی طریقے سے حل کر دے گی۔پاکستان کو ایک نئے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جو ملک کی تاریخ اور صلاحیت کے حقیقت پسندانہ جائزےپر مبنی ہو۔

بلاگ کے آخر میں حسین حقانی نے لکھا کہ پاکستان کے رہنماؤں نے ایک طویل عرصہ سے پاکستان کو عالمی سازشوں کا شکار بتایا ہے ،ا ور قوم بھی برسوں سے سازش کی تھیوریوں کو آسانی سے مانتی آئی ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان اس لیے کمزور ہیں کیوں کہ وہ نوآبادیاتی نظام کا شکار تھے،‘‘ نہ کہ یہ کہ وہ نوآبادیاتی نظام کا شکار اس لیے ہوئے کیوں کہ وہ عسکری اور اقتصادی طور پر کمزور تھے۔اس حقیقت پر کبھی بات نہیں ہوتی کہ توپ اور تلوار کے درمیان جنگ میں تلوار کی فتح کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ۔