گذشتہ عشرہ دنیا کیلیے کیسا رہا ،پینے کا صاف پانی مل سکے گا  یا نہیں ؟محکمہ موسمیات کی عالمی تنظیم  نے حیران کن انکشاف کیا

گذشتہ عشرہ دنیا کیلیے کیسا رہا ،پینے کا صاف پانی مل سکے گا  یا نہیں ؟محکمہ ...
گذشتہ عشرہ دنیا کیلیے کیسا رہا ،پینے کا صاف پانی مل سکے گا  یا نہیں ؟محکمہ موسمیات کی عالمی تنظیم  نے حیران کن انکشاف کیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن (پی اے)گذشتہ عشرہ دنیا کیلیے کیسا رہا ،لوگوں کو پینے کا صاف پانی مل سکے گا  یا نہیں ؟اس حوالے سے  محکمہ موسمیات کی عالمی تنظیم  نے حیران کن انکشاف کیا ہے ۔ محکمہ موسمیات کی عالمی تنظیم کے مطابق  گزشتہ عشرہ دنیا کا سب سے زیادہ گرم ترین دور تھا۔ اس دوران گرمی کی شدت کے سبب پہاڑوں پر جمی برف20ویں صدی کے مقابلے میں تیزی کے ساتھ پگھلتی رہی اور گلشیئر کی موٹائی سالانہ میٹر کی شرح سے کم ہوگئی جبکہ انٹارٹیکا میں2001ء سے2010ء کے مقابلے میں2011-2020ء کے دوران75فیصد زیادہ برف پگھلی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب لوگوں کو پینے کا صاف پانی کم مقدار میں مل سکے گا اور نشیبی علاقوں کے زیر آب آجانے کا خطرہ ہوگا۔ گلشیئر کے تیزی سے پگھلنے کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہوتا رہا۔ معمولی وقفے کے باوجود عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسز کا اخراج جاری رہا۔

تنظیم کے مطابق2015ء سے2020ء تک کہ6سال دنیا کے گرم ترین سال تھے اور اوسط درجہ حرارت منفی سطح سے قبل کے سے1.1سینٹی گریڈ زیادہ تھی۔ 1990ء کے بعد سے ہر عشرہ اپنے سابقہ عشرے کے مقابلے میں زیادہ گرم رہا اور یہ رجحان تبدیل ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ ہمارے سمندر تیزی سے گرم ہوتے جارہے ہیں اور ان کی سطح ایک جنریشن کے دوران کم و بیش دگنی ہوگئی ہے۔ ہم گلشیئر اور برف کی تہہ کو پگھلنے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ آرکیٹک دنیا کے کسی اور خطے سے زیادہ گرم ہورہا ہے کیونکہ سورج کی گرمی عام سمندروں کے مقابلے میں تاریکی کے شکار سمندر زیادہ جذب کررہے ہیں، جس کی وجہ سے سمندر کی سطح میں سالانہ4.5ملی میٹر کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس صورت حال سے اچھی خبر یہ ہے کہ انٹارکٹیکا میں اوزون کا سابقہ2عشروں کے مقابلے میں کم ہوگیا ہے اور تباہ کاریوں کی قبل از وقت وارننگ کا نظام پہلے سے بہتر ہوگیا ہے۔