ہماری کوتاہیاں، غلطیاں اور کمزوریاں ہی تباہی کی وجہ ہوں گی،اگر سندھو رک گیا تو یہ حضرت انسان کی بھی بربادی ہو گی،یہ ہے میرے دوست کی داستان حیات

 ہماری کوتاہیاں، غلطیاں اور کمزوریاں ہی تباہی کی وجہ ہوں گی،اگر سندھو رک گیا ...
 ہماری کوتاہیاں، غلطیاں اور کمزوریاں ہی تباہی کی وجہ ہوں گی،اگر سندھو رک گیا تو یہ حضرت انسان کی بھی بربادی ہو گی،یہ ہے میرے دوست کی داستان حیات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:210
 ہماری کوتاہیاں، غلطیاں اور کمزوریاں ہی اس کی تباہی کی وجہ ہوں گی۔اگر سندھو رک گیا تو یہ حضرت انسان کی بھی بربادی ہو گی۔یہ ہے میرے دوست کی داستان حیات۔ دلچسپ،چشم کشا، سنسی خیز اور شایدلرزہ خیز بھی۔
میں یہ کہانی قلم بند کر چکا تو مجھے سندھو کی آواز سنائی دی ہے۔”سنو دوست!اگر تم برا نہ سمجھو تو آخر میں چندباتیں میں بھی تمھارے پڑھنے والوں سے کہنا چاہتا ہوں۔ میں اس ریت کوتو ڑنا چاہوں گا کہ جس پر لکھا جائے وہ آخر میں کچھ بھی نہ کہے۔“ میں نے جواب دیا؛”ساری داستان تم نے ہی سنائی ہے۔ تم اور بھی کچھ کہنا چاہو تو مجھے خوشی ہوگی اور یقیناً میرے پڑھنے والے بھی لطف اندوز ہوں گے۔بولو میں لکھتا ہوں۔“اور سپت سندھو میرا ہمراز،مہربان، باکمال داستان گو بولنے لگا ہے؛۔۔۔۔ 
”میں اٹھارہ ہزار(18000) فٹ کی بلندی سے اپنے طویل سفر کا آغاز کرتا ہوں۔ اپنے منبع سے جنوب مغرب کی جانب دو سو (200) میل کا فاصلہ طے کرکے میں شمال مشرق سے ہندوستانی کشمیر میں داخل ہوتا ہوں۔ سولہ ہزار(16000) فٹ کی بلندی پر بہتا لیہہ سے کچھ فاصلے پر لداخ وادی میں دریائے ”زنکسار“ میرا پہلا معاون مجھ میں گرتا ہے۔ یہاں سے مزید ایک سو پچاس (150) میل کا فاصلہ طے کرکے مرول ٹاپ سے پاکستان میں داخل ہوتا ہوں تو شنگو ریور میرا پہلا سنگم ہے۔اس سنگم سے ایک سو دس(110) کلو میٹر ڈاؤن سٹریم چھومندو کے مقام پردریائے ”شیوک“ کا اور میرا ملاپ ہے۔ یہ پاکستان کی دھرتی پر میرا پہلا بڑامعاون دریا ہے۔ شیوک اپنے ساتھ بہت سارے گلشئیرز کا پانی لاتا ہے۔ ”شگر، گلگت اور استور“ دریا بھی اپنے ساتھ بہت سے چشموں، ندی نالوں اور برفیلے میدانوں سے پانی لاتے مجھ میں گرتے ہیں۔دریائے شگر اسکردو کے پاس، مزید ایک سو ستر (170) کلو میٹر ڈاؤن سٹریم دریائے گلگت  جگلوٹ کے قریب اور کچھ مزید پنتیس(35) کلو میٹر ڈاؤن سٹریم دریائے استور بنجی کے نزدیک مجھ میں اترتے ہیں۔ میں مغربی سمت میں چلتا چلاس کے قریب جنوب کی جانب مڑتا خیبر پختون خوا میں داخل ہوتا ہوں۔نانگا پربت کے شمال اور جنوب میں واقع ایک دوسرے میں دھنسی سترہ ہزار(17000) فٹ سے لے کرچھبیس ہزار(26000) فٹ تک بلند چوٹیوں اور بارہ ہزار (12000) فٹ سے پندرہ ہزار (15000) فٹ تک گہری وادیوں جو دس(10) سے اٹھارہ (18) کلو میٹر کے فاصلے تک پھیلی ہیں، اُن کے درمیان سے بہتا اِن اونچے پہاڑوں کی سر زمین سے نکل کر تربیلا پہنچتا ہوں جہاں میرے پانی پرپانچ ہزار(ّ5000) میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش والادنیا کا سب سے بڑا مٹی کی بھرائی کا ڈیم ”تربیلا“ تعمیر کیا گیا ہے۔ ہزارہ کی پہاڑیوں سے بہنے والا دریا ”دریائے سیرن“ بھی تربیلا سے کچھ پہلے مجھ میں ملتا ہے۔ یہاں سے مزید اسی (80) کلو میٹر ڈاؤن سٹریم ”دریائے کابل“  اور میرا سنگم اٹک کے مقام پر ہے۔ میں کالا چٹا پہاڑی سلسلے سے ٹکراتا، کالا باغ کی نمک کی کانوں کے قریب سے بہتا پنجاب کے میدانوں میں پہنچتا ہوں جہاں پنجاب کے پانچ دریا (جہلم، راوی، چناب، بیاس، ستلج)مجھ میں پنجند اور کوٹ مٹھن کے مقامات پرملتے ہیں۔ یہی پانچ دریا پنجاب کی دھرتی کو ”پنجاب“ کا نام دیتے ہیں۔ (پنجاب کا خطہ اب پاکستان اور ہندوستان میں بٹا ہے۔)سیلاب کے دنوں (اگست/  ستمبر) میں میں انتہائی پھیل کر بہتا ہوں۔ پنجاب کے جنوبی میدانوں میں سطح سمندر سے دوسو ساٹھ(260) فٹ کی بلندی سے آہستہ آہستہ بہتا ہوں۔ صدیوں سے میری لائی مٹی میری بہنے کی رفتار کو انتہائی کم کر چکی ہے۔ سندھ کے زرخیز میدان میری ہی مرہون منت ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے مختلف قصبوں،آبادیوں اور کھیتوں کو میرے سیلابی پانی سے بچانے کیلئے حفاظتی پشتے اور بند تعمیر کئے گئے ہیں لیکن میں جب سیلابی کیفیت میں غضب ناک ہو تا ہوں تو یہ حفاظتی پشتے بھی ناکارہ ثابت ہو تے ہیں۔ صدیوں سے میرے سیلاب علاقوں،بستیوں اورکھیت کھیانوں کو تباہ و برباد ہی نہیں کرتے بعض دفعہ صفحہ ہستی سے بھی مٹاتے رہے ہیں تو میری لائی مٹی پیچھے سو نا اگلتی زمین چھوڑ جاتی ہے۔ سیلابی موسم کے دوران مجھ سمیت تمام دریا اپنا رخ بھی بدلتے رہے ہیں۔ میرا ڈیلٹا تین ہزار (3000) مربع میل سے سکڑ کر دو سو چالیس (240) میل رہ گیا ہے۔ میں پرانی اور نئی گزرگاہوں سے بہتا بحیرہ عرب میں اترتا ہوں۔ پانچ(5) سے بیس (20) کلو میٹر میں پھیلی میری پٹی کے اندر اب سمندر اتر آیا ہے۔ میرے ڈیلٹا ئی علاقے میں ریت نمایاں ہے۔“(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -