چھوٹی بہن کو جانوروں سے بڑا لگاؤ تھا،چھوٹے سے کتے ٹونی کی آنکھوں میں لمبی دم والا سرمہ لگاتی، پڑوسیوں کی بطخوں کو بھگانے میں بڑا مزہ آتا 

چھوٹی بہن کو جانوروں سے بڑا لگاؤ تھا،چھوٹے سے کتے ٹونی کی آنکھوں میں لمبی دم ...
چھوٹی بہن کو جانوروں سے بڑا لگاؤ تھا،چھوٹے سے کتے ٹونی کی آنکھوں میں لمبی دم والا سرمہ لگاتی، پڑوسیوں کی بطخوں کو بھگانے میں بڑا مزہ آتا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:118
 میرا یہ دوست بعد میں مختلف تھانوں میں متعین ہوا جہاں ابتدائی دنوں میں دوسرے عام پولیس افسروں کی طرح وہ نہ صرف ہر غلط کام کرتا بلکہ اسے فخریہ انداز میں بیان بھی کیا کرتا تھا، خوب رشوت لیتا تھا اور ہر وہ کام کیا کرتا تھا جو اس وقت کے روائتی پولیس آفیسر کیا کرتے تھے، جس پر میں اسے سخت سست کہتا تو وہ ہنس کر بات کو ٹال دیتا۔ اس کو تھانے میں ہی کوارٹر مل گیا تھا۔ اس نے شادی کی اور کئی سال تک اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد کی نعمت سے محروم رکھا۔ گھر میں ہر سُو بیماریاں اور پریشانیاں رہتی تھیں۔ دور دور تک اس کے خاندان میں بے سکونی ڈیرہ ڈالے بیٹھی تھی۔ مجھے اتنے اچھے پولیس آفیسر کو یوں رفتہ رفتہ گناہوں کی دلدل میں دھنستا دیکھ کر بہت دکھ ہوتا تھا۔
پھر ایک روز اچانک ہی سب کچھ بدل گیا۔ وہ کسی سے سُن سنا کر حضرت سلطان باہو ؒ کے مزار پر گیا اور جب واپس آیا تو اللہ نے اس کی دنیا ہی بدل ڈالی اور دل ایسا پھیرا کہ وہ رشوت سے مکمل تائب ہو کر رزق حلال پر گزارہ کرنے لگا۔ باقاعدگی سے پنج وقتہ نماز شروع کی اور پھر جوانی میں ہی اس نے اپنے اندر ایک نیک اور ایماندار پولیس آفیسر کی ساری خصوصیات سمو لیں تھیں۔ گھر میں سکون ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اسے ایک خوبصورت سا بیٹا بھی عطا کیا جس کا نام اس نے ”باہو“ رکھا۔اپنے فرائض اس نے انتہائی ایمانداری سے ادا کیے۔ اب اس کی زبان پر کوئی شکوہ بھی نہیں ہوتا تھا، اورہر وقت اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور اطمینان رہنے لگا۔
پھریوں ہوا کہ شاید اسی ادا پر خوش ہو کر اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بہترین مقام دینے کے لیے چن لیا۔ ایک دن فرائض کی ادائیگی کے دوران وہ کراچی کے ایک گھر میں مورچہ بند ڈاکوؤں کے ساتھ ایک مقابلے میں بہت ہی بہادری سے لڑا اور اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کر دی، شہادت کا رتبہ پایااور اپنی شجاعت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ گیا کہ اس کے آفیسروں کے ساتھ ساتھ ساری دنیا بھی عش عش کر اٹھی۔
اُس کے لیے بعد از شہادت قائداعظم پولیس میڈل کے لیے سفارش کی گئی، اور اس کے مختصر سے خاندان کو لا محدود عرصے کے لیے پولیس کی رہائشی کالونی میں رہنے کی اجازت ملی۔
یہ عظیم پولیس آفیسر مُلک کے ایک بہت ہی اونچے درجے کے ٹیلی ویژن اور فلمی فنکار محبوب عالم کا برادرنسبتی تھا، جو اپنے ڈرامے ”وارث“ کے لازوال کردار چودھری حشمت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ ہی محبوب عالم تھا جس کو میں اور اقبال رکشہ میں بٹھا کر ایسٹرن فلم سٹوڈیو چھوڑ کر آتے تھے جہاں وہ ان دنوں سندھی فلموں میں کام کیا کرتا تھا۔
 محبوب عالم بھی اپنے فن کی بلندیوں پر عین عالمِ شباب میں دنیا سے رخصت ہوا اور آج مدتیں گزر جانے کے بعد بھی لوگ اسے بھولے نہیں ہیں۔ یہ میری موقع پرستی تھی یا سنگ دلی کہ پھر اس خاندان سے میں رابطے میں نہ رہ سکا۔ مجھے یقین ہے کہ باہو اب جوان ہو کر کہیں نہ کہیں اپنے عظیم باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوگا۔ 
 تکمیل تعلیم
دیکھتے ہی دیکھتے سال گزر گیا اور یونیورسٹی کے سالانہ امتحان سر پر آ گئے تھے۔ ابا جان نے محسوس کیا کہ میں شاید اکیلا اتنے سارے کام نہ کر سکوں گا،اس لیے انھوں نے ماں کو لکھا کہ وہ کراچی میں 3 مہینے میرے ساتھ رہ لیں تاکہ میں پوری یکسوئی اور دلجمعی سے امتحان دے سکوں۔ پھر ایک دن ماں میرے 2 بہن بھائیوں کو گاؤں میں چھوڑ کر اور سب سے چھوٹی بہن نسرین کو ساتھ لے کر کراچی آ گئیں اور مجھے کشمکش دہر سے آزاد کر دیا۔ نسرین اس وقت کوئی 5سال کی ہو گی، وہ سارے گھر میں کلکاریاں بھرتی پھرتی اور شرارتیں کر کے تنگ بھی کرتی تھی۔ اس کا اکثر وقت پڑوسیوں کی بطخوں کو ادھر ادھر بھگائے پھرنے میں گزرتا تھا جن کی چیخ و پکار سُن کر ایک دو دفعہ انھوں نے دبے لفظوں میں احتجاج بھی کیا تھا۔ دراصل اسے بچپن سے ہی جانوروں سے بڑا لگاؤ تھا، گاؤں میں بھی وہ ہر وقت اپنے چھوٹے سے کتے ٹونی کو گود میں اٹھائے پھرتی تھی اور اس کو نہلا دھلاکر اس کا مکمل میک اپ کیے رکھتی تھی،یہاں تک کہ اس کی آنکھوں میں لمبی دم والا سرمہ لگانا بھی نہ بھولتی تھی۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -