عظمتوں کے امین تھے ہم لوگ ۔۔۔

عظمتوں کے امین تھے ہم لوگ ۔۔۔
عظمتوں کے امین تھے ہم لوگ ۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

عظمتوں کے امین تھے ہم لوگ 

رفعتوں پر مکین تھے ہم لوگ 

ہم نے ساحل پر کشتیاں پھونکیں 

اس قدر پر یقین تھے ہم لوگ 

آسماں پر نظر ہماری تھی 

گرچہ اہلِ زمین تھے ہم لوگ 

کائناتیں ہماری ہاتھ میں تھیں 

کیسے حجرہ نشین تھے ہم لوگ 

ہم سے ہٹتی نہ تھی نظر سب کی 

ایسا نقشِ حسین تھے ہم لوگ 

ہم نے ہر سو محبتیں بانٹیں 

سب دلوں میں مکین تھے ہم لوگ 

ہم نے انسانیت کی خدمت کی 

ہر کسی کے معین تھے ہم لوگ 

ہم سے تاریکیاں بھی خائف تھیں 

ایسے روشن جبین تھے ہم لوگ 

ہم نے دنیا کو علم سکھلایا 

کیا ذہین و فطین تھے ہم لوگ 

اِک جہان تھا ہمارا گرویدہ 

سنبل و یاسمین تھے ہم لوگ 

سب ہماری مثال دیتے تھے

اس قدر بہترین تھے ہم لوگ 

اب تو انگارے ہیں زبانوں پر 

شہد تھے انگبین تھے ہم لوگ 

ایک ہیبت تھی کفر کے دل پر

اس قدر آتشین تھے ہم لوگ 

جانے کس کی نظر لگی سرور

رشک صد آفرین تھے ہم لوگ  

کلام : ڈاکٹر سرور حسین نقشبندی

مزید :

شاعری -