کرکٹ رواں تبصرے کی حسین روایت کا خاتمہ

کرکٹ رواں تبصرے کی حسین روایت کا خاتمہ
کرکٹ رواں تبصرے کی حسین روایت کا خاتمہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

متحرک زندگی سے دور ، سکوت اور جمود کی ساعتوں کے اسیر ، امروز و فردا کے ایک جیسے تقاضوں میں الجھے ، اپنے التباسات کو حقیقت سمجھ کر نازاں، ہم اس دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے بے نیاز اپنے کنوئیں کو کائنات اور خود کو اس کا بے تاج بادشاہ سمجھ کر خوش ہیں ۔ ہماری اس دنیا کے گہرے سکوت میں جمالیاتی ذوق اور فن کا دخل نہیں ہے۔ دنیا کو اپنے فن سے خوبصورت بنانے والے مشاہیر آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ہمیں اپنی منجمد دُنیا میں ان کا کوئی ارتعاش محسوس نہیںہوتا ، چنانچہ کرسٹوفر مارٹن جنکنز کی وفات ، جس نے دنیا کو سوگوار کر دیا، کی ہمارے ہاں کوئی خبر نہیں چھپی۔ ہم میںسے اکثر کو یہ بھی علم نہیں کہ یہ صاحب کون تھے ؟مسٹر کرسٹوفر مارٹن، جن کو پیار سے ”سی ایم جے“ کہہ کر پکارا جاتا تھا،دنیائے کرکٹ کے سب سے بڑے اور مستند نقاد تھے۔ وہ ایک لاجواب کرکٹ مبصراور تجزیہ نگار تھے، ان جیسا اب شاید دوبارہ دیکھنے کو نہ ملے۔ اُنھوںنے اس کھیل کے لئے جو بھی انسانی امکان میں ہو سکتا تھا ، کیا۔ آج، جبکہ کرکٹ کا کھیل نہایت مضحکہ خیز تفریح بن چکا ہے، وہ لوگ جنہوںنے اسے وقار اور شہرت بخشی تھی، ہمارے لئے گمنام ہیں۔ ہم سرکس کے بازیگروں کو ہی ماہرین ِ فن سمجھ کر خوش ہیں۔انگلش سے نابلد ، ہم ”سی ایم جے“ اور اُن جیسے بہت سوں سے ناواقف ہیں اور ہم یہ بھی توقع نہیں کرسکتے کہ وہ اردو سیکھ کر اس میں کرکٹ کمنٹری کریں یا مضامین لکھیں.... سچ پوچھیں تو اردو زبان کرکٹ کے لئے موزوں نہیں ہے۔ جب وہ اس سال کے آغاز میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وفات پا گئے، جبکہ ان سے چند روز پہلے ٹونی گریگ بھی اس جہان فانی سے رخصت ہو چکے تھے، تو کرکٹ دو عظیم مبصرین، جن کا انداز ایک دوسرے سے جدا تھا، سے محروم ہو گئی۔ مشہور بھارتی مبصر اور مصنف ہارشا بوگلے نے ان دونوں مشاہیر کا موازنہ کرتے ہوئے انہیں ” پھولوں اور انگور کی شراب“قرار دیا۔ مسٹر مارٹن 1970ءمیں بی بی سی سے وابستہ ہوئے۔ اس سے پہلے انہوںنے یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی ایک میگزین ” دی کرکٹر “ کو جوائن کر لیا تھا۔ بعد میں وہ 1981ءسے لے کر 1991ءتک اس کے مدیر بھی رہے ۔ وہ 70ءکی دھائی میں ” ٹیسٹ میچ سپیشل“ کمنٹری ٹیم کے رکن تھے، جبکہ 80ءکی دھائی میں وہ ٹی وی پر بھی مبصر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ اس طرح 2012ءمیں جب خرابی ¿ صحت نے مزید کام کرنے کی اجازت نہ دی، وہ کسی نہ کسی شکل میں کرکٹ سے منسلک رہے۔اس دوران وہ1973ءسے لے کر 1980ءاور پھر 1985ءسے لے کر 1991ءتک بی بی سی کے کرکٹ نامہ نگار بھی رہے۔ وہ اخبار کی دنیا کے بھی عظیم نامہ نگار تھے۔ انہوں نے بطور کرکٹ نامہ نگار 1991ء سے لے کر 1999ءتک ”ٹیلی گراف“ کے لئے کام کیا۔ اس کے بعد وہ مشہورانگریزی اخبار ”دی ٹائمز“ کے ساتھ منسلک ہو گئے ۔ وہ اس اخبار کے لئے 2008ءتک لکھتے رہے یہاں تک کہ بعد میں ان کی جگہ سابقہ انگلش کپتان مائیکل آرتھرٹن نے لے لی۔ اس کے بعد بھی وہ اخبار کے لئے گاہے بگاہے لکھتے رہے اور انہوں نے ٹونی گریگ کی وفات پر اپنے مضمون میں لکھا کہ کینسر کے آخری مراحل میں زندگی انتہائی اذیت ناک ہو جاتی ہے اور شاید اسی لئے مسٹر گریگ نے اننگز ڈکلیر کر دی۔ مسٹر مارٹن کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اُن کو بہت سے اعزازات سے نواز ا گیا۔ انہیں 2008ءمیں ”ایم بی ای “ ایوارڈ دیا گیا، جبکہ وہ 2010-11ءمیں ایم سی سی کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے ایم سی سی کے لئے 67 میچ بھی کھیلے۔ جب اُن کی بیماری کی تشخیص ہو ئی تو انہوں نے اپنی یادداشتوں پر مبنی ایک کتاب .... ”A Cricketing Life“.... لکھی۔ 2007ءمیں وہ دُنیا کے واحد صحافی اور مبصر بن گئے، جنہوں نے ایم سی سی میں ”Spirit of Cricket Cowdrey Lecture“ دیا ہو۔ اس سے پہلے یہ لیکچر صرف سابقہ کرکٹر ہی دیا کر تے تھے۔ بی بی سی کے کرکٹ نامہ نگار ، جوناتھن ایگنیو نے کہا....” مسٹر مارٹن کرکٹ کے سب سے معتبر مصنف اور مبصر تھے۔ آج ٹی وی پر سابق کھلاڑی کرکٹ کمنٹری کرتے ہیں، لیکن انہوں نے صرف اپنے کھیل سے محبت اور لگن کی وجہ سے وہ مقام حاصل کر لیا جو کرکٹرز کو عمر بھر کھیل کر حاصل ہوتا ہے“۔ مسٹر جوناتھن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ....”ٹیسٹ میچ اسپیشل کے سامعین ”سی ایم جے “ کے عجیب اور انوکھے جملوںسے واقف ہو ں گے۔ سامعین ایسا محسوس کرتے تھے، جیسے اُن کے مبصر نے غلطی سے کرکٹ کی بجائے کسی اور میدان میں قدم رکھ لیا ہے۔ وہ وقت کے حوالے سے جس طرح سامعین کو اُلجھائے رکھتے، وہ انہی کا خاصا تھا“.... ”سی ایم جے“ کے ایک مداح کا کہنا ہے.... ”اب یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ کرسٹوفر مارٹن کی طرح کوئی اور مبصر بھی اس طرح کرکٹ کو کوریج دے سکے“۔ان کی رحلت کے بعد ان کے ساتھی مبصرین ، جیسا کہ ڈیرک پرنگل اور سر آئن بوتھم اور بہت سے دوسروںنے کھلے دل سے اُن کو خراج ِ تحسین پیش کیا ہے۔ ”ای سی بی“ کے چیئر مین مسٹر جائلز کلارک کا کہنا ہے.... ” کرکٹ اپنے عظیم ترین مبصر سے محروم ہو گئی ہے۔ کرسٹوفر بہت اعلیٰ معیار کے مبصر اور لکھاری تھے اور اُن کی ماضی اور حال کی کرکٹ کے بارے میں معلومات بے پناہ تھیں۔ وہ ذاتی طور پر سکس کاونٹی کی حمایت کرتے تھے۔ وہ اس کھیل میں بے حد دلچسپی لیتے۔ ان اوصاف کی بدولت انہوں نے ایم سی سی کاصدر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ذاتی زندگی میں بھی وہ بہت مخلص اور ایماندار انسان تھے“۔انٹر نیٹ پر ان کے بارے میںمزیدجاننے کے لئے بروزنگ کرتے ہوئے ان کے بارے میں کچھ دلچسپ آراءپڑھنے کو ملیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں.... ”اس کھیل کے حوالے سے ریڈیو پر رواں تبصرہ کرنے والے عظیم مبصرین میں جان آرلٹ، جونرز، ایلن گبسن، ڈان موسی کا نام یاد دلاتا ہے کہ ان افراد کو کھیل کود کا ذاتی تجربہ نہیں تھا، لیکن انہوں نے اپنی لگن سے اس کھیل کے بارے میں بے حد معلومات حاصل کیں۔ اس عظیم ”قبیلے“ میں سب سے آخری نام ”سی ایم جے“ کا ہے۔ ان کی رحلت کے ساتھ اس ریڈیو کمنٹری کی سنہری روایت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ کرکٹ میں شاید دیگر کھیلوںسے زیادہ کہانیاں بنتی ہیں اور ”سی ایم جے“ کے حوالے سے بھی ایک کہانی ہے کہ ایک بار وہ این زیڈ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ انہوں نے فون کیا کہ اُن کے کمر ے میں ایک عجیب سا پرزہ ہے، جس کے استعمال سے وہ ناواقف ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ پُراسرار چیز ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول ہے۔ اُن کی انگلش زبان دانی بھی ایک سند کا درجہ رکھتی ہے۔ زبان کے اعتبار سے اُن کا شمار اُن مبصرین اور لکھاریوں میںہوتا تھا جو مستند ”بی بی سی انگلش “ بولتے اور لکھتے“۔کرسٹوفر مارٹن کی وفات پر لکھتے ہوئے ھارشا بوگلے کہتے ہیں....”اب کھیل کے حوالے سے نشریاتی دُنیا میں ایسے نستعلیق افراد کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے۔ آج جب ٹیکنالوجی نے کمنٹری کی روح کو تبدیل کر دیا ہے، ایک احساس شدت سے جاگزیں ہے کہ لکھے اور بولے ہوئے لفظ کی خوبصورتی کی حسین روایت ختم ہورہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ چیپل، رچی بینو، بل لاری، اور آخر میں ٹونی گریگ اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، لیکن ”سی ایم جے“ کی سی بات کسی میںدکھائی نہیںدیتی ہے“۔ بوگلے مزید لکھتے ہیں....” ایک مبصر کا کام صرف دیکھنے یا سننے والوں کو کھیل کے واقعات کے بارے میںہی بتانا نہیںہوتا ، بلکہ وہ ناظرین و سامعین کو اس کی معلومات بھی فراہم کرتا ہے اور ان کے دل میں اس کھیل کی لگن بھی بڑھاتا ہے۔ آج کھیل کود کی دنیا کو دیگر چیزوںکے علاوہ اعلیٰ پائے کے مبصرین کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ ا ن کھیلوںکے جذبے کو زندہ رکھ سکیں “۔یہاں پاکستان میں رواں تبصرے کے حوالے سے بہت مایوس کن صورت ِ حال پائی جاتی ہے۔ عمرقریشی اور جمشید مارکر کا دور گزر چکا ہے اور ان کی جوڑی کے بعد ان کی جگہ لینے والا کوئی نظر نہیں آتا ۔ بدترین بات یہ ہے کہ اردو رواں تبصرے کی روایت نے معاملہ خراب کر دیا ہے۔ اس میںکوئی شک نہیں کہ اب زیادہ لوگ اس کھیل کا شوق رکھتے ہیںاور وہ انگریزی نہیں سمجھ سکتے، لیکن جو ڈرامائی انداز انگریزی میں بیان ہو سکتا ہے، اردو کا دامن اس سے تہی ہے۔ پاکستان کے عظیم فاسٹ باﺅلر آصف مسعود کے بارے میں آرلٹ تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں....”آصف چند قدم بھاگتا ہے، پھر دوقدم پیچھے جاتا ہے جیسا کہ کچھ کھو گیا ہو، پھر کریز کی طرف رواں ہوجاتا ہے“.... یہ شاعری اب کہاں سننے کو ملے گی۔ 
 نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔ ٭

مزید :

کالم -