جمہوریت کے سوا کوئی راستہ نہیں

جمہوریت کے سوا کوئی راستہ نہیں
جمہوریت کے سوا کوئی راستہ نہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

جو کام سیدھے سادے انداز میں ہونا چاہیے اسے خوامخواہ الجھایا جا رہا ہے۔ یہ کون کر رہا ہے؟ کسی کو کچھ پتہ نہیں البتہ جو اس کام میں استعمال ہو رہے ہیں ان کے چہرے نمایاں ہیں سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے اور اس بنیاد ہی کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس پر عمارت تعمیر کرنا مقصود ہے۔ پہلے تو بات چیف الیکشن کمشنر تک ہی محدود رہتی تھی اب چاروں صوبائی الیکشن کمشنرز اعتراضات کی زد میں ہیں اگر اس وقت یہ پنڈورا بکس کھولاجاتا ہے تو پھر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ محدود وقت میں نئے صوبائی الیکشن کمشنروں پر اتفاق بھی ہو جائے گا انتخابات میں وقت بہت کم ہے اور یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر کسی وجہ سے بھی اقدامات طے شدہ مدت سے آگے بڑھے تو پھر بوتل سے باہر آنے والا جن مشکل ہی سے بند کیا جا سکے گا اگر الیکشن کمشن کا معاملہ ہی تنازعہ کی شکل اختیار کر جاتا ہے تو نگران حکومتوں کے قیام کا مرحلہ کیسے طے ہو گا اس پر تو وہ گھمسان کارن پڑے گا کہ شاید ہی کچھ بچے سیاسی قوتیں جمہوریت بچانے اور اس کی ہر قیمت پر حفاظت کا نعرہ تو ضرور لگا رہی ہیں مگر عملی طور پر جس لچک اور تعاون کا اظہار ہونا چاہیے وہ مفقود نظر آتا ہے۔زمینی حقائق پر غور کیا جائے تو ہر سیاسی جماعت پری پول تحفظات میں الجھی ہوئی ہے کسی کو اس بات کا یقین نہیں کہ انتخابات میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز عوام ہوتے ہیں دھاندلی کے امکانات اگر ہیں بھی تو وہ اس قدر سادہ اور آسان نہیں کہ پہلے کی طرح جس کا جی چاہے من پسند نتائج حاصل کر لے حالات اب بہت بدلے ہوئے ہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اب الیکشن کمشن بھی عدلیہ اور میڈیا کی نظر میں ہے وہ سیاہ کو سفید نہیں کر سکتا صرف اسے ایشو بنا کر اگر انتخابات کو داﺅ پر لگا دیا جاتا ہے تو یہ کوئی دانشمندانہ کام نہیں ہو گا کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اسمبلیوں کی مدت 45 دن سے بھی کم رہ گئی ہے مگر ابھی تک ہم اس یقین سے محروم ہیں کہ انتخابات ہوں گے بھی یا نہیں۔ مقررہ وقت میں ہوں گے یا نگران حکومتوں کا عرصہ طویل ہو جائے گا میں سمجھتا ہوں اس میں قصور ان سیاسی جماعتوں کا ہے جو کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ ہیں انہیں تمام اختلافات بھلا کراس نکتے پر متفق ہونا چاہیے کہ انتخابات کی حتمی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے۔ اس میں وفاقی حکومت کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے حیرانی اس بات پر ہے کہ صدر آصف علی زرداری جو پیپلز پارٹی کے چیئر پرسن بھی ہیں اس حوالے سے کوئی بولڈ قدم نہیں اٹھا رہے حالانکہ سب کی نظریں ان کی طرف لگی ہوئی ہیں وہ اگر اس بات کا کریڈٹ لیتے ہیں کہ ان کی وجہ سے جمہوری سیٹ اپ نے پانچ سال مکمل کئے ہیں تو انہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ انتقال اقتدار بھی بغیر کسی سانحے سے دو چار ہوئے ہو جائے۔ ان کی شخصیت اس خلیج کو پلٹ سکتی ہے جو اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان موجود ہے چونکہ نگران سیٹ اپ کے دوران بھی وہ صدر مملکت رہیں گے اس لئے اس وقت قومی سطح پر محاذ آرائی کی جو کیفیت ہے، اسے ختم کرنے میں انہیں عملی قدم اٹھانا چاہیے پچھلے دنوں یہ خبر آئی تھی کہ وہ میاں نواز شریف سے ان کے بھائی عباس شریف کی وفات پر تعزیت کرنے لاہور آ رہے ہیں تاہم وہ لاہور نہ آسکے اور یوں یہ ملاقات نہ ہو سکی صدر آصف علی زرداری اگر ذاتی طور پر تمام اہم سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو ایوان صدر آنے کی دعوت دیں اور ان کے سامنے جمہوریت کے تسلسل اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کا ایجنڈا رکھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اس معاملے میں قومی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکے کم از کم اس سے یہ ضرور ہو گا کہ قومی سطح پر چھائی بے یقینی کی فضا ختم ہو جائے گی۔
جب سے نیب کے چیئر مین فصیح بخاری نے صدر کو خط لکھا ہے، پہلے سے موجود شکوک و شبہات کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے اس خط کا اس موقعہ پر لکھا جانا اور سپریم کورٹ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنا کسی وقتی اشتعال یا سپریم کورٹ کی طرف سے دباﺅ کے پروپیگنڈے کا نتیجہ نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس خط کا نوٹس لیا اور چیئر مین نیب کو توہین عدالت کا نوٹس بھی جاریکر دیا ہے سپریم کورٹ کا یہ کہنا کہ فوج یا حکومت اس خط کو بنیاد بنا کر کوئی غیر آئینی قدم نہ اٹھائے۔ اس خطرے کی طرف اشارہ کر رہا ہے، جسے بڑھتی ہوئی بے یقینی کی فضا میں ہر کوئی محسوس کر رہا ہے اب ظاہر ہے ہر بات کو سپریم کورٹ کے سر پر ہی نہیں چھوڑا جا سکتا اصل فرض تو سیاسی قوتوں کا ہے کہ وہ حالات کو پوائنٹ آف نورٹرن کی طرف نہ جانے دیں ڈاکٹر طاہر القادری کے آنے سے جو ہلچل پیدا ہوئی تھی، اس کی گرد اگرچہ بیٹھ گئی ہے مگر ان کا یہ کہنا کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد کے لئے سپریم کورٹ جائیں گے اور 62-63 شقوں پر ہر صورت مکمل عمل کرائیں گے چاہے اس کے لئے انتخابات ملتوی ہی کیوں نہ کرنا پڑیں خطرے کی گھنٹی ہے اب انہوں نے انقلاب مارچوں کا اعلان بھی کر دیا ہے ان کے مطالبات کو شاید اتنی طاقت نہ ملتی اگر حکومت اور اس کے اتحادی ان کے ساتھ معاہدہ نہ کرتے اور دوسرا اپوزیشن الیکشن کمشن کے حوالے سے ان کے موقف کی اپنے عملی مطالبات سے تائید نہ کرتی۔ اس مسئلے کا حل صرف حکومت یا ڈاکٹر طاہر القادری کے مذاکرات سے نہیں نکل سکتا، تاوقتِکہ اپوزیشن کے دیگر اسٹیک ہولڈرز جن میں مسلم لیگ ن، جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف، جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور مسلم لیگ فنگشنل شامل ہیں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا اس حوالے سے واضح طور پر ایک ڈیڈ لاک موجود ہے اور یہی ڈیڈ لاک حالات میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار یہ فضا پیدا ہوئی ہے کہ انتخابات کا سیاسی جماعتوں سے زیادہ عوام انتظار کر رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں ماضی میں ایسے موقعوں پر عوام کسی ڈکٹیٹر کے آنے کی خواہش کرتے تھے لیکن اب انہیں اپنے ووٹ سے تبدیلی لانے پر یقین آچکا ہے وہ انتخابات کے منتظر ہیں مگر حیران کن حد تک سیاسی قوتوں کے درمیان اس نکتے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو پا رہا یہ کہہ دینا ہی کافی نہیں کہ ہم بروقت انتخابات چاہتے ہیں اصل بات یہ ہے کہ انتحابی سسٹم پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے اگر ہم آخری دم تک اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ مرغی پہلے آئے گی یا انڈہ، تو انتشار بڑھتا ہی جائے گا۔ میرے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ دو نکات پر فوری اتفاق رائے پیدا کرنے کے عملی اقدامات کئے جائیں اول نگران حکومتوں کے لئے نام اور دوم انتخابات کی تاریخ۔ جب بات ان دو نکات تک محدود کر دی جائے گی تو لاتعداد ایشوز اور موضوعات کا جو سیلاب آیا ہوا ہے، اس کے آگے بند باندھنے میں مدد ملے گی ہمیں اب معاملات کو سمیٹنے کی طرف بڑھنا چاہیے نہ کہ نئے نئے پنڈورا بکس کھولنے کا شغل کرتے رہیں بہت گھمبیر چیلنج اپنی جگہ موجود ہیں بدامنی اور دہشت گردی نے ہمارے شہروں کو بے امان کر دیا ہے۔ کئی جگہوں پر حکومت نام کی کوئی شے نظر نہیں آتی، مگر اس وقت اس کے سوا اور کوئی راستہ موجود نہیں کہ ہم جمہوریت ہی سے رجوع کریں۔ جمہوریت ہی عوام کے ووٹ سے ہمیں وہ طاقت دے سکتی ہے کہ جو منزل پر پہنچنے کے لئے ناگزیر ہو چکی ہے۔  ٭

مزید :

کالم -