زکر بانی انقلاب اےران ، نسخہ میاں دو لتا نہ کا

زکر بانی انقلاب اےران ، نسخہ میاں دو لتا نہ کا
زکر بانی انقلاب اےران ، نسخہ میاں دو لتا نہ کا

  

قم ایران کا مقدس شہر ہے، ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی امام خمینی کا تعلق اِسی شہر سے تھا۔ ایک نواحی محلے میں اُن کی رہائش تھی اور یہیں درس و تدریس کا سلسلہ بھی تھا۔ گزشتہ سال ایران میں ہونے والی ایک صحافتی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا تو مدعوین کو قم بھی لے جایا گیا۔ وہاں امام خمینی کے آبائی گھر کو دیکھنے کا بھی موقعہ ملا، جو اب ایک قومی ورثہ ہے اور اسے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس مکان کے دو حصے ہیں، ابتدائی رہائش ڈیڑھ مرلہ کے رقبے پر تعمیر مکان میں تھی۔ بعد ازاں نواح میں ایک اور گھر حاصل کیا گیا کہ اصل گھر میں درس و تدریس کا کام مشکل تھا، چنانچہ بتایا گیا کہ امام خمینی تمام تر وقت ایک قاعدے کے مطابق گزارتے، اُن کے جاگنے، درس و تدریس اور آرام کے اوقات متعین تھے۔ رہائش والے حصے میں اہل خانہ تھے اور آرام کے لئے تھا، دوسرے حصے میں ملاقاتیں اور درس و تدریس کا کام ہوتا۔

 حکومت ایران نے سرکاری طور پر انقلاب ایران کے بانی کے بارے میں کتابچے بھی شائع کئے ہیں، ان کے مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ اُن کی زندگی کیسی تھی۔ سادہ لباس، سادی غذا اور پیدل سفر بھی ان کی خصوصیات میں ہے، جبکہ اپنی رہائش سے کئی میل دُور درس دینے جاتے ہیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہاں تاخیر سے پہنچے ہوں، قم والی رہائش اور وعظ والے مکان سے تحریک کا سلسلہ شروع ہوا اور خاموشی سے چلتا بھی رہا، پھر جلاوطنی کا دور آیا تو روابط ایسے بن گئے تھے کہ وہ خود فرانس میں ہوتے ہوئے بھی ایران کے رابطوں کا تسلسل برقرار رکھے ہوئے تھے۔ یوں انقلاب کی تیاری ہوتی رہی اور ایک روز انقلاب آ ہی گیا، جب شہنشاہ کے تمام حربے، جبر اور ظلم نے ہتھیار ڈال دیئے اور امام خمینی ایک فاتح کی حیثیت سے آئے اور پھر موجودہ اسلامی ایران کی بنیاد رکھی، جو آج مضبوط تر ہے اور اس بنیاد میں انتخابات کا سیمنٹ لگا ہوا ہے جو مقررہ وقت پر مقررہ ضابطوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ قارئین کرام! ایران کے انقلاب اور بانی ¿ انقلاب کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا۔ تحریریں موجود ہیں، مشاہدے کے بعد اور بھی بہت کچھ تحریر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مختصر بات کے بعد یہ عرض کرنا ہے کہ ایسے انقلاب اور اس کے بانی کی صفات میں ذاتی صفات کا بہت دخل ہوتا ہے اور امام خمینی کے حالات زندگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں سادگی اختیار کئے ہوئے تھے۔ اب شاہانہ انداز کے قیمتی لباس کلاشنکوف بردار محافظوں کے جلو اور قیمتی سازو سامان سے سجے گھر میں رہنے اور صاحبزادوں کے نام رکھ لینے کے بعد کربلا کا نقشہ کھینچ کر خود کو مماثل قرار دے لینے سے تو انسان امام خمینی نہیں سن سکتا البتہ خواب ضرور دیکھا جا سکتا ہے۔طالب علمی کا دور تھا، ہائی سکول میں پہنچ گئے تھے ان دنوں پنجاب میں دولتانہ، ممدوٹ چپقلش اور سیاسی محاذ آرائی کا بہت شہرہ تھا۔ میاں ممتاز محمد خان دولتانہ بہت اہل اور قابل شخصیت تھے۔ ان کی تقریریں اور خطاب بھی منطقی اور دلائل سے پُر ہوتے تھے۔ ہمارے والد گرامی کا تعلق مسلم لیگ سے تھا اور گروہ بندی میں وہ میاں ممتاز دولتانہ کے کھاتے میں تھے، اس لئے ہم چند ہم جماعتوں کو ان کے توسط سے میاں ممتاز دولتانہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہو گیا۔ کوئین میری کالج کے بازو میں اُن کی وسیع رہائش گاہ تھی۔ یہیں ہم پانچ دوست پہنچے۔ انہوں نے نہایت شفقت سے ہم طالب علموں کا خیر مقدم کیا، لائبریری میں بٹھایا اور چائ، بسکٹ سے تواضع بھی کی، پھر ہم سے بات چیت کے دوران ہمارے معصوم سوالات کے جواب بھی خندہ پیشانی سے دیتے رہے، اسی نشست میں اُن سے پوچھا گیا کہ لیڈر کیسے بنتے ہیں اور مشہور کیسے ہو جاتے ہیں؟ میاں صاحب مسکرائے اور پھر تحمل سے بولے! بچو! یہ مشکل اور آسان بھی ہے، مشکل تو حقیقی لیڈر شپ ہے تاہم شہرت کا جہاں تک تعلق ہے تو یہ آسان ہے، انہوں نے کہا : کسی بھی غیر معروف شخص کو چن لیں، پھر اس کی مخالفت شروع کر دیں، مخالفت بڑھاتے چلے جائیں، اس طرح لوگوں میں تجسس پیدا ہو جائے گا اور وہ اس گمنام شخصیت کے بارے میں پوچھنا شروع کر دیں گے، پھر اچانک اس کو سامنے لائیں، مخالفت میں کمی شروع کر دیں اور متعلقہ شخصیت سے جواب دلانا شروع کر دیں، دیکھئے گا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ شخص لیڈر کی طرح مشہور ہو جائے گا۔ اگرچہ یہ حقیقی لیڈر تو نہیں ہو گا۔تو پیارے قارئین! ان دنوں ہر دو و اقعات آج کل بہت یاد آ رہے ہیں کہ مماثلت بہت پائی جا رہی ہے جہاں تک ہمارے ایران اور قم کے دورے اور مشاہدے کا تعلق ہے تو یہ اِس لئے یاد آیا اور تحریر کیا کہ بات چیت کے دوران ایک بار یہ بھی کہہ دیا گیا، ”مَیں بھی ایران جیسا انقلاب لانا چاہتا ہوں اور امام خمینی ہی کی طرح واپس آﺅں گا“ رہ گئی بات میاں ممتاز دولتانہ والی تو یہ بہت سے حضرات پر صادق آتی ہے۔ پیشہ صحافت کے دوران ہمارا یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ جس کی زیادہ مخالفت ہو اس کے بارے میں تجسس بھی اتنا ہی بڑھ جاتا ہے، لیکن یہاں یہ تجربہ بھی ہوا کہ بڑھتی ہوئی پبلسٹی اکثر اوقات اُلٹا کام کرتی ہے اور ”قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا“ کے مصداق جب کوئی مسلسل بولتا چلا جائے تو پھر میڈیا میں تجسس کم ہوتا چلا جاتا ہے، پرنٹ میڈیا کے مطابق فرنٹ پیج پر ہیڈ لائن لینے والا صفحہ آخر پر سنگل کالم چلا جاتا ہے، جو حضرات اس گُر سے واقف ہوتے ہیں وہ پبلسٹی بھی وقفوں سے لیتے ہیں، اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو کی مثال دے کر بات ختم کرتے ہیں۔ یہ بھی اس لئے کہ آج کل کئی معزز رہنما بھٹو بننے یا اُن سے بڑا شو کرنے کی بات کرتے ہیں تو جناب! ذوالفقار علی بھٹو نے جب ایوب حکومت چھوڑی تو بہت مشہور ہوئے اور پھر بڑے لیڈر بھی بنے، ان کا طریق یہ تھا کہ وہ کراچی سے چلتے، لاہور اور اسلام آباد آتے، تین چار تقریبات یا پریس کانفرنس کرتے اور پھر ہفتہ دس دن کے لئے خا موش وقت گزارتے، اس کے بعد پھر یہ سلسلہ شروع کرتے، چنانچہ وہ مسلسل صفحہ اول پر رہے۔ قارئین! آج بات یہیں ختم کرتے ہیں، مماثلت کے لئے معذرت خواہ! ٭

مزید : کالم