بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کی کامیابیوں کی نوید

بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کی کامیابیوں کی نوید
بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کی کامیابیوں کی نوید

  

1970ءکی دہائی میں امریکی دانشور برزنسکی نے سوویت یونین کے ٹوٹ جانے کی پیشگوئی کی تھی اور کہا تھا کہ عنقریب امریکہ دنیا کی اکلوتی سپر پاور بن جائے گا، جس کی حکمت عملی یہ ہونی چاہئے کہ: ”امریکہ یوریشیا کے خطے میں برتری قائم کرنے کے لئے پیش رفت کرے، کیونکہ یوریشیا دنیا کا سب سے بڑا براعظم ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی اہمیت کا بھی حامل ہے۔ جو طاقت یوریشیا میں برتری قائم کرے گی اسے افریقہ کو زیر کرنا ہرگز مشکل نہیں ہوگا۔ اس طرح کرہ ارض کی نصف سرزمین اور سمندروں پر مغرب کی برتری قائم ہو جائے گی جو سیاسی اعتبار سے دنیا کے وسیع حصے کو زیر نگیں لانے کے مترادف ہوگا۔یوریشیا پر برتری اور عالمی سطح پر امریکہ کی حاکمیت برقرار رکھنے کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ کتنے عرصے تک اس خطے میں موثرطریقے سے اپنی اہمیت برقرار رکھ سکے گا۔ اس حکمت عملی کو یقینی بنانے کے لئے برزنسکی نے یوریشیا کے خطے میں عسکری طاقت استعمال کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا تھا کہ روس کی طاقت کو محدود کرنے کے لئے ایک طرف یورپ کا ”مغربی محاذ“ اور ایشیا میں ”ایشیائی محاذ“ قائم کرنا ضروری ہے ۔ اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے مشرقی یورپی ممالک کو یورپی یونین میں ضم کر کے ”مغربی محاذ“ قائم کر دیا گیا۔اگرچہ نیٹو کی ضرورت باقی نہ رہی تھی، لیکن مغربی محاذ کی سالمیت قائم رکھنے اورایشیائی محاذ کے قیام کی خاطر نیٹو کو بھی برقرار رکھا گیا جو افغانستان کی جنگ میں برابر کا شریک رہا۔2001ء کے سانحہ نوگیارہ کے پس پردہ افغانستان پر حملے اور پھر قبضے کی راہ ہموار کی گئی، جس کے بعد 2003ءمیں عراق کو تاراج کیا گیا۔ نیٹو اور بھارت اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر ایشیائی محاذ کے پس پشت عالمی بالادستی کے عظیم کھیل میں شامل ہو گئے۔اس محاذ کو مستحکم کرنے کی خاطر عالمی امن کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی، لیکن یہ پالیسی عراق سے پسپائی کی صورت میں الٹی ہو چکی ہے۔ اس طرح افغانستان میں امریکہ بُری طرح پھنس چکا ہے اور وہاں سے پر امن انخلاءکا راستہ ڈھونڈھنے میں ناکام ہو کر اب طالبان سے مدد کا طلبگار ہے۔ ایشیائی محاذ بری طرح ناکام ہو چکا ہے، جبکہ امریکہ کی اقتصادی حالت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، کیونکہ اسے 16 ٹریلین ڈالر خسارے کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو صارفین کی14ٹریلین ڈالر کی دولت بربادہو چکی ہے۔ امریکہ میں بیروزگاری عروج پر ہے، جس سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا اظہار جرائم کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں سے ہوتا ہے۔ عالمی بالادستی کا نشہ ٹوٹ چکا ہے، جس سے امریکی استعمار کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ بقول کرک پاٹرک سول: ”شہنشاہ اور رعایا دونوں بے لباس ہو چکے ہیں“۔ایشیائی محاذ کی ناکامی کے بعد امریکہ نے اب اپنی تمام تر توجہ کا مرکزبحر الکاہل کے علاقے کو بنا لیاہے، جہاں نیا محاذ قائم کرنے کا ہنری کسنجرنے مشورہ دیا تھا کہ: ”عالمی بساط پر رونماہونے والی انقلابی تبدیلیاں ہمارے دور کا خاصہ ہیں۔ دنیا کی توجہ کا مرکز اب ایشیائی بحرالکاہل کی جانب تبدیل ہو رہا ہے، جہاں عالمی بساط کے تمام اہم مہرے اپنے لئے نئے کرداروں کا تعین کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف نظریات پر اثر انداز ہوگا، بلکہ اس سے عالمی طاقت کا تواز ن بھی تبدیل ہو گا “ ....اس تبدیلی کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے صدر اوباما نے اپنے حالیہDefense Strategic Guidance میں واضح کیا ہے کہ اب ” ایشیا اور بحراکاہل کے خطے میں تزویراتی مرکز(Strategic Pivot)قائم کرنا ضروری ہے، کیونکہ امریکی اقتصادیات اورسلامتی کے مفادات علاقہ بحرالکاہل ا ورمشرقی ایشیا سے لے کر بحر ہند کے سمندری خطے اور جنوبی ایشیا پر مشتمل حدود سے وابستہ ہیں جو چیلنجوں اور مواقع سے بھر پور خطے ہیں“۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا ہر گزمشکل نہیں ہے کہ امریکی افواج ان خطوں میںاب سمندری جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ امریکہ سمندروں میں اپنی بحری قوت کو مضبوط بنانے اور طویل المیعاد منصوبے کے تحت346بحری جہازوں کی تعداد یقینی بنارہا ہے جو بجٹ میں خسارے کی وجہ سے گھٹاکر250کی جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ دھائی میں پرانے بحری جہازوں کو بھی تبدیل کیا جائے گا تاکہ چین کے خلاف بااعتماد عسکری صلاحیت قائم ہو اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مضبوط سفارتی و اقتصادی روابط قائم کرنے میںکارآمد ہوں۔ ہیلری کلنٹن نے اس امریکی سفارتی حکمت عملی کو فتح سے موسوم کرتے ہوئے بحرالکاہل میںامریکی کامیابی کانام دیاہے اور” بحرالکاہل کے خطے میں امریکہ کی کامیابیوں کی نوید“ کہا ہے، کیونکہ دو اعصاب شکن، تھکا دینے والی اور مہنگی ترین زمینی جنگوں سے ہاتھ اٹھا لینے کے بعد یہ بہترین حکمت عملی ہے، جس کی تکمیل کے لئے صدر اوبامہ بھارت،جاپان، جنوبی کوریا اور آسٹریلیا جیسے ممالک پرمشتمل ایک اتحاد قائم کرنے میں مصروف ہیں تاکہ چین کی ابھرتی ہوئی طاقت کے خلاف بند باندھا جا سکے۔اوباما کے دفاعی تزویراتی منصوبے (Defense Strategic Guidance) میں دفاعی بجٹ میںتقریباً 15 فیصد کٹوتی کی نشاندہی کی گئی ہے اور فوجی طاقت کو بڑھانے میں دو رُخی حکمت عملی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پہلی تبدیلی یہ ہے کہ اب امریکہ، عراق و افغانستان کی طرح کسی ملک میں بلاواسطہ مداخلت نہیں کرے گا، بلکہ اتحادی ممالک ہی ضروری کارروائی کریں گے، جیسا کہ صومالیہ، لیبیا، بحرین اور شام میں کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اسرائیل اور بھارت جیسی طفیلی ریاستیں امریکی طاقت اور مفادات کو آگے بڑھانے میں مدد دیں گی۔ دوسری حکمت عملی کے تحت دنیا بھر میں متعدد لڑاکا گروپ (Combat Groups) تشکیل دیئے جائیں گے، جو مئی2011ءمیں ایبٹ آباد میں کئے جانے والے سرجیکل آپریشن کی طرح کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں گے ۔ مطلوبہ اہداف اور انٹیلی جنس معلومات کے حصول کے لئے ڈرونز کا استعمال بھی جاری رہے گا۔امریکہ کایوریشیا سے تزویراتی مرکز (Strategic Pivot)کا رُخ ایشیائی بحرالکاہل کی جانب موڑنا پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لئے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ افغانستان کواس تبدیلی سے زیادہ فائدہ ہو گا، کیونکہ وہاں سے بیرونی جارحیت کا خاتمہ ہو جائے گا جو کہ ”تمام برائیوں کی جڑ“ ہے۔ اب امریکہ کو افغانستان سے پُرامن انخلا ءکے لئے طالبان سے مدد مانگنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں جو اوباما کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ تجزیہ نگار بھدرا کمار کے مطابق: ”افغان عوام کو کم از کم عرب انقلاب جیسی مراعات دینا پڑیں گی، جس سے اسلام اورجمہوریت میں ہم آہنگی پیدا ہو سکے۔ اہم بات یہ ہے کہ کیاامریکہ تاریخ کے رخ کے مطابق عمل کرے گا۔ ہر سمت اسلامی رحجان فتح سے ہمکنار ہو رہا ہے، کیونکہ یہ واحد نظریہ ¿ حیات ہے جو دلوں کی تسکین کے لئے وسیع تر اور گہرے اثرات کا ذریعہ ہے“۔.... دُنیا کو اب افغانستان میںطالبان کی حکمرانی تسلیم کرنا پڑے گی، کیونکہ وہ ایک وسیع البنیاد حکومت ہو گی، جو امن اور استحکام کی ضامن ہوگی۔ ایران1979ءسے لے کر اب تک امریکی سازشوں سے نبرد آزما ہے اور تزویراتی مدافعت (Strategic Defiance) کی علامت بنا رہا ہے، جس سے ایرانی قوم میں نئی جنگی صلاحیتیں اور نیا عزم و استقلال پیدا ہوا ہے۔ حال ہی میں ایران پرتیل کی ترسیلات کو محدود کرنے کی جوپابندیاں عائد کی گئی ہیں وہ الٹی ہو کریورپی درآمد کنندگان کے چہروں پر جا پڑی ہیں۔چین، بھارت اور پاکستان کو ایران کے ساتھ تیل کی تجارت سے فائدہ ہو گا، جبکہ سعودی عرب اور روس یورپی خریداروں کو 130 تا 150 ڈالر فی بیرل کے حساب سے تیل فروخت کریں گے، جس سے یورپ کی لڑکھڑاتی معیشت پر دباﺅ پڑے گا۔ایران ایک طاقت بن چکا ہے، جس کے خلاف امریکہ اور اسرائیل میں اب جنگ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے جو ”میسو پوٹیما، اناتولیا،کاکیشیا، بحیرہ کیسپین، وسطی و جنوبی ایشیا‘ خلیج فارس اور بحیرہ¿ عرب کے درمیان واقع ہے جو اہم تجارتی راستہ ہے اور ایران کے بغیر خطے میں تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہوں گی۔ایران میں صلاحیت ہے کہ وہ افغانستان کے تزویراتی مستقبل کو نئی جہت دے سکتا ہے،اس لئے ایران کو شامل کئے بغیر جنوبی اور وسطی ایشیا میں کسی طرح کے اقتصادی ڈھانچے کی تکمیل ممکن نہیں“.... ایران کی مدافعتی قوت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کسی قسم کی پابندیوں کا اس کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔پاکستان نے1979ءسے جاری بیرونی مداخلت اورافغانستان پر قبضے کے سبب بڑے مصائب برداشت کئے ہیں، لیکن اب جارح قوتوں کے انخلاءسے یہ برے اثرات و مصائب بتدریج کم ہوتے جائیں گے۔ جغرافیائی، تزویراتی اورسیاسی اعتبار سے پاکستان کی اہمیت اگر ایران سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے، کیونکہ جنوبی اور وسطی ایشیا، مشرقی و مغربی ایشیا کے مابین تجارتی سرگرمیوں کے لئے پاکستان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔بلاشبہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے خطے کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان اس وقت، امریکی دباﺅ میں ہے جو افغانستان سے نکلنے کے بعد یہاں قدم جمانا چاہتا ہے۔ ضرورت ا س امر کی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے امریکی غلامی کا طوق گلے سے اُتار پھینکے جو اس کی قومی سلامتی کے مفادات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔امریکہ کایوریشیا سے ایشیائی بحرالکاہل کی جانب تزویراتی مرکز(Strategic Pivot) کے جھکاﺅسے خطے میں ابھرنے والی تین بڑی طاقتوں کاکردار بڑا اہم ہے۔ پہلی طاقت چین، روس، پاکستان اور ایران ہے.... دوسری طاقت ایران،پاکستان اور افغانستان پر مشتمل تکون ہے جو مسلم دُنیا کی اُبھرتی ہوئی طاقت ہے جو خطے کی سلامتی کے لئے تزویراتی گہرائی Stratetic Depth مہیا کرے گا۔ تیسری طاقت بھارت، جاپان، کوریا اور آسٹریلیاہے جو ایشیائی بحرلکاہل کے علاقے میں امریکہ کے تعاون سے طاقت کے توازن کو قائم کرنے میں اہم ہیں۔ اس الجھے ہوئے سیاسی کھیل میں پاکستان کے لئے اپنا صحیح مقام حاصل کرنا ایک اہم تزویراتی و سفارتی ضرورت ہے۔ امریکہ کا کردار بھی اہم ہے، کیونکہ بحیثیت ایک بڑی طاقت وہ اپنے مفادات کو خطے میں موجود ان تین طاقتوں کے ساتھ تعاون سے مشروط رکھ کرپورے ایشیا میں تعمیرو ترقی کا نیا دور شروع کر سکتا ہے۔

یوریشیا سے بحرالکاہل کی جانب سیاسی و تزویراتی مرکز کی تبدیلی کا دور پاکستان کے لئے خاصی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ وہ اُبھرتی ہوئی طاقتوں کے مابین طاقت کا توازن قائم کرنے میں سرگرم کردار ادا کر سکتا ہے اور چین کے سنہری اصولوں مثلاً ”امن“ تعاون اور رابطے (Peace, Cooperation and Engagement)سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علاقائی تعاون پر مشتمل تعلقات کو فروغ دے سکتا ہے۔ ٭

مزید : کالم