افغان مہاجرین کی وطن واپسی؟

افغان مہاجرین کی وطن واپسی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

صدر مملکت آصف علی زرداری نے لندن میں ہونے والی سہ فریقی کانفرنس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بہت زیادہ اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق اب افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے لئے حتمی روڈ میپ بننا چاہئے۔ مہاجرین اپنے وطن جائیں گے تو جرائم بھی کم ہوں گے اور سرحد کے دونوں طرف حالات بھی بہتر ہوں گے۔صدر آصف علی زرداری نے بالکل درست کہا اس وقت مجموعی طور پر پاکستان قریباً پچیس لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے جو دودہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہاں مقیم ہیں اور واپس جانے کو تیار نہیں۔ اقوام متحدہ کے پروگرام کے تحت ایک سے زیادہ بار کئی کنبے امداد لے کر واپس گئے اور پھر لوٹ آئے۔ یہ مہاجر اس وقت آئے جب سوویت یونین کی افواج افغانستان میں آ گئی تھیں۔ پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنا پر ان کو پناہ دی۔ ان کے لئے مہاجر کیمپ بنائے گئے۔ پھر روس تو چلا گیا لیکن یہ مہاجر نہ گئے حالانکہ افغانستان میں آپس کی محاذ آرائی کے بعد طالبان کی حکومت بھی بن گئی تھی۔ اس کے بعد امریکہ نے مداخلت کر دی ا ور جو خاندان گئے وہ بھی واپس آ گئے اور تعداد بھی بڑھ گئی۔ افغان ہمارے اسلامی بھائی ہیں اور پاکستان نے ان کا بوجھ بھی انسانی ہمدردی کے تحت اسلامی بھائی ہونے کی وجہ سے اٹھایا لیکن ہوا یہ کہ جو افغان کھاتے پیتے تھے وہ کیمپوں سے نکل کر شہروں میں پھیل گئے، پھر انہوں نے پاکستان کے شناختی کاغذات بنوائے۔ یہاں جائیدادیں خریدیں اور کاروبار شروع کر دیئے۔ اس کے علاوہ بہت سے افغان پاکستانی دستاویزات پر شہری کی حیثیت سے بیرونی ممالک بھی گئے ابھی حال ہی میں ایک خاندان کو جہاز سے آف لوڈ کیا گیا تھا ۔یہ بات اب بلا جھجک کہہ دینا چاہئے کہ افغان محدود نہیں رہے۔ پشاور سے کراچی تک پھیل چکے ہیں، ان کی وجہ سے کئی مسائل بھی پیدا ہوئے یہ حضرات سمگلنگ سے لے کر اسلحہ کی فروخت، منشیات کے پھیلاﺅ اور سود کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں، بہت کم ایسے خاندان ہیں جنہوں نے کوئی جائز کاروبار کیا ہے۔ اس کے علاوہ اب جب پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے تو سرحد کے قریب مہاجر کیمپ ہونے کی وجہ سے دہشتگردوں کی آمد و رفت بھی خارج از امکان نہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت ہویا ان سے پہلے والے انہوں نے مناسب اقدامات نہیں کئے جن حضرات نے رضاکارانہ طور پر خود کو رجسٹر کرا لیا تاکہ امداد حاصل کر سکیں ان کا حساب تو شاید موجود ہے لیکن جو ملک بھر میں پھیل گئے ان کو روکنے یا ان کے بارے میں مکمل معلومات رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا چنانچہ اب یہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے صدر مملکت نے درست توجہ دلائی ہے۔ اس پر عمل بھی تو ہونا چاہئے ویسے پاکستان کی وزارت داخلہ کو یہ کوائف تو مکمل کر لینا چاہئیں کہ کتنے مہاجر پاکستان میں ہیںا ور وہ کہاں کہاں ہیں؟ بات صحیح ہے اس کے لئے باقاعدہ کوشش کی ضرورت ہے۔ ٭

مزید :

اداریہ -