پنجاب اور خیبر پی کے میں بارش سے تباہی

پنجاب اور خیبر پی کے میں بارش سے تباہی

پنجاب ، خیبر پی کے اور ملک کے دوسرے حصوں میں بارشوں، ژالہ باری اور برفباری سے اٹھائیس سے زیادہ افراد ہلاک او ر سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ شدید برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے پہاڑی علاقوں میں آمد و رفت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، ہوائی جہازوں کی پروازوں اور ریل گاڑیوں کے شیڈول شدید متاثر ہوئے۔ زیادہ تر جانی نقصان گھروں کی چھتیں اڑنے ، دیواریں گرنے، برفانی تودے گرنے، لوگوں کے نالوں میں بہہ جانے اور آسمانی بجلی گرنے سے ہواہے ۔ بارشوں اور برفباری کا سلسلہ تین روز تک جاری رہنے کے بعد ختم ہو ا ، لیکن چند روز بعد ایک بار پھر بارشوں کے کئی روز تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بارشیں اور برفباری اپنے نقصان کے ساتھ ساتھ ہمارے لئے رحمت کا باعث بھی ہیں۔ لوگ مناسب احتیاط اور ضروری انتظامات کے بعد ان کے نقصان سے محفوظ رہ سکتے ہیں ، لیکن جس طرح بڑے پیمانے پر ہمیں بار ش سے فوائد حاصل ہوتے ہیں اس بنا پر بارش کو باران رحمت کہا جاتا ہے۔ اس موسم کی بارش گندم کی فصل کے لئے بے حد مفید ہے،خصوصاً بارانی علاقوں میں تو اس بارش کو”سونے کے قطرے“ سے تشبیہہ دی جاتی ہے، جس سے پورے ملک کی گندم میں لاکھوں ٹن اضافے کی توقع ہے۔ ہمارے دریاﺅں اور ڈیمز میں پانی کی شدید کمی کی وجہ سے گندم کی فصل کے لئے درکار پانی دستیاب نہیں تھا۔ یہ کمی بارش نے پوری کردی ہے۔ خشک موسم اور فضا میں آلودگی بڑھ جانے سے طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی تھیں ، فضا دھل جانے سے ان بیماریوں میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ پہاڑوں پر گرنے والی برف سارا سال ہمارے دریاﺅں میں پانی فراہم کرنے کا باعث ہے۔ اس سال ہمارے پہاڑوں میں اس قدر برف باری ہوئی ہے کہ جتنی گذشتہ تیس برس کے دوران اورکسی سال میں نہیں ہوئی ۔ اس کا مطلب آئندہ سال بھر کے لئے دریاﺅں میں پانی کی پہلے سے زیادہ فراہمی ہے۔ ڈیم پانی سے زیادہ بھریں گے،، جس سے سستی ہائیڈل پاور کی پیداوار میں رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی ۔ فصلوں کے لئے نہروں میں کافی پانی بھی فراہم ہوسکے گا۔ پہاڑوں پرموجود برف کے ذخائر میں اضافہ ہو جانے سے ماہرین کی طرف سے پیش کئے گئے گلوبل وارمنگ یا کرہ ارض کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کے تصو ر کی کمزوری بھی واضح ہو رہی ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں کرہ ارض کے مجموعی درجہ حرارت میں اضافے کے بجائے معمولی سی کمی کا رجحان ہی ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اس طرح اس تصور سے وابستہ یہ خیال بھی اتنا مضبوط نہیں رہ جاتا کہ گلوبل وارمنگ سے دنیا میں قطب شمالی اور قطب جنوبی کے علاوہ مختلف پہاڑوں پر موجود برف تیزی سے پگھلنے کے بعد دنیا میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی ۔ آئندہ مختلف ملکوں میں جنگیں پانی کے تنازعات کی وجہ سے ہوں گی۔قطبین کی برف پگھلنے سے سمندروں کی سطح بلند ہوجائے گی۔ دنیا کے بہت سے ساحلی شہر سمندر میں زیر آب آ جائیں گے۔ اس طرح کے امکانات کو یکسر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن قدرت کی طرف سے برف کے ذخائر میں اضافے اور وسیع پیمانے پر بارشوں کے ذریعے ہر جگہ پانی کی کافی مقدار میں فراہمی سے یہ ضرور واضح ہو جاتا ہے کہ قدرت کی اس فیاضی سے جانی نقصان اور آمد و رفت میں مشکلات تو ضرور پیدا ہو جاتی ہیں لیکن قدرت کرہ ارض پر ابھی انسانی زندگی کی بقاءچاہتی ہے اور اس کے لئے بنیادی اور ضروری سامان فراہم کررہی ہے۔ بارشوں اور برف باری سے ملک بھر میں ہونے والے جانی نقصان اورآمد و رفت میں رکاوٹ پیش آنا ہماری کمزوریوں، ناقص منصوبہ بندی ، غریب عوام کی بے بسی اور طاقتور حاکموںکی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے سے انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے والوں نے روٹی کمانا اور کھانا غریب آدمی کے بس سے باہر کردیا ہے، مسلسل لوڈ شیڈنگ کے ذریعے عام آدمی کا تن ڈھانپنے اور اربوں کا زرمبادلہ کمانے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری بند ہونے پر مجبور ہو گئی ہے۔ مکان دینے کے سلسلے میں حکومتوں کی کارکردگی یہ ہے کہ زلزلے اور سیلاب کے دوران غریب عوام کے گھر تعمیر کرنے کے لئے دنیا جہان سے جمع کی گئی اربوں کی امداد کے باوجود اب تک متاثرین کو بحال نہیں کیا جا سکا۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ ملک میں حکومتی پالیسیاں سرمایہ داروںکے مختلف گروہوں سے بھاری رشوت وصول کرکے ان کے مفاد میں بنا دی جاتی ہیں یا غاصب طبقوں کے عیاشی اور لوٹ مار جاری رکھنے کے لئے۔ اگر حکومتیں صحیح معنوں میں غریب نواز ہوں تو پھرحکومتوں کی طرف سے غریبوں کے لئے تعمیر کئے گئے دکھاوے کے گھر حکومتی جماعتوں کے کارکنوں میں تقسیم کرنے (اور وہ بھی اکثر صورتوں میں ان سے رشوتیں لے کر)تک ہی معاملے کو نہ رکھا جائے ، پورے ملک کے بے گھر لوگوں کا جامع سروے کرنے کے بعد ضروری شہری سہولتوں کے ساتھ کم خرچ جدید بستیوں کی منصوبہ بندی کی جائے اور کم وسائل لوگوں کو اپنے گھر تعمیر کرنے کے لئے کم قیمت پر بلڈنگ میٹریل اور آسان شرائط پر قرضے دئیے جائیں۔ کم وسائل والو ں کو اپنے مکا ن زلزلوں اور سیلابوں سے محفوظ بنانے کے لئے مفت تکنیکی مشاورت ، قرضے اور کم قیمت بلڈنگ میٹریل مہیا کیا جانا چاہیئے۔ پنجاب سندھ اور خیبر پی کے میں آنے والے گذشتہ بڑے سیلابوں کے بعد حکومتوں نے اندرون اور بیرون ملک سے اگر لاکھوں مکانات کی تعمیر کے پیسے جمع کئے تو صرف سینکڑوں دکھاوے کے مکان تعمیر کرنے پر ہی اکتفاءکیا ۔ اس کے برعکس تارکین وطن پاکستانیوں کی بہت سی تنظیموں نے یورپ اور امریکہ سے آکر بے گھر لوگوں کے لئے ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے مکانات تعمیر کرکے انہیں اعتماد کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد دی۔ پہاڑی علاقوں میں اربوں روپے کی بھاری مشینری لینڈ سلائیڈنگ اور برف باری کے مواقع پر سڑکیں صاف کرنے کے لئے موجود ہے اس کام پر اربوں روپے سالانہ کے مصارف کا بوجھ قومی خزانے پر ڈالا جاتا ہے۔ لیکن ایسے مواقع پر متعلقہ محکموں کی کارکردگی مغربی ممالک کے ذمہ دار محکموں کے مقابلے میں بے حد ناقص اور کام بہت سست ہے۔ اس بار اگر پہاڑوں پر برف زیادہ پڑی ہے تو موسم گرما میں دریاﺅں میں زیادہ پانی آنے اور سیلاب کے امکانات بھی واضح ہیں۔ اس سب کچھ کے لئے پشتوں کی تعمیر اور موجودہ پشتوں کی مضبوطی اور مرمت کے کام ابھی سے مکمل کئے جانے چاہئیں۔ معمول کی بارشوں ہی سے شہریوں کی قیمتی جانوں کا اس قدر نقصان ہو گیا ہے ۔ بڑے سیلابوں کے آجانے کے بعد قوم کیسی صورتحال سے دو چار ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ کرنا کسی کے لئے مشکل نہیں۔ سیلابوں سے قیمتی جانی نقصان کے علاوہ پراپرٹی ،فصلوں اور غذائی اجناس کا بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہو جاتا ہے، جس کے سامنے کم وسائل والے لوگ نہ صرف بے بس ہوجاتے ہیں۔ ڈزاسٹر مینجمنٹ کے سلسلے میں عام آدمی کی ذمہ داریوںاور پیشگی حفاظتی انتظامات کی تربیت کا پہلو اس سلسلے میں بے حد اہم ہے۔ اس پر جتنی جلد اور جتنے بھی بڑے پیمانے پر توجہ دی جاسکے اتنا ہی قوم کا بھلا ہو گا اس طرح ، ہم رحمت خداوندی کو اپنے عوام کے لئے زحمت بننے سے محفوظ رہ سکیں گے۔

مزید : اداریہ