روشن سحر کی امید.... اجالا پروگرام

روشن سحر کی امید.... اجالا پروگرام

  



ناامیدی کی آندھیاں، مایوسیوں کے طوفان، ذہنی انتشار اور معاشرتی بے چینی صرف اس دور کا خاصہ نہیں بلکہ ہماری تو دو نسلیں صبح نو اور روشن سحر کے انتظار میں بوڑھی ہوچکی ہیں- ہم دراصل مایوسیوں میں جینے کے عادی ہوچکے ہیں- وہ قومیں جو پریشانیوں، المیوں اور دکھوں کے بیچوں بیچ خوشی کے پہلو کشید لیتی ہیں ہمیں ان کے لیول تک پہنچنے کیلئے ابھی بڑی مدت درکار ہے- بقول علامہ اقبالؒ ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی“- اس حقیقت میں کوئی دورائے نہیں کہ ہماری مٹی بڑی زرخیز ہے- دلیل بھی بجا ہے کہ جب بھی اس کے کسی حصے کو ذرا سی بھی نمی میسر آئی تو اس نے اپنے سینے سے وہ جواہر اُگلے کہ پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا- بلاشبہ زرخیز مٹی اور ذرا سی نمی کے امتزاج کا نتیجہ بہت حیران کن اور امید افزاءہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے ملک کی اس زرخیز مٹی کو نمی کون فراہم کرے گا- آخر کون اس دھرتی کے معماروں کو آنے والے کل کو خوشحال بنانے کیلئے ان کے تعلیم جیسے بنیادی حق کو نگہبانی کرے گا- آخر وہ کون ہو گا جو ہمارے بچوں کو کسی وڈیرے کی چاکری اور اپنی جان سے سخت مزدوری کے کاموں سے نکال کر کسی دانش گاہ میں بٹھائے گا- یہ تو طے ہے کہ اقبالؒ کے دیس میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن ذرا سی نمی کی ضرورت ہے- یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری قوم پر لیڈر تو بہت مسلط ہوئے لیکن کوئی ایسا خیر خواہ نہیںنصیب ہوا جو اس قوم کے دکھوں کو مداوا کر سکتا- ہمیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ہر وقت نئے نئے المیوں سے آشنا کرایا گیا - مسائل کا ایک ایسا جکڑ بند لگا دیا گیا کہ ہماری ساری توجہ صرف مسائل کے بوجھ تلے کراہنے پر لگ گئی اور نتیجہ یہ نکلا کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ترقی و خوشحالی کی ترجیحات بھی متعین نہیں کر سکے- ان ہی مسائل میں سب سے بڑامسئلہ جس نے پوری قوم کو بے بس و لاچار کر کے رکھ دیا ہے لوڈ شیڈنگ ہے- لوڈ شیڈنگ کا عفریت قابومیں ہی نہیں آرہابلکہ ایک مسلسل عذاب کی طرح پچھلے کئی سالوں سے ہم پر نازل ہے- حکمران لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں، نہ کوئی منصوبہ بندی نہ کوئی عملی قدم- قوم کو جھوٹے وعدوں اور تسلیوں سے ٹرخایا جارہا ہے- پوری قوم سے ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولنے والے راجے اب مہاراجے بن گئے ہیں لیکن قوم کی بے بسی ابھی ختم نہیں ہوئی- مجھے ایک فلسفی کا قول یا آرہا ہے کہ جھوٹ اتنی فراوانی اور ڈھٹائی سے بولو کہ سچ کا گمان ہونے لگے- ہمارے ساتھ بھی یہی واردات ہورہی ہے- قوم سلگ رہی ہے اور حکمران چین کی بانسری بجارہے ہیں- کیا عوام کو گیس اور پٹرول کے ٹیکے لگانے والے نااہل حکمرانوں نے جن کے بچے یورپ اور امریکہ کی درسگاہوں میں پڑھتے ہیں ، کبھی بجلی بحران سے نمٹنے اور اپنی عیاشیاں کم کرنے کے بارے میں سوچا ہے- پوری قوم کو بجلی کے جھٹکے لگ رہے ہیں- کسی کو معلوم نہیں کہ یہ محترمہ کب چلی جائے اور کب آئے گی ہاں البتہ معلوم ہے کہ جب جاتی ہے تو اپنی مرضی سے آتی ہے -آنے کا کوئی شیڈول نہیں دل نہ کرے تو کئی کئی گھنٹے نہ آئے - لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پوری قوم متاثرہے- کارخانے بند فیکٹریوں میں تالے انڈسٹری کا بُرا حال پوری معیشت آئی سی یو میں پڑی ہے- چھوٹے چھوٹے کاروباری لوگوں سے لے کر بڑے بڑے صنعتکارسب متاثر اور پریشان ہیں- جہاں صنعت کا پہیہ جام ہو جائے وہاں ترقی کے کیا امکانات رہ جائیں گے- نہ کھیتوں کو پانی ملے گا نہ سستی کھاد دستیاب ہوگی نہ مزدور کو روزگار میسر آئے گا ملک کیا خاک ترقی کرے گا- لوڈشیڈنگ نے تو ہمارے آئیندہ کل کو دھندلا کرکے رکھ دیا ہے- طالب علموں کو روشی نصیب نہیں ہوگی تو خود اندازہ کیجیئے قوم کا مستقبل کیا ہوگا- بجلی کے اس بحران نے ہمارے طالب علموں کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے- امتحانات سر پر ہونے ہیں لیکن طالب علموں کو پڑھنے کیلئے روشنی نصیب نہیں ہوتی- طالب علم اپنی کتابیں درست کرتے ہیں اور پڑھنے کا ماحول بناتے ہیں تو بجلی خاک ہوجاتی ہے اور پھر غائب بھی ایسی کہ پتہ نہیں کب آئے گی- ظلمت کے ان اندھیروںمیں بہر صورت امید کی ایک کرن نظر آئی ہے- خادم اعلیٰ کا اُجالا پروگرام یقینا طالب علموں کو اندھیروں میں اُجالا فراہم کرنے کا پروگرام ہے- اس پروگرام کی بدولت پنجاب کے تمام اضلاع سے بلا تفریق میرٹ پر آنے والے طلبا و طالبات کو مفت سولر ہوم سسٹم فراہم کئے جارہے ہیں- پنجاب حکومت دو لاکھ سے زائد طلبا و طالبات کو تقریباً اڑھائی ارب روپے کی خطیر رقم سے سولر ہوم سسٹم کی سہولت دے رہی ہیں- اسی سہولت سے طالب علم لوڈ شیڈنگ کے درد ناک عذاب کے باوجود اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے- اس منصوبے کے تحت ایسے طالب علم جو ذہین توہیں لیکن اپنی معاشی تنگدستی کی وجہ سے اس سہولت کو بازار سے خرید نہیں سکتے انہیں سو فیصد حکومتی سبسڈی پر سولر ہو م سسٹم بالکل مفت مہیا کئے جائیں گے- اس سولر ہوم سسٹم کو پنجاب حکومت کی جانب سے دوسال کی وارنٹی بھی دی گئی- چین کی کمپنی نے پنجاب حکومت کو 10ہزار سولر لیمپس بطور تحفہ دیے ہیں جس سے قومی خزانہ کو 12کروڑ روپے کی بچت ہو ئی ہے- یہ سولر ہوم سسٹم سولر پینل، بیٹری، بیٹری چارجر، چارج کنٹرولر، وائزر ایل ای ڈی لائٹس، جنکشن باکس، لاگ بک اور ٹیکنیکل مینول پر مشتمل ہے- سولر پینل دن میں سورج کی روشنی سے چارج ہوگا- یہ بجلی کو سٹورکرنے کی اہلیت رکھتا ہے جس سے اٹھارہ گھنٹے مسلسل روشنی حاصل کی جاسکے گی- سولر پینل انتہائی یوزر فرینڈلی پلگ اینڈ پلے سسٹم ہے جسے ہر شخص باآسانی استعمال کرسکتا ہے- نہم میں 60فیصد یا زائد نمبر حاصل کرنے والے ، جماعت دہم کے سرکاری سکولوں کے طلباو طالبات، فرسٹ ائیر میں 60فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے اور سرکاری کالجوں کے سیکنڈ ائیر کے طلبا و طالبات میرٹ اور استحاق کی بنیاد پر دانش سکول ، دینی مدارس، ٹیوٹا، ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے اداروں ، PEEFسکالرز اور خصوصی تعلیم کے سکولوں میں زیر تعلیم طلبا و طالبات سولر ہوم سسٹم حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں- اس سسٹم کی بدولت نہ صرف تعلیمی اداروں میں ریسرچ کے ماحول میں بہتری پیدا ہوگی بلکہ محروم معیشت طبقہ کے کام کرنے کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کے ساتھ متبادل توانائی پیدا کرنے کے ذرائع کو بھی فروغ ملے گا- شمسی توانائی سے انرجی پیدا کرنے کا یہ طریقہ نہ صرف پنجا ب بلکہ پورے پاکستان کیلئے مفید ہے کیونکہ پاکستان سنی بلٹ پر واقع ہے اور پنجاب میں سولر ریڈی ایشن کا فی ساز گار ہے جو سولر پاور جنریشن کیلئے انتہائی موزوں ہے - اس منصوبے کے آغاز سے بہت ساری بین الاقوامی کمپنیاں پاکستان میں انرجی سیکرٹر میں پاکستان کا رُخ کریں گی تاکہ سولر انرجی سے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم پلاننگ کے تحت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے- اس منصوبے سے بلاشبہ ملک میں انرجی سیکٹر میں ایک اہم پیش رفت ہوگی- اس کی بدولت نہ صرف متبادل بجلی پیدا کرنے کے طریقوں کو فروغ حاصل ہوگا بلکہ ایک ماحول دوست اور سستی پاور جنریشن کا راستہ بھی ہموار ہوگا- وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی سوچ و فکر کی دوراندیشی لائق تقلید اور قابل ستائش ہے جو دوسرے سیاسی شعبدہ بازوں کی طرح محض کھوکھلے نعرے اور جُھوٹے دلاسوں سے عوام کو بےوقوف نہیں بنارہے بلکہ مصمم ارادوں اور پختہ عزم کے ساتھ اس قوم کے آنے والے کل کو روشن کرنے کیلئے عملی طور پر مصروف ہیں- ننگوں کے معاشرے میں کپڑے پہننے والا عجیب لگتا ہے بالکل اسی طرح سیاسی ابتری کے اس پُرآشوب دور میں شہباز شریف بھی عجیب حرکتیں کررہا ہے- سیاسی مخالفین کی نظر میں قوم کا مستقبل خوشحالی اور ترقی یافتہ بنانے کیلئے شہباز شریف کے نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنا، دانش سکول بنانا، ذہین طلباو طالبات کو غیر ملکی یونیورسٹیوں کے دورے پر بھیجنا، طالب علموں میں سولر انرجی لیمپس کی مفت فراہمی ، نوجوانوں کیلئے انٹرن شپ پروگرام کے تحت روزگار کی فراہمی، ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کا قیام- نوجوانوں کو ییلو کیب کی فراہمی، گرین ٹریکٹر سکیم، سپورٹس فیسٹیول، یوتھ فیسٹیول یقینا بہت بڑے قومی جرم ہیںشہباز شریف کا تو پورا دور حکومت ان ہی جرائم سے لتھڑا پڑا ہے - شہباز شریف ڈٹے رہو قوم کو آپ جیسے ہی مجرم بلکہ پورے گینگ کی ضرورت ہے اور آپ ان جرائم کو بار بار دہراتے رہنا- اللہ پاک آپ کے ارادوں میں برکت اور کاوشوں میں ہمت عطا فرمائے- ٭

مزید : کالم